Yasmin Sahar

Yasmin Sahar

Share

I'm Yoga instructor, palmiest and astrologist. You can ask me related questions about yoga and your Stars.

29/08/2026

35 سال پہلے کا واقع ہے جو میں آج شئیر کر رہی ہوں
میرے آفس میں ایک پریشان خاتون آئی، جس کی عمر تقریباً پچاس، پچپن برس کے قریب ہوگی۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، میں چالیس برس سے پامسٹری سے وابستہ ہوں۔ میں لوگوں کے ہاتھ دیکھتی ہوں، زائچے بناتی ہوں، ان کی زندگیوں کے دکھ سنتی ہوں۔ میرے سینے میں ہزاروں راز دفن ہیں، میرے پاس ہزاروں کہانیاں ہیں، ایسی کہ دل دہل جائے۔ اس وقت ایسے کیس کم دیکھنے اور سننے کو ملتے تھے
مگر آج جو کہانی اس عورت نے مجھے سنائی، وہ میرے دل پر بوجھ بن کر بیٹھ گئی
وہ بہت پریشان تھی۔ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا
آپ بتائیں، کیا مسئلہ ہے؟
وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی
میری بیٹی ہے… میرا شوہر اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا میں ذہنی مریض بن چکی ہوں
یہ سن کر میرا حلق خشک ہو گیا۔ میں نے بے اختیار اس سے پوچھا:
آپ خاموش کیوں رہتی ہیں؟
وہ بولی:
خاندان کی بدنامی ہو جائے گی۔ میری اور بھی بیٹیاں ہیں، کل ان کی شادیاں کیسے ہوں گی؟
میں نے کہا
آپ ایک بیٹی کو قربان کرکے باقی بیٹیوں کی عزت نہیں بچا رہیں، آپ ایک معصوم کی پوری زندگی قربان کر رہی ہیں
وہ رونے لگی اور کہنے لگی
میری بیٹی بہت روتی ہے، بہت ڈرتی ہے۔
میں سوچتی رہ گئی
آخر اس بچی کا قصور کیا ہے؟
میری زندگی کا یہ پہلا کیس تھا باپ بیٹی میرا دل ڈوب رہا تھا میں حیران تھی کہ میرے اردگرد یہ رہتے ہیں میں نے ہمت کی پوچھا آپ کے شوہر کیا کام کرتے ہیں
اس عورت نے بتایا کہ اس کا شوہر محلے میں کریانے کی دکان چلاتا ہے اور لوگ اسے مولوی صاحب کہتے ہیں۔
یہ سن کر میں اندر تک کانپ گئی۔
کہ خواتین و مرد اور بچے اس کی شاپ پر آتے تھے کسی کو پتہ نہیں تھا یہ شخص اندر سے ایک درندہ صفت ہے ۔
ہماری بیٹیوں کو ہم باہر کے اجنبیوں سے بچاتے ہیں، مگر کبھی کبھی درندہ اجنبی نہیں ہوتا، وہ کسی مقدس رشتے کا چہرہ پہن کر ہمارے ہی گھر میں موجود ہوتا ہے۔
میں ہرگز یہ نہیں کہتی کہ ہر باپ، ہر بھائی، ہر چچا یا ہر ماموں ایسا ہے۔ نہیں! آج بھی بے شمار مرد اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ڈھال ہیں۔
لیکن ایک سوال ضرور ہے
ہم کب تک لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے اپنی بیٹیوں کی چیخیں دباتے رہیں گے؟
کیا خاندان کی عزت ایک بچی کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟
نہیں
عزت وہ نہیں جو ظلم چھپا کر بچائی جائے؛ عزت وہ ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر بچائی جائے۔
ہم اپنے
بزرگوں سے سنا کرتے تھے
قربِ قیامت ایک زمانہ آئے گا جب انصاف اٹھ جائے گا، حیا اٹھ جائے گی اور بے حیائی عام ہو جائے گی۔
تب میں ڈر کر سوچتی تھی
کیا میں وہ زمانہ دیکھوں گی؟
آج اپنے اردگرد دیکھتی ہوں تو اپنے بزرگوں کی وہ باتیں یاد آتی ہیں
شاید میں واقعی وہ زمانہ دیکھ رہی ہوں۔ جہاں آیت نور کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے اور اس کے مجرم اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہیں چہروں پر کسی قسم کا خوف اور شرمندگی نہیں
اتنے ثبوتوں کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی
کیا واقعی انصاف اٹھ چکا ہے
کیا حیا مر گئی ذرا سوچیے۔
بے خبر نہ رہے ہیں اپنے گھر کی خبر رکھیں آپ کی ذرا سی توجہ آپ کو ناگہانی حادثے سے بچا سکتی ہے۔

28/08/2026

بادلوں کے قالین پر ایک سفر

یہ بات شاید 1970 کی ہے

میں پہلی بار سوات گئی تھی اپنے اماں ابا کے ساتھ
تب سوات آج جیسا نہیں تھا۔
نہ کشادہ سڑکیں تھیں، نہ موٹروے، نہ اے سی والی آرام دہ گاڑیاں
وہ پرانی سی بسیں تھیں، جنہیں دیکھ کر کبھی کبھی یوں لگتا تھا جیسے ابھی پنکھ لگا کر اڑن کھٹولا بن جائیں گی۔
مگر عجیب بات ہے
وہ سفر مشکل ضرور تھا،
مگر مجھے تھکن کا احساس بالکل نہیں ہوا۔
بس پہاڑوں کے درمیان چلتی جاتی اور میں کھڑکی سے باہر آنکھیں جمائے بیٹھی رہتی۔
وہ پہاڑ
یا اللہ
اتنے بلند، اتنے بلند کہ انہیں دیکھنے کے لیے مجھے اپنا سر پیچھے کی طرف لے جانا پڑتا، پھر نگاہ کو اور اوپر، اور اوپر لے جاتی… تب کہیں جا کر ان کی چوٹی دکھائی دیتی۔
مجھے لگتا تھا شاید یہ پہاڑ آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔
اور نیچے
دریائے سوات ہمارے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔
کبھی بس کے برابر،
کبھی نیچے گہری کھائی میں،
کبھی پتھروں سے ٹکراتا ہوا،
اور کبھی ایسا لگتا جیسے وہ بھی ہمارے ساتھ سفر کر رہا ہے۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھتی تو دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی۔
مجھے محسوس ہوتا جیسے میں بس میں نہیں بیٹھی
بادلوں کے کسی نرم قالین پر بیٹھی ہوں،
اور ہوا مجھے اپنے ساتھ لیے پہاڑوں کے اوپر اڑا رہی ہے۔
پھر آیا مالاکنڈ۔
وہ پرانا مالاکنڈ
آج کی نسل شاید تصور بھی نہ کر سکے کہ اس زمانے میں وہاں کے راستے کیسے ہوا کرتے تھے۔
گول گول پہاڑی راستے
ایک موڑ ختم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا سامنے آ جاتا۔
ہم گھومتے رہے، گھومتے رہے، گھومتے رہے
یہاں تک کہ میری اپنی دنیا بھی تھوڑی سی گول گول گھومنے لگی۔
دل خراب ہوا، ہلکے ہلکے چکر آنے لگے اور میں نے سوچا
یا اللہ! یہ پہاڑ ختم ہوں گے یا میں؟
لیکن چند ہی دیر بعد جب راستہ سیدھا ہوا تو طبیعت بھی سنبھل گئی۔
پھر ہم ایک جگہ رکے۔
ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔
نہ کوئی فینسی ریسٹورنٹ،
نہ لمبا چوڑا مینو
بس گرم گرم چائے، پراٹھا اور انڈا۔
اور یقین مانیں، اُس وقت وہ ناشتہ کسی شاہی دسترخوان سے کم نہیں لگا۔
سفر کی تھکن، پہاڑوں کی ہوا، سردی کی ہلکی سی کاٹ اور سامنے گرم چائے کا کپ
آج بھی یاد آتا ہے تو دل چاہتا ہے وقت کی سوئیاں پیچھے گھما دوں۔
پھر جیسے جیسے ہم سوات کی طرف بڑھتے گئے، منظر اور حسین ہوتا گیا۔
پہاڑ سبز چادروں میں لپٹے ہوئے تھے۔
درخت اتنے گھنے کہ یوں لگتا تھا جیسے پہاڑوں نے سبز لباس پہن رکھا ہو۔
دور دور تک برف نظر آتی تھی۔
سفید پہاڑ، سبز درخت، نیلا آسمان، شور کرتا دریا
اور ایک کم عمر سی لڑکی، جو کھڑکی سے چپکی ہوئی یہ سب دیکھ رہی تھی۔

اسے کیا معلوم تھا کہ وہ صرف سفر نہیں کر رہی
وہ اپنی پوری زندگی کے لیے یادیں جمع کر رہی ہے۔
آج جب کبھی انہی علاقوں کی تصویریں دیکھتی ہوں تو دل خوش ہونے کے بجائے کچھ اداس
سا ہو جاتا ہے۔
وہی پہاڑ ہیں
مگر بہت سے پہاڑ اب پہلے جیسے نہیں رہے۔
وہ سبز چادریں کہیں کہیں پھٹ گئی ہیں۔
درخت کم ہو رہے ہیں۔
پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں۔
اور مجھے ڈر لگتا ہے
کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں
آپ کے زمانے میں یہاں اتنے بلند اور گھنے پہاڑ ہوا کرتے تھے؟
اور ہمارے پاس جواب میں صرف پرانی تصویریں رہ جائیں۔
خدارا
پہاڑوں کو صرف زمین کا ٹکڑا نہ سمجھیں۔
یہ ہماری خوبصورتی ہیں،
ہماری پہچان ہیں،
ہماری ندیوں کے محافظ ہیں،
ہماری ہوا کا حسن ہیں۔
اخروٹ کا درخت ہو یا چیڑ کا
یہ ایک دن میں نہیں اگتے۔
ایک درخت کو جوان ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔
ہم ایک درخت کو چند منٹ میں کاٹ دیتے ہیں،
مگر اس کے پیچھے گزرنے والی دہائیاں واپس نہیں لا سکتے۔
مجھے معلوم ہے لکڑی کی ضرورت ہے۔
مجھے معلوم ہے وہاں کے لوگوں کی زندگی کے اپنے مسائل ہیں۔
مگر ضرورت اور بے دریغ تباہی میں فرق ہوتا ہے۔
اگر ایک درخت کاٹنا ضروری ہو تو اس کے بدلے کئی درخت لگانے کی ذمہ داری بھی ہماری ہونی چاہیے۔
ورنہ یاد رکھیے
پہاڑ جب ننگے ہو جائیں گے تو صرف ان کا حسن نہیں جائے گا،
ہماری آنے والی نسلوں کا سکون بھی ان کے ساتھ چلا جائے گا۔
میں آج بھی جب سوات کے اُن پرانے راستوں کو یاد کرتی ہوں تو مجھے وہی بلند پہاڑ دکھائی دیتے ہیں
میں پھر اپنی نگاہ اوپر اٹھاتی ہوں
اور دل کہتا ہے:
کاش وہ پہاڑ آج بھی اتنے ہی بلند ہوں،
اتنے ہی سبز ہوں،
اتنے ہی خاموش ہوں…
اور ہمارے بچوں کو بھی کبھی وہی سوات دیکھنے کو ملے
جسے دیکھ کر ستر کی دہائی کی ایک لڑکی
بادلوں کے قالین پر اڑنے لگی تھی۔

25/08/2026

والدین کے نام ایک بات… شاید کسی ماں کی ایک نصیحت کسی کی بیٹی کی زندگی بچا دے
آج سے تقریباً چالیس سال پہلے ایک شخص میرے پاس ہاتھ دکھانے اور زائچہ بنوانے آیا۔
وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا، لیکن اللہ نے اسے بہت بڑا کاروبار اور بے پناہ دولت عطا کر رکھی تھی۔ اس سے گفتگو ہوئی تو ایک بات ایسی کہہ گیا جو آج چالیس سال گزرنے کے باوجود میرے دل پر نقش ہے۔
اس نے کہا:
’’میری ماں نے مجھے صرف ایک بات سمجھائی تھی: بیٹا! کبھی زنا کی طرف مت جانا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’امی کی یہ بات میرے دل میں ایسی اتری کہ میں نے آج تک کسی نامحرم عورت کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھا۔ میں نے کبھی زنا کو اختیار نہیں کیا۔ الحمدللہ، اللہ نے مجھے بہت کچھ دیا۔‘‘
میں اس دن سوچتی رہ گئی…
ایک ان پڑھ ماں۔
ایک کم پڑھا لکھا بیٹا۔
نہ کوئی لمبی تقریر، نہ کوئی کتاب، نہ کوئی لیکچر۔
صرف ایک نصیحت… اور پوری زندگی کا کردار سنور گیا۔
آج جب معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات دیکھتی ہوں تو دل دہل جاتا ہے۔ راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے، سکون چھن جاتا ہے اور دل میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے:
ہم اپنی بیٹیوں کو تو ہر وقت سمجھاتے ہیں، اپنے بیٹوں کو کب سمجھائیں گے؟
ہم بیٹی سے کہتے ہیں:
اکیلی مت جانا۔
کسی پر جلدی اعتبار مت کرنا۔
اپنی حفاظت کرنا۔
ہر شخص سے محتاط رہنا۔
یہ سب ضرور کہیں۔
مگر اسی کے ساتھ اپنے بیٹے کو بھی دروازے سے رخصت کرتے ہوئے ایک آواز ضرور دیں:
’’بیٹا! یاد رکھنا، ہر لڑکی کسی کی بیٹی ہے۔ کسی کی عزت پر بری نظر مت ڈالنا۔ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر ہاتھ مت لگانا۔ اپنے نفس پر قابو رکھنا۔ اور مجھے کبھی یہ شکایت نہ ملے کہ تم نے کسی کی زندگی برباد کی ہے۔
اسے یہ بھی بتائیں
’’گناہ کو چھپا لینا اسے ختم نہیں کرتا۔ جرم کے قدم نہیں ہوتے، لیکن ایک نہ ایک دن اس کا راستہ سامنے آ ہی جاتا ہے۔ دنیا سے چھپ بھی جاؤ تو اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ ایسا کوئی کام مت کرنا جس سے تمہاری اپنی زندگی برباد ہو اور تمہارے خاندان کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے داغ لگ جائے۔

اپنے بیٹوں کو مجرم سمجھنا مقصد نہیں۔
اپنے بیٹوں کو ایسا انسان بنانا مقصد ہے جس سے کسی بیٹی کو خوف نہ ہو۔
ان کے دوستوں کو جانیں۔
ان کی صحبت پر نظر رکھیں۔
ان کے رویے کو سمجھیں۔
ان کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال سے بالکل بے خبر نہ رہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، ان سے وہ باتیں کریں جنہیں ہم عموماً شرم کے نام پر گھر میں زبان پر نہیں لاتے۔
انہیں بتائیں کہ عورت کوئی چیز نہیں، انسان ہے۔
لڑکی کی خاموشی رضامندی نہیں۔
کسی کی کمزوری فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں۔
اور مردانگی کسی پر اپنی طاقت آزمانے کا نام نہیں۔
اصل مردانگی اپنے نفس پر قابو رکھنے کا نام ہے۔
اور خدارا اپنے بیٹے کی ہر غلطی کو یہ کہہ کر نظرانداز نہ کریں:
’’میرا بیٹا ایسا نہیں ہو سکتا۔
غلط صحبت نظر آئے تو روکیں۔
غلط رویہ نظر آئے تو سمجھائیں۔
غلط سوچ سنائی دے تو درست کریں۔
کیونکہ تربیت کا بہترین وقت جرم کے بعد نہیں، جرم سے پہلے ہوتا ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں
حکومت کچھ کرے۔
پولیس کچھ کرے۔
عدالتیں کچھ کریں۔
ضرور کریں۔
لیکن کیا ہم والدین اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں؟
ہر بچے کے ساتھ پولیس نہیں چل سکتی۔
ہر گھر کے باہر حکومت محافظ نہیں لگا سکتی۔
مگر ہر بچے کے گھر میں ایک ماں اور ایک باپ موجود ہو سکتے ہیں۔
ایک ماں اپنے بیٹے کو روک سکتی ہے۔
ایک باپ اسے سمجھا سکتا ہے۔
ایک گھر کسی انسان کا کردار بنا سکتا ہے۔
آج اگر ہر ماں اپنے بیٹے سے اور ہر باپ اپنے بیٹے سے یہ باتیں شروع کر دے، تو شاید ہم بہت سے جرائم کو جرم بننے سے پہلے روک سکیں۔
نور جیسے واقعات ہمیں صرف رلانے کے لیے نہیں آنے چاہئیں۔
ہمیں ان سے سبق بھی لینا چاہیے۔
ہم اپنی بیٹیوں کے گرد حفاظتی حصار بناتے ہیں—اور بنانا بھی چاہیے۔
لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کے اندر بھی ایک حصار بنائیں:
حیا کا،
ضمیر کا
دین کا
تربیت کا
اور انسانیت کا۔
شاید چالیس سال پہلے ایک ان پڑھ ماں کی ایک نصیحت نے اپنے بیٹے کو زندگی بھر کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔
کیا آج ہم اپنے بیٹوں کو وہی ایک بات کہنے کے لیے تیار ہیں؟
اپنے بیٹے کو آج ہی اپنے پاس بٹھائیے۔
اس سے بات کیجیے۔
ممکن ہے آپ کی ایک نصیحت، کل کسی
ماں کی گود اجڑنے سے بچا لے۔

24/08/2026

میرے پہاڑ مجھے آج بھی بلاتے ہیں

شاید مجھے پہاڑوں سے محبت آج کی نہیں…
یہ محبت تو میرے خون میں بہت پہلے اتار دی گئی تھی۔
میرا ننھیال شانگلہ پار میں تھا۔
اس زمانے میں اسکولوں کی چھٹیاں ہمارے لیے صرف چھٹیاں نہیں ہوتیں تھیں، بلکہ ایک خوشخبری ہوتی تھی کہ اب ہم شہر کے شور سے نکل کر اپنے گاؤں جائیں گے۔
میرے والد صاحب آرمی میں تھے۔ انہوں نے وہاں زمین خریدی اور ایک گھر بنایا۔ ابتدا میں ہم نانا جان کے گھر رہتے تھے، پھر ایک دن وہ وقت بھی آیا جب ہم اپنے گھر منتقل ہوگئے۔
پہاڑ کی ایک بلند چوٹی پر ہمارا وہ گھر…
آج بھی میری آنکھوں میں ویسا ہی آباد ہے۔
نیچے دور تک پھیلے پہاڑ،
فضا میں گھلی ہوئی مٹی کی خوشبو،
صبح کے وقت پرندوں کی آوازیں،
اور وہ ٹھنڈی ہوا جو چہرے کو چھوتی ہوئی یوں گزرتی تھی جیسے کسی ماں کا ہاتھ پیشانی پر پھر گیا ہو۔
اُس وقت زندگی بہت سادہ تھی، مگر شاید اسی لیے بہت خوبصورت بھی تھی۔
ہم چشموں سے پانی بھرتے تھے۔
پہاڑوں کے راستوں سے گزرتے، پانی کے برتن سر پر رکھتے اور گھر واپس آتے۔
نہ منرل واٹر تھا،
نہ فلٹر،
نہ بوتلوں کی قطار…
بس پہاڑ کا چشمہ تھا اور زندگی کا اصل ذائقہ۔
ہمارے کھیتوں میں پھلوں کے درخت تھے۔ جنگلی گلاب جن کی خوشبو سے سانس معطر ہوتی تھی
پودینہ یوں اُگا رہتا تھا جیسے زمین نے سبز چادر اوڑھ رکھی ہو۔
اور جب ہوا چلتی…
یا اللہ
پودینے کی خوشبو پورے راستے میں پھیل جاتی۔
کھیروں کی ایسی خوشبو کہ آج تک لاہور میں کھیرے کو سونگھوں تو مجھے وہ خوشبو نہیں ملتی جو میرے بچپن کے کھیتوں میں ہوا کرتی تھی۔
آلو،
آلوچے،
خوبانیاں،
مسور کی دال،
مونگ پھلی،
لوبیا…
کبھی کچا، کبھی پکا، کبھی خود توڑ کر کھایا، کبھی گھر میں پکایا۔
دیسی مرغیاں،
دیسی انڈے،
کھیتوں کی سبزیاں…
وہ کھانا صرف پیٹ نہیں بھرتا تھا،
وہ زندگی کو صحت، خوشبو اور ذائقہ دیتا تھا۔
پھر بچپن رخصت ہوگیا۔
شادی ہوگئی۔
زندگی نے اپنی ذمہ داریاں میرے ہاتھ میں تھما دیں۔
سفر کا شوق دل میں کہیں زندہ رہا، مگر اجازتیں کم ہوگئیں، راستے محدود ہوگئے۔ نانا نانی بھی دنیا سے رخصت ہوگئے، اور یوں میرے بچپن کا وہ دروازہ بھی جیسے آہستہ آہستہ بند ہوگیا۔
لیکن کچھ محبتیں دروازے بند ہونے سے ختم نہیں ہوتیں۔
وہ دل میں رہتی ہیں… اور انتظار کرتی ہیں۔
جب میری عمر چالیس کے قریب پہنچی تو میں نے خود سے کہا:

اب سالوں کا انتظار کیوں؟

اب مہینوں کا انتظار کیوں؟

جب دل کہے گا، چل پڑوں گی۔

مجھے کبھی یہ عادت نہیں رہی کہ کسی سے کہوں،
چلو مجھے سیر کروانے لے چلو۔
نہیں۔

میرا دل کرتا اور میرا بیگ تیار۔
بس پھر میں چل پڑتی۔
یوں میرے شمالی علاقہ جات کے سفر شروع ہوئے۔
پہاڑوں نے مجھے دوبارہ اپنے قریب بلا لیا۔
کبھی کسی وادی میں صبح ہوئی،
کبھی کسی درّے میں شام اتری،
کبھی بادل میرے قدموں کے نیچے تھے
اور کبھی میں بادلوں کے درمیان چل رہی تھی۔
پھر زندگی نے ایک اور دروازہ کھولا۔
مجھے ایریا مینیجر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ مارکیٹنگ کے سلسلے میں سفر مزید بڑھ گیا۔ مختلف ہوٹلوں میں قیام، عزت، پروٹوکول، لوگوں کی محبت اور نئے نئے راستے
اور پھر میرے دل نے کہا
کیوں نہ اسی پہاڑوں کی سرزمین پر مستقل زندگی بسائی جائے؟
اسی خواب نے مجھے سوات پہنچایا۔
میں نے وہاں لاہوری کھابے کے نام سے اپنا ریسٹورنٹ بنایا۔
ایک سال تک میں نے وہاں محنت کی۔

ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز پر میرے انٹرویوز نشر ہوئے۔
لوگ مجھے جاننے لگے۔
میرے خواب نے جیسے شکل اختیار کرنا شروع کردی۔
لیکن ہر خواب کا راستہ آسان کہاں ہوتا ہے؟
مخالفتیں آئیں، مشکلات آئیں، رہائش کا مسئلہ پیدا ہوا، اپنی زمین اور اپنے گھر کے حوالے سے بھی ایک مشکل قانونی معاملہ سامنے آیا۔ بالآخر مجھے سوات چھوڑ کر لاہور واپس آنا پڑا۔
مگر ایک چیز میں آج بھی نہیں ہاری…

اپنے پہاڑوں کا خواب۔
میرا معاملہ عدالت میں ہے۔
میں دل سے دعا کرتی ہوں کہ حق کی فتح ہو۔
آپ بھی میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ ہمیں کامیابی دے۔
کیونکہ میری خواہش آج بھی وہی ہے جو شاید میرے بچپن نے میرے دل میں رکھ دی تھی:
پہاڑوں پر میرا اپنا ایک گھر ہو۔

ایک چھوٹا سا گھر…
جہاں صبح کھڑکی کھلے تو سامنے پہاڑ ہوں،
جہاں ہوا میں پودینے کی خوشبو ہو،
جہاں کسی چشمے کا پانی پتھروں سے ٹکراتا ہوا گیت گاتا ہو،
جہاں درختوں پر خوبانیاں پک رہی ہوں،
جہاں شام کو بادل میرے صحن میں اتر آئیں،
اور جہاں میں اپنی یوگا کی چٹائی بچھا کر
پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے سانس لوں۔
شاید اسی لیے میرے لیے سفر اور یوگا الگ الگ چیزیں نہیں۔
یوگا مجھے اپنے اندر لے جاتا ہے،
اور سفر مجھے اپنے اندر سے باہر،
قدرت کے قریب لے جاتا ہے۔
ایک مجھے سانس لینا سکھاتا ہے،
دوسرا مجھے زندگی جینا سکھاتا ہے۔
میں آج بھی سفر کرتی ہوں۔

کیونکہ میں جانتی ہوں کہ جس دن انسان کے اندر سفر ختم ہوجاتا ہے، اُس دن زندگی میں بہت کچھ ساکت ہوجاتا ہے۔
میں پہاڑوں پر جاتی ہوں تو صرف نظارے دیکھنے نہیں جاتی

میں اپنے بچپن کو ڈھونڈنے جاتی ہوں۔
وہ بچی جو کبھی سر پر چشمے کا پانی اٹھا کر پہاڑی راستے سے اپنے گھر لوٹتی تھی،
جو جنگلی گلاب کی خوشبو میں سانس لیتی تھی
جو کھیتوں میں پھلوں کے درختوں کے درمیان بھاگتی تھی

وہ بچی آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔

اور شاید جب تک وہ زندہ ہے،
میرے پہاڑ بھی مجھے بلاتے رہیں گے۔

میں جاؤں گی

پھر جاؤں گی

اور ایک دن شاید اسی پہاڑ پر
اپنے گھر کی کھڑکی کھول کر
دور تک پھیلی وادی کو دیکھتے ہوئے کہوں گی

دیکھو
میں واپس آگئی ہوں۔


23/08/2026

سفر صرف راستے طے کرنے کا
نام نہیں
کبھی پہاڑوں کی خاموشی میں بیٹھ کر خود کو سننا بھی سفر ہوتا ہے،
کبھی کسی اجنبی راستے پر چلتے ہوئے زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنا بھی سفر ہوتا ہے۔
دنیا کے خوبصورت مقامات ہمیں صرف تصویریں نہیں دیتے،
وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی کتنی وسیع، کتنی حسین اور کتنی حیران کن ہے۔
کبھی وادیوں کی ٹھنڈی ہوا،
کبھی آبشاروں کا شور،
کبھی بادلوں میں چھپے پہاڑ،
اور کبھی کسی چھوٹے سے گاؤں کے سادہ لوگ…
یہ سب مل کر سفر کو یاد بنا دیتے ہیں۔
میرے نزدیک سیاحت صرف جگہیں دیکھنے کا نام نہیں،
یہ اپنے اندر کے انسان سے دوبارہ ملاقات کا ایک خوبصورت بہانہ ہے۔
اگر زندگی تھکا دے تو کبھی کسی خوبصورت راستے پر نکل جائیے…
ممکن ہے منزل سے زیادہ راستہ آپ کو خوش کر دے۔
آج اتوار ہے کوئی بہانہ نہیں چلے گا
انجوائے کریں یاد رکھیں زندگی ایک بار ملتی ہے۔


#سیاحت
#سفر
#سفرنامہ
#قدرت









#𝑻𝒓𝒂𝒗𝒆𝒍𝑴𝒆𝒎𝒐𝒓𝒊𝒆𝒔

21/08/2026

فیس بک اور یوٹیوب سے ایک کریئیٹر کی دل کی بات

فیس بک اور یوٹیوب سے میری ایک مؤدبانہ گزارش ہے۔

ہم جیسے کریئیٹرز بڑی محنت، وقت اور شوق سے اپنے پیجز اور چینلز بناتے ہیں۔ ابھی ہم ایک نئے فیچر اور نئے طریقۂ کار کو سمجھ ہی رہے ہوتے ہیں کہ ایک نئی تبدیلی آ جاتی ہے۔ پھر ہمیں دوبارہ وہی چیز سیکھنی پڑتی ہے۔

تبدیلی اور ترقی یقیناً ضروری ہے، نئے ٹولز اور نئی سہولتیں بھی آنی چاہئیں، لیکن اگر بنیادی نظام بار بار بدلتا رہے تو خاص طور پر نئے کریئیٹر کے لیے یہ سفر بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

ہمیں ایک ایسا مستحکم نظام چاہیے جسے ہم سیکھ سکیں، سمجھ سکیں اور اعتماد کے ساتھ اپنی تخلیقی محنت جاری رکھ سکیں۔
ایک اور اہم مسئلہ موسیقی اور ساؤنڈ کا ہے۔
ہم پاکستانی اور بھارتی گانے برسوں سے سنتے آئے ہیں۔ گاڑیوں میں، گھروں میں، شادیوں میں، تقریبات میں—یہ موسیقی ہماری روزمرہ زندگی اور یادوں کا حصہ ہے۔
ہم فنکاروں، گلوکاروں، شاعروں، موسیقاروں اور اصل حقوق رکھنے والوں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور یقیناً اصل تخلیق کار کا حق محفوظ رہنا چاہیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پہلے سے موجود معروف گانے یا ساؤنڈ کو اپنی ویڈیو میں استعمال کرتا ہے، تو کیا صرف اس بنیاد پر کہ کسی دوسرے کریئیٹر نے اسے پہلے استعمال کیا تھا، ہر دوسرے استعمال پر اس کا ذاتی دعویٰ ہونا چاہیے؟
اصل تخلیق کار اور صرف پہلے استعمال کرنے والے کریئیٹر میں واضح فرق ہونا چاہیے۔
ہماری گزارش ہے کہ فیس بک اور یوٹیوب ایسا نظام بنائیں جس میں اصل حق دار کا حق بھی محفوظ رہے، لیکن عام کریئیٹر کو ایسے دعووں سے بھی تحفظ ملے جو اس کے اپنے تخلیق کردہ مواد سے متعلق نہیں۔
اور اگر کسی ساؤنڈ یا گانے پر حقوق کی پابندی ہے تو کریئیٹر کو پہلے ہی واضح، آسان اور سمجھ آنے والے انداز میں بتایا جائے کہ وہ اسے کس طرح استعمال کر سکتا ہے، کہاں نہیں کر سکتا، اور غلطی کی صورت میں اسے اصلاح کا مناسب موقع بھی دیا جائے۔

کیونکہ ایک نیا کریئیٹر بڑی مشکل سے ایک ویڈیو بناتا ہے، محنت کرتا ہے، وقت لگاتا ہے، پھر اچانک Claim یا restriction دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔

ہمیں خوف نہیں، رہنمائی چاہیے۔

ہم پلیٹ فارم کی پالیسیوں کے خلاف نہیں ہیں۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ پالیسیاں واضح، مستقل، منصفانہ اور کریئیٹر دوست ہوں۔
نئے فیچرز ضرور لائیں، نئی سہولتیں ضرور دیں، لیکن بنیادی نظام کو اتنی تیزی سے تبدیل نہ کریں کہ ایک عام کریئیٹر ہر چند دن بعد دوبارہ طالبِ علم بن جائے۔
آخرکار یہ ایک دو طرفہ سفر ہے۔
ہم کریئیٹرز اپنی محنت، وقت اور تخلیق سے پلیٹ فارم کو مضبوط کرتے ہیں، اور پلیٹ فارم ہمیں اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا موقع دیتا ہے۔
اس رشتے میں مقابلہ نہیں،
اعتماد ہونا چاہیے۔
فیس بک اور یوٹیوب سے میری گزارش ہے:
اصل تخلیق کار کے حقوق کا تحفظ ضرور کریں،
مگر عام کریئیٹر کے لیے بھی ایک آسان، واضح اور منصفانہ راستہ ضرور بنائیں۔
کیونکہ جب کریئیٹر آسانی سے سیکھے گا، تخلیق کرے گا اور آگے بڑھے گا،
تو صرف کریئیٹر نہیں—پورا پلیٹ فارم آگے بڑھے گا۔
یہ صرف میری آواز نہیں، ہر اس نئے کریئیٹر کی آواز ہے جو سیکھنا چاہتا ہے، محنت کرنا چاہتا ہے اور اپنی تخلیق کو دنیا تک پہنچانا چاہتا ہے۔

20/08/2026

آسمہ خان… کچھ لوگ سفر ختم ہونے کے بعد بھی دل سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔
تم پہاڑوں سے محبت کرتی تھیں، انہیں سر کرنا تمہارا خواب تھا، مگر شاید قدرت نے تمہارا آخری سفر بھی انہی پہاڑوں میں لکھ رکھا تھا۔

تمہارے ساتھ گزرے سفر، تمہاری معصوم مسکراہٹ اور پہاڑوں کے لیے تمہارا جنون ہمیشہ یاد رہے گا۔
آج تم ہمارے درمیان نہیں، مگر ان پہاڑوں میں تمہاری یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اللہ پاک آسمہ کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Exit 5
Riyadh