❁﷽❁
`نبی کریم ﷺ مکارم الاخلاق ہیں`
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بیشک مجھے نیک اخلاق کی تکمیل ہی کے لیے بھیجا گیا ہے۔
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ،(ص ۵۱۳) ۔!!
Flowery Feel
خوبصورت اسلامی تاریخی معلومات ،واقعات اور جنرل نالج کے کیے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں۔
شکریہ
جنت کے نوجوانوں کے سردار
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
✨ "حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔"
یہ کوئی معمولی فضیلت نہیں، بلکہ ایسا عظیم اعزاز ہے جو دنیا سے لے کر جنت تک ان کے مقام اور شان کو ظاہر کرتا ہے۔ 🤍
حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ صرف نبی کریم ﷺ کے نواسے ہی نہیں تھے، بلکہ آپ ﷺ کے دل کا سکون، آنکھوں کی ٹھنڈک اور اہلِ بیتِ اطہار کے روشن ستارے تھے۔
رسول اللہ ﷺ ان دونوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔
کبھی انہیں اپنے کندھوں پر بٹھاتے،
کبھی سینے سے لگاتے،
اور کبھی لوگوں کے سامنے ان کی فضیلت بیان فرماتے۔
🌿 ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما اور ان سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔"
یہ الفاظ اس محبت کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں جو نبی ﷺ کے دل میں اپنے نواسوں کے لیے تھی۔
حضرت حسنؓ صبر، حلم اور امت کی وحدت کی علامت بنے۔
اور حضرت حسینؓ نے حق، عدل اور دین کی سربلندی کے لیے ایسی قربانی دی جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔
ان کی زندگیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ:
✨ عزت مال سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔
✨ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مگر کامیاب ضرور ہوتا ہے۔
✨ اللہ کے لیے دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔
آج بھی جب ان کے نام لیے جاتے ہیں تو محبت، عقیدت اور احترام کے جذبات دلوں میں جاگ اٹھتے ہیں۔
🤍 اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
اور حضرت حسنؓ و حسینؓ سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔
آئیے دعا کریں:
اے اللہ! ہمیں اہلِ بیتِ اطہار کی سچی محبت نصیب فرما، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، اور قیامت کے دن ہمیں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین۔
❁﷽❁
`[صحابہ کرام رضہ کی شان]`
"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی وہ ان کے ایک مُد بلکہ آدھے مُد کے برابر نہیں ہو سکتا۔"".....!
»صحیح مسلم-صحیح بخاری«
❁﷽❁
عاشورہ کا روزہ !
عاشوراء (10 محرم) کا روزہ نبی کریمﷺ کی سنت ہے رسول اللّٰہﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا آپﷺ نے فرمایا عاشوراء کے دن کے روزے کے بارے میں (میں) اللّٰہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کے ذریعے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا نیز آپﷺ نے فرمایا اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو ضرور نویں (محرم) کا روزہ بھی رکھوں گا
(صحیح البخاری:2004/صحیح مسلم:1134، 1162)
❁﷽❁
آگ کا انگارہ!
رسول اللّٰہﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ (کی انگلی) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے رسول اللّٰہﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کوئی فائدہ اٹھا لو اس نے کہا اللّٰہ کی قسم میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا جبکہ رسول اللّٰہﷺ نے اسے پھینک دیا ہے
(صحیح مسلم:5472)
24/06/2026
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص سے دعا کروائی
حضرت سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، اس سال بارش بالکل نہ ہوئی۔ لوگ پریشانی کے عالم میں حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: "آپ علیہ السلام ہمارے لیے بارش کی دعا فرمائیں۔"
حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: "تم لوگ میرے ساتھ فلاں پہاڑ کی طرف چلو۔"
چنانچہ لوگ آپ علیہ السلام کے ساتھ چل دیئے۔ آپ علیہ السلام نے پہاڑ پر چڑھ کر ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی بھی ایسا شخص میرے ساتھ نہ رہے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔" یہ سن کر آدھے سے زیادہ لوگ واپس پلٹ گئے۔ آپ علیہ السلام نے دوبارہ ارشاد فرمایا: "جس سے کبھی کوئی گناہ سرزد ہوا ہو وہ واپس پلٹ جائے۔"
سب واپس چلے گئے۔ صرف "بَرَخ" نامی شخص باقی بچا جس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "کیا تم نے میری بات نہیں سنی؟"
عرض کی: "حضور! میں آپ علیہ السلام کی بات سن چکا ہوں۔"
فرمایا: "کیا تم سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا؟"
کہا: "حضور! مجھ سے ایک فعل سرزد ہوا ہے۔ میں آپ علیہ السلام کے سامنے عرض کیے دیتا ہوں، اگر وہ گناہ ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔"
آپ علیہ السلام نے فرمایا: "بتاؤ تم سے کون سا فعل سرزد ہوا ہے؟"
کہا: "ایک مرتبہ میں ایک ایسے گھر کے قریب سے گزرا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اچانک میری نظر گھر میں موجود ایک شخص پر پڑی، میں نہیں جانتا کہ وہ مرد تھا یا عورت۔ مجھے احساس ہوا تو میں نے اپنی آنکھ سے کہا: تو نے ایک غلط کام میں جلدی کی، اب تو میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ میں نے اپنی وہ آنکھ نکال ڈالی۔ اگر میرا دیکھنا گناہ تھا تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔"
حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: "تمہارا یہ فعل گناہ نہیں، اب تم ہی اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرو۔"
یہ سن کر اس "بَرَخ" نامی عابد نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کر دیئے اور بارگاہِ خداوندی میں اس طرح عرض گزار ہوا:
"یا قدوس! یا قدوس! تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، اگر تو کوئی چیز عطا فرما دے تو تیرے خزانوں میں کمی نہ ہوگی۔ میرے مولا! تو بخل سے پاک ہے، کوئی ایسی چیز نہیں جسے تو نہ جانتا ہو۔ میرے مولا! ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب کر دے۔"
ابھی دعا ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ چھما چھم رحمت کی برسات ہونے لگی، ہر طرف جل تھل ہو گیا اور یہ دونوں حضرات بارش میں بھیگتے ہوئے واپس پلٹے۔
(عیونُ الحکایات)
❁﷽❁
حقیقی صلہ رحمی!
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے
(صحیح بخاری:5991)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Medina