Would that

Would that

Share

would that all the population of the earth may Allah be united under one flag of islam and live with love and prosperity.

A dream of the united Earth 🌍....
کاش کہ اس زمین کی تمام تر روحیں الست بربکم کے حکم کے تحت ایک اللّٰہ کی اطاعت پر متحد ہوں... Just an ordinary person who wants to live with love , care and respect with all my planet fellow's a dream of united Earth 🌎

16/02/2026

Motivational reel

16/02/2026

Beautiful lesson of Al-Quran of replying hard talk of someone

27/12/2025

شعور کی بقا، فری وِل کی سائنس اور دعا کا حیاتیاتی راز
کیا ہم محض کٹھ پتلی ہیں یا تقدیر کے معمار؟
انسانی تاریخ کی گہرائیوں میں ایک سوال مسلسل گونجتا رہا ہے—
کیا انسان واقعی بااختیار ہے، یا وہ محض تقدیر کے اندھے ہاتھوں میں بندھی ایک ڈور ہے؟
کیا ہمارے فیصلے ہماری اپنی مرضی کا نتیجہ ہیں، یا ہم ایک ایسے ڈرامے کے کردار ہیں جس کا اسکرپٹ ازل میں لکھا جا چکا ہے؟
یہ سوال سقراط کے زہر بھرے پیالے سے لے کر خیام کے فکر انگیز اشعار تک، ہر دور کے اذہان کو بے چین کرتا رہا ہے۔ مذاہب—اور بالخصوص اسلام—ہمیشہ یہ اعلان کرتے آئے ہیں کہ دعا تقدیر کا رخ موڑ دیتی ہے، صدقہ مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے، اور انسان وہی پاتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔
مگر جدید مادّی ذہن، جو صدیوں سے ہر شے کو محض کیمیائی تعامل سمجھتا آیا ہے، ان حقائق کو جذباتی تسلی یا قدیم کہانیاں قرار دے کر رد کرتا رہا۔
لیکن اکیسویں صدی میں سائنس نے خود اپنے یقینوں پر سوال اٹھا دیے۔
جب تحقیق ایٹم کے مرکز تک پہنچی، جب کوانٹم فزکس نے مادّے کو امکانات میں تحلیل کر دیا، اور جب ایپی جینیٹکس نے یہ ثابت کیا کہ جینز جامد نہیں بلکہ قابلِ تبدیلی کوڈ ہیں—تو سائنس کو یہ ماننا پڑا کہ انسان محض جینز اور ماحول کا غلام نہیں۔
وہ سب کچھ جسے کبھی “ایمان” کہا جاتا تھا، دراصل انسانی وجود کو چلانے والا ایک نہایت پیچیدہ حیاتیاتی اور شعوری نظام نکلا۔
فری وِل: وہ امانت جو انسان کو دی گئی
کلاسیکل فزکس کے مطابق کائنات ایک مشین تھی—جہاں سب کچھ پہلے سے طے تھا۔
مگر کوانٹم میکینکس نے اس تصور کو توڑ دیا۔
یہ انکشاف ہوا کہ کائنات امکانات کا سمندر ہے، اور جب تک کوئی “مشاہدہ” نہ ہو، حقیقت حتمی شکل اختیار نہیں کرتی۔
یہاں سائنس اور روحانیت ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں، کیونکہ انسان کا شعور ہی وہ مشاہدہ ہے جو امکان کو حقیقت میں بدلتا ہے۔
یہی وہ فری وِل ہے جو انسان کو عطا کی گئی—
یہ اختیار کہ وہ اپنی نیت، توجہ اور شعوری ہم آہنگی کے ذریعے زندگی کی سمت طے کر سکے۔
لیکن اس اختیار کو استعمال کرنے کے لیے صرف خواہش کافی نہیں۔
اس کے لیے ذہن اور دل کی ہم آہنگی درکار ہے—اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام کا پورا نظامِ حیات ایک سائنسی تربیتی پروگرام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
دعا: محض الفاظ نہیں، ایک حیاتیاتی عمل
جب انسان سچے دل سے دعا کرتا ہے، تو یہ محض جذباتی لمحہ نہیں ہوتا۔
نیورو سائنس کے مطابق اس وقت دماغ کے وہ حصے متحرک ہوتے ہیں جو شعوری کنٹرول، ہمدردی اور جذباتی توازن کے ذمہ دار ہیں، جبکہ “انا” سے جڑے حصے خاموش ہو جاتے ہیں۔
اس کیفیت میں اسٹریس ہارمون کم ہوتے ہیں، شفا دینے والے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، اور دماغ اپنی ساخت تک بدلنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دعا محض سکون نہیں دیتی—بلکہ ذہنی زخموں کی مرمت بھی کرتی ہے۔
دل اور دماغ جب ایک ہی ردھم میں آ جاتے ہیں تو انسان ایک مضبوط شعوری سگنل بن جاتا ہے—
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں مذہب کہتا ہے:
“دعا تقدیر بدل دیتی ہے”
یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جسے ہم صدیوں تک سمجھے بغیر استعمال کرتے رہے۔
ایپی جینیٹکس: تقدیر جامد نہیں
جدید سائنس اب تسلیم کرتی ہے کہ جینز فیصلہ نہیں سناتے، بلکہ امکانات دیتے ہیں۔
سوچ، احساسات اور مسلسل روحانی مشقیں ان جینز کے سوئچ آن یا آف کر سکتی ہیں۔
یعنی اگر بیماری، خوف یا کمزوری وراثت میں ملی ہو، تو بھی انسان مکمل بے بس نہیں۔
اس کے پاس شعوری تبدیلی، دعا اور مضبوط ارادے کے ذریعے اپنی اور آنے والی نسلوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔
توحید: ذہنی اتحاد کا فارمولا
متعدد خداؤں کا تصور—چاہے وہ خوف ہو، پیسہ ہو یا معاشرہ—انسانی ذہن کو بکھیر دیتا ہے۔
جبکہ توحید ذہن کو یکجا کرتی ہے۔
“لا الہ الا اللہ” دراصل شعور کو مرکزیت دیتا ہے۔
یہ بکھری ہوئی توانائی کو ایک مضبوط سمت میں بہا دیتا ہے—
اور یہی وہ حالت ہے جس میں انسان اپنی اصل قوت پہچانتا ہے۔
عبادات: شعور کی ٹریننگ
نماز فوکس کی مشق ہے
سجدہ جسم اور ذہن کو زمین سے ہم آہنگ کرتا ہے
روزہ نفس کو کمزور اور ارادے کو مضبوط کرتا ہے
زکوٰۃ مادّی گرفت کو ڈھیلا کرتی ہے
اور جدوجہد (جہاد) انسان کو جمود سے نکال کر نمو کی طرف لے جاتی ہے
یہ سب مل کر انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اپنی فری وِل کو درست طریقے سے استعمال کر سکے۔
نتیجہ
یہ دین محض رسومات کا مجموعہ نہیں۔
یہ انسان کے شعور، جینز اور ارادے کو زندہ رکھنے کا نظام ہے۔
آپ مجبور نہیں ہیں۔
آپ محض کردار نہیں—آپ شریکِ تحریر ہیں۔
جب انسان کی فریکوئنسی سچائی کے مرکز سے جڑ جاتی ہے،
تو پھر تقدیر کا قلم بھی وہی لکھتا ہے
جو ایک بیدار شعور چاہتا ہے۔

Photos from Would that's post 26/12/2025

« حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں »

°°° سب سے حسین مخلوق کون سی ہے °°°

#عجائباتِ_عالم 39

`کیا آپ جانتے ہیں سیدنا آدم علیہ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے زمین پر اٹھائیس قسم کی مخلوقات آباد تھیں`
مختلف زمانوں میں کئی کئی ہزار سال عجیب و غریب مخلوقات یہاں آباد رہی ہیں
جنات کے بارے تو سبھی جانتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے یہ آباد تھے پھر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جنہوں نے جنات کو قتل کیا اور زمین سے نکال کر جزیروں میں بھیج دیا
*مگر جنات سے پہلے ستائیس مخلوقات اور آباد تھیں*

ان میں سے *بِن* پھر *خِن* پھر *مِن* دنیا میں آباد رہے

*علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ* میں لکھا کہ بِن و خِن زمین میں رہتے تھے وہ سرکش ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے جن بھیجے جنہوں نے بِن و خِن کو زمین سے نکال دیا

{یہاں یہ یاد رکھیں کہ ان سب کو قتل نہیں کیا بلکہ زمین کی حدود سے نکال دیا ممکن ہے وہ کسی اور زمین کسی اور سیارے پر آباد ہو چکے ہوں اور وہی خلائی مخلوق ہوں }

پھر جنات نے سرکشی کی تو فرشتوں نے ان کو قتل کیا اور جس کے لیئے زمین کی تخلیق کی گئی یعنی حضرت انسان وہ پیدا کیا گیا

`علامہ مسعودی نے لکھا کہ انسان سے پہلے 28 قسم کی مخلوقات زمین پر آباد تھیں`

اور *علامہ شہاب الدین الاشبیہی* نے بھی المستطرف میں لکھا کہ 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں

اور ان میں سے کچھ
(1) *پروں والی مخلوق* تھی جن کی زبان بجنے جیسی تھی
(2) *کچھ کے دو جسم ایک سر* تھا ایک جسم شیر سا اور ایک پرندے سا اور ان بال اور ناخن ہوتے
(3) *کچھ کے دو سر ایک آگے کی جناب اور دوسرا پیچھے کی جانب ہوتا تھا*
(4) کچھ *نصف انسان* جیسے تھے اور انکی کئی ٹانگیں تھیں
(5) کچھ کا `منہ انسان سا اور پیٹھ کچھوے` جیسی اور سر میں سینگ ہوتے تھے
(6) کچھ کے سفید بال اور گائے جیسی دم ہوتی تھی
(7) کچھ کے ناخن خنجروں کی طرح اور لمبے لمبے کان ہوا کرتے تھے

علامہ مسعودی نے ایک جگہ لکھا کہ آدم علیہ السلام سے پہلے 120 مخلوقات آباد تھیں

> اصل میں 28 ہی تھیں باہم شادی کی وجہ سے وہ مزید الگ الگ ہوتے گئے اور یوں 120 عجیب و غریب مخلوقات بن گئیں

اور سب سے آخر میں حضرت انسان کو پیدا کیا گیا جو سب مخلوقات میں حسین و جمیل ہے
اللہ رب العزت نے فرمایا
> لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا

اور حدیث پاک میں ہے کہ
> ان اللہ خلق آدم علی صورتہ
اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کو اپنی پسندیدہ ترین صورت پر پیدا کیا
`اور انسانوں میں سب سے حسین مخلوق مرد ہیں کیونکہ یہ اضافی سے چہرے پر نہیں لگاتے`
جبکہ دوسری مخلوق بہت کچھ لگاتی ہے 😅
اور مَردوں میں سب سے حسین افراد انبیاء کرام علیہم السلام ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام میں سب سے حسین و جمیل ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

سابقہ مخلوقات میں سے کچھ کے نشانات ملتے رہتے ہیں جن کو سائنس دان ڈائنوسار وغیرہ قرار دیتے ہیں
اور کچھ سمندروں جزیروں میں چھپے ہوئے ہیں
الجزائر میں موجود بہت بڑے پہاڑی سلسلے کی غاروں میں مذکورہ کچھ مخلوقات کی ان کے زمانے کی تصاویر ہیں جو دریافت ہوئی ہیں
اس سے پ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں

*بعض کے نزدیک* یاجوج و ماجوج انہی سابقہ مخلوقات میں سے ہیں جو اب تک سکندر اعظم کی بنائی دیوار کے پیچھے بند ہیں

اور بعض احادیث میں دو عظیم شہروں کا ذکر ہے جو اس دنیا سے بھی بڑے ہیں ایک مشرق میں ایک مغرب میں وہاں بھی مخلوق آباد ہے
ہم نے وہ تحریر الگ سے لکھی ہے

*زیر نظر تصاویر الجزائر کے غاروں کی ہیں ماہرین کے مطابق یہ بِن خِن اور مِن کی بنائی تصاویر ہو سکتی ہیں*

Photos from Would that's post 25/12/2025

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 178 دن گزارنے کے بعد جب خلا باز رون گیرن زمین پر واپس آئے تو وہ اپنے ساتھ صرف خلائی آلات یا مشن کا ڈیٹا ہی نہیں لائے تھے، بلکہ انسانیت کے بارے میں ایک بالکل نیا شعور بھی ساتھ لائے تھے۔

مدار سے دیکھیں تو زمین ملکوں، سرحدوں یا باہمی مقابلے کی لکیروں کا مجموعہ نہیں لگتی۔ وہ اندھیرے خلا میں معلق ایک روشن نیلا کرہ دکھائی دیتی ہے۔ کہیں براعظموں کو تقسیم کرنے والی لکیریں نہیں، کہیں جھنڈے نہیں جو حدود بتائیں۔ زمین کی سطح سے ڈھائی سو میل اوپر سے ہر انسانی جھگڑا اچانک بہت چھوٹا، اور ہر انسانی رشتہ ناگزیر محسوس ہونے لگتا ہے۔

گیرن بتاتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کیسے بجلی کے طوفان پورے پورے براعظموں پر چمکتے ہیں، قطبین پر شفقی روشنیاں زندہ پردوں کی طرح لہراتی ہیں، اور رات کی سمت شہروں کی بتیاں نرمی سے جگمگاتی ہیں۔ مگر جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ زمین کی طاقت نہیں، بلکہ اس کی نازکی تھی۔ فضا، جو تمام زندگی کی محافظ ہے، ایک نہایت باریک نیلے ہالے کی صورت دکھائی دیتی ہے—بمشکل نظر آنے والی، مگر ہر اس چیز کی ذمہ دار جو سانس لیتی ہے، بڑھتی ہے اور زندہ رہتی ہے۔

یہ منظر وہ کیفیت پیدا کرتا ہے جسے خلا باز “اوورویو ایفیکٹ” کہتے ہیں—یعنی سوچ میں ایک گہری اور اچانک تبدیلی، جو خلا سے زمین کو دیکھنے والوں کو محسوس ہوتی ہے۔ اس لمحے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی بند نظام میں رہتی ہے۔ نہ کوئی متبادل ہے، نہ فرار کا راستہ، نہ کوئی دوسری زمین۔

اسی احساس نے گیرن کو انسانی ترجیحات پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔ زمین پر معاشی ترقی کو اکثر سب سے بڑا مقصد سمجھا جاتا ہے، مگر خلا سے دیکھیں تو یہ ترتیب بکھر جاتی ہے۔ ان کے مطابق درست ترتیب یہ ہونی چاہیے: پہلے کرۂ ارض، پھر معاشرہ، اور آخر میں معیشت—کیونکہ صحت مند زمین کے بغیر نہ معاشرہ قائم رہ سکتا ہے اور نہ معیشت۔

وہ اکثر زمین کو ایک خلائی جہاز سے تشبیہ دیتے ہیں: ایک ایسا جہاز جس میں اربوں افراد بطور عملہ سوار ہیں، اور سب ایک ہی نظامِ حیات پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بہت سے لوگ نگہبان بننے کے بجائے محض مسافر بن کر رہتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ دیکھ بھال کسی اور کی ذمہ داری ہے۔

مدار سے دیکھیں تو آلودگی کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ موسمی نظام سرحدوں کو نہیں مانتے۔ ایک خطے میں ہونے والا ماحولیاتی نقصان پوری دنیا میں اثر دکھاتا ہے۔ زمین پر جن تقسیموں کا ہم شدت سے دفاع کرتے ہیں، اوپر سے دیکھیں تو وہ کہیں موجود ہی نہیں ہوتیں۔

گیرن کا پیغام نہ تو خیالی ہے اور نہ ہی محض نظری۔ یہ نہایت عملی ہے۔ اگر انسانیت زمین کو ایک مشترکہ نظام کے بجائے لامحدود وسائل کا ذخیرہ سمجھتی رہی، تو اس کے نتائج سب کے لیے یکساں ہوں گے۔

خلا سے زمین کو دیکھ کر انہیں خود کو چھوٹا محسوس نہیں ہوا، بلکہ جواب دہ محسوس ہوا۔

کیونکہ جب یہ بات دل سے سمجھ میں آ جائے کہ ہم سب کائنات میں ایک ہی نازک خلائی جہاز پر سوار ہیں، تو “ہم اور وہ” کا تصور خاموشی سے مٹ جاتا ہے—اور اس کی جگہ ایک اٹل حقیقت لے لیتی ہے:

ہم سب ایک ہیں۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Pakpattan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Canal Offices Pakpattan
Pakpattan
57400