🇵🇰 پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
IYI Online Store
Message us in Messenger or Instagram
IYI Online Store سے رابطہ کرنے کا شکریہ
ہم آرڈر پر اسلامک/ترکش/انگلش طرز تلواریں/چاقو، بناتے ہیں اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو رابطہ کریں
Swords / Knives / Axes / Costumes / Archery / Slingshots /Self Defence Gadgets.
12/08/2026
خواتین میں سب سے بہترین اور حقیقی کردار کس نے نبھایا ؟؟؟ میرے خیال سے حائمہ حاتون۔ آپ اپنی رائے دیں
09/08/2026
کہاں وہ وقت کہ عربوں اور ترکوں کی مخاصمت کے نتیجے میں ترکوں کی سلطنت عثمانیہ ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور مسجد اقصی برطانوی قبضے میں چلی جاتی ہے اور کہاں یہ قبول دعاؤں جیسا منظر کہ وہی عرب اور ترک پاکستان کے ساتھ مل بیٹھے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں کہ خبردار ہم میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو دوسرے پر حملہ تصور ہو گا۔
کبھی آپ نے سوچا، وہ کون ہے جس نے یہ کر دکھایا ؟ یہ آپ کا اور میرا پیارا پاکستان ہے۔
یہ معرکہ حق کے بعد کا پاکستان ہے جس نے جنوبی ایشیا سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا، یہ وہ کوہ کنی تھی جس کے تصور سے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے لیکن پاکستان نے اللہ کے فضل سے یہ بھی کر دکھایا۔دوسروں میں اور پاکستان میں یہی فرق ہے۔
پاکستان امت میں تقسیم کا عنوان نہیں ہے۔ پاکستان امت کے لیے سراپا خیر ہے۔ ایران سے ترکیہ تک سراپا خیر خواہی کا نام پاکستان ہے۔ ایران اور عرب جنگ کی اسرائیلی سازش کو ناکام بنانے والا بھی پاکستان ہے اور ترکوں اور عربوں کو ایک کرنے والا بھی پاکستان ہے۔
ہماری قوم کو ابھی تک یہ اندازہ ہی نہیں کہ پاکستان نے معرکہ حق میں کیسی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ اسی کامیابی کے ثمرات ہیں کہ روٹھے روٹھے سے بھائی ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں اور اڑوس پڑوس کو بتا رہے ہیں کہ ماضی میں جو ہو گیا سو ہو گیا، اب سے ہم بھائی ہیں اور خبردار جو کسی ایک بھائی پر حملہ کیا، ایک پر حملہ ہوا تو ہم تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔
جنگ عظیم میں مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہوئی، اس کے بعد امت کی یہ دوسری بڑی انگڑائی ہے۔ پہلی انگڑائی پاکستان کا ایٹمی قوت بننا تھا، دوسری انگڑائی میثاق مکہ ہے اور میثاق مکہ کی اساس اور بنیاد وہ اعتماد ہے جو معرکہ حق نے اسلامی دنیا کو دیا ہے۔
آئی پی ایس میں ایک سیمینار ہو رہا تھا۔ بائیں بازو کے ایک دانش ور نے کہا کہ مسلم امہ کے اتحاد کی بات ایسے ہی ہے جیسے صفر جمع صفر جمع صفر۔ یہ صفریں جتنی بار بھی ایک دوسرے سے جمع ضرب ہوتی رہیں، جواب صفر ہی آئے گا۔ مرحوم حمید گل صاحب کی باری آئی تو انہوں نے کہا صفروں کو اتنا معمولی بھی نہ سمجھیں، جس روز یہ کسی 1 کے دائیں جانب جمع ہو گئیں، اس روز جمع تقسیم کا جواب صفر نہیں رہے گا۔ یہ آپ سے گنا نہیں جائے گا۔
مسلم دنیا کا اپنا ایک پوٹینشل ہے۔ یہ ایک مکمل گلدستہ ہے، بس اتنی دیر تھی کہ کسی ایک ملک کو عسکری طور طاقت ور ہونا تھا۔ یہ طاقت موجود ہے اور اس طاقت کا نام پاکستان ہے
02/08/2026
عبد اللہ بن بُسر المازنی رضی اللہ عنہ وہ صحابی جن کی عمر اتنی لمبی ہوئی کہ پہلی صدی ہجری کے اختتام کو پا لیا
ذرا تصور کیجیے کہ آپ اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک میں دے دیں، اور نبی کریم ﷺ اپنا دستِ شفقت آپ کے سر پر رکھ دیں، پھر آپ ان کے مبارک لبوں سے ایک ایسی بشارت سنیں جو تمام عمر آپ کے ساتھ سایہ بن کر رہے...
یہ وہ عظیم الشان واقعہ ہے جو ایک جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ بن بُسر المازنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا۔
آپ نے ایک طویل عمر پائی، اور اسلام کے ایسے تاریخی واقعات و حالات کا مشاہدہ فرمایا جس نے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں طویل ترین عمر پانے والے اکابر معمرین کی صف میں شامل کر دیا۔ یہاں تک کہ مشہور قول کے مطابق آپ شام کے علاقے میں وفات پانے والے سب سے آخری صحابی تھے۔
عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ کون ہیں؟
نام و نسب: آپ کا نام عبد اللہ بن بُسر بن ابی بُسر المازنی ہے۔
کنیت: آپ کی کنیت "ابو صفوان" تھی، اور ایک قول کے مطابق "ابو بُسر" بھی کہی گئی ہے۔
نسبت و مسکن: آپ کا نسب مازن بن منصور سے ملتا ہے۔ آپ کا تعلق اہل الشام سے تھا، پھر آپ نے مستقل طور پر حمص کو اپنا مسکن بنا لیا۔
ایک دلچسپ اور بابرکت نقطہ: صحابیت کی سعادت صرف ان اکیلے تک محدود نہ تھی؛ بلکہ ان کے والد بُسر، ان کی والدہ، ان کے بھائی عطیہ، اور ان کی بہن صماء (رضی اللہ عنہم اجمعین) سب کے سب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں شامل تھے۔
آپ کی ولادت اور پرورش
تاریخی مصادر میں حضرت عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ کی تاریخِ پیدائش کا کوئی دقیق اور حتمی ذکر نہیں ملتا، اسی لیے قطعیت کے ساتھ آپ کا سنِ ولادت متعین کرنا درست نہیں۔
تاہم، یہ بات یقینی اور ثابت شدہ ہے کہ آپ صغارِ صحابہ (کم عمر صحابہ) میں سے تھے اور آپ نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ ایک کمسن لڑکے (غلام) کے طور پر پایا۔
آپ کے بچپن کی ان عظیم یادوں میں سے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وابستہ رہیں، ایک ایسا واقعہ ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا...
نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ مبارک عبد اللہ کے سر پر رکھا اور ارشاد فرمایا:
«یَعِیشُ هٰذَا الْغُلَامُ قَرْنًا»
"یہ لڑکا ایک 'قرن' (طویل مدت/صدی) زندہ رہے گا۔"
یہ واقعہ ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ مروی ہے، اور بعض روایات میں وضاحت آئی ہے کہ "قرن" سے مراد سو (100) سال کی مدت ہے۔ گویا نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے سامنے اس بات کا اعلان فرما رہے تھے کہ اس بچے کی عمر دراز ہوگی اور یہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آنے والی کئی نسلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔
ایک ایسا گھرانہ جہاں رسول اللہ ﷺ نے قدم رنجہ فرمایا
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت عبد اللہ کا تعلق محض ایک سرسری یا عارضی دید کا مرہونِ منت نہ تھا، بلکہ رسول اللہ ﷺ ان کے والد محترم حضرت بُسر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس وقت دیکھا جب آپ ان کے والد کے ہاں مہمان بنے۔ آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ کھجور کھاتے اور اس کی گٹھلی اپنی دو انگلیوں کے درمیان (شہادت اور بیچ کی انگلی) رکھ کر پھینکتے جاتے۔
ظاہر میں تو یہ نہایت سادہ اور عام سی لمحات کی باتیں تھیں... لیکن حضرت عبد اللہ کے لیے یہ ایک ایسی عظیم الشان یاد بن گئیں جسے وہ اپنی پوری زندگی سمیٹے رہے۔ مزید برآں، نبی کریم ﷺ نے اس گھرانے کے لیے برکت، مغفرت اور رحمت کی خصوصی دعائیں بھی فرمائیں۔
رسول اللہ ﷺ سے حاصل کردہ ایک تربیت: ادبِ طعام
حضرت عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی جو مبارک تعلیمات اپنے ذہن و قلب میں محفوظ رکھیں، ان میں سے ایک یہ واقعہ بھی ہے کہ جب وہ کھانا کھا رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
«یَا بُنَیَّ، اذْكُرِ اللّٰهَ، وَكُلْ بَیَمِینِكَ، وَكُلْ مِمَّا یَلِیكَ»
"اے بیٹے! اللہ کا نام لو (بسم اللہ پڑھو)، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔"
>
یہ چند مختصر الفاظ ہیں... مگر یہ کھانے کے آداب کا ایک کامل و اکمل منہج (طریقہ کار) اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں، اور اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح شفقت و نرمی کے ساتھ بچوں کی تربیت فرماتے تھے اور بچپن ہی سے ان میں اعلیٰ آداب راسخ کر دیا کرتے تھے۔
عبد اللہ بن بُسر اور ایک صحابی کی عملی زندگی
حضرت عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ بڑے ہوئے اور ہمیشہ مدرسۂ نبوت کے قریب رہے۔ آپ ان بابرکت ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے دو قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں، اور رسول اللہ ﷺ سے احادیث روایت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
آپ محض احادیث کے ناقل ہی نہ تھے، بلکہ نبی کریم ﷺ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی کئی دہائیوں تک زندہ رہے؛ چنانچہ آپ اسلام کے، صحابہ کے دور سے تابعین کے دور میں منتقل ہوئے
01/08/2026
فتحِ مکہ کا وہ تاریخی دن، جب خالد بن ولیدؓ نے قریش کا آخری غرور کچل دیا! ⚔️🔥
تاریخِ اسلام کے ایک انتہائی تاریخی اور حتمی موڑ "فتحِ مکہ" (Conquest of Mecca - 8 ہجری / 630ء) کے موقع پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت اور قریشِ مکہ کے سامنا ہونے کے مکمل واقعات ۔
"حضرت خالد بن ولید کا فوج قریش سے سامنا"
"ابو سفیان کے سامنے مسلمان فوج کا عسکری مظاہرہ اور نبی پاک سے پہلی ملاقات"
یہ واقعہ اسلام کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب مکہ بغیر کسی بڑی خونریزی کے فتح ہوا، لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ کے دستے کو قریش کے بعض سرکش جنگجوؤ ں کا سامنا کرنا پڑا۔
آئیے اس واقعے کی مکمل اور مستند تاریخی تفصیلات جانتے ہیں:
۱۔ پسِ منظر: ۱۰ ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر
8 ہجری میں جب قریشِ مکہ نے صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ توڑا، تو رسول اللہ ﷺ نے 10 ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی۔
مکہ میں داخل ہونے سے پہلے، رات کو مرّالظہران کے مقام پر مسلمانوں نے الگ الگ چوہلوں پر ہزاروں آ Both روشن کیے۔ ابو سفیان بن حرب (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے) رات کو حالتِ تشویش میں شہر سے باہر نکلے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے گئے۔
۲۔ ابو سفیان کے سامنے مسلمان فوج کا عسکری مظاہرہ
رسول اللہ ﷺ کے حکم پر حضرت عباسؓ نے ابو سفیان کو ایک پہاڑی گھاٹی پر کھڑا کر دیا تاکہ وہ مکہ میں داخل ہونے والے اسلامی لشکر کے مختلف قبائل کے دستوں کا جاہ و جلال دیکھ سکیں۔
یکے بعد دیگرے مختلف قبائل (بنو سلیم، غفار، مزینہ وغیرہ) اپنے پرچوں کے ساتھ گزرتے گئے۔
آخر میں رسول اللہ ﷺ کا مرکزی اور سبز دستہ (الکتيبة الخضراء) گزرا، جس میں مہاجرین اور انصار زرہ بکتر میں ڈھکے ہوئے تھے۔
ابو سفیان اس عظیم الشان اور منظم فوجی مظاہرے کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے اور حضرت عباسؓ سے بولے: "اے عباس! تیرے بھتیجے کی بادشاہت (حکومت) تو بہت بڑی ہو چکی ہے!" حضرت عباسؓ نے فرمایا: "اے ابو سفیان! یہ بادشاہت نہیں، یہ نبوت ہے!"
اس مظاہرے نے ابو سفیان کے دل پر اسلام اور مسلمانوں کی ہیبت بٹھا دی، جس کے بعد وہ مکہ لوٹے اور قریش کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا۔
۳۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کا قریش کے لشکر سے سامنا
رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں داخلے کے لیے تمام دستوں کو امن و امان برقرار رکھنے اور جنگ نہ کرنے کی سخت ہدایت دی تھی، سوائے اس کے کہ کوئی خود پہل کرے۔ آپ ﷺ نے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کر کے مکہ میں مختلف سمتوں سے داخل ہونے کا حکم دیا:
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اسلامی لشکر کے دائیں بازو (Right Wing) کا سالار بنا کر مکہ کے نچلے علاقے (کُداء / المِعلاة) کی طرف سے داخل ہونے کا حکم دیا گیا۔
قریش کے تمام بڑے رہنماؤں نے تو ہتھیار ڈال دیے تھے، لیکن قریش کے چند سرکش افراد جیسے عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ، اور سہیل بن عمرو نے کچھ جنگجو جمع کر کے حضرت خالد بن ولیدؓ کے راستے میں مزاحمت کی کوشش کی اور مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کر دی۔
۴۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کا جوابی حملہ اور قریش کا فرار
جب قریش کے اس دستے نے تیر اندازی کر کے دو مسلمان مجاہدین (حضرت کرز بن جابر الفہریؓ اور حضرت خنیس بن خالدؓ) کو شہید کر دیا، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے دستے کو جوابی حملے کا حکم دیا۔
طوفانی جوابی وار: حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے نڈر گھڑ سواروں کے ساتھ قریش کے اس گروہ پر ایسا شدید اور فوری حملہ کیا کہ ان کا غرور خاک میں مل گیا۔
عبرتناک انجام: قریش کے تقریباً 12 سے 28 جنگجو مارے گئے اور باقی تمام لوگ (بشمول عکرمہ اور صفوان) میدان چھوڑ کر پہاڑوں اور گھروں کی طرف بھاگ گئے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ فاتحانہ انداز میں صفیں چیرتے ہوئے مکہ کے اندر تک پہنچ گئے اور مکہ کمل طور پر فتح ہو گیا۔
۵۔ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں وضاحت
جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں داخل ہو کر دیکھا کہ حضرت خالدؓ کے راستے میں کچھ تلواریں چمکی ہیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا میں نے جنگ سے منع نہیں کیا تھا؟"
جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ قریش نے پہل کی تھی اور حضرت خالدؓ پر حملہ کر کے مجاہدین کو شہید کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کا فیصلہ یہی تھا" اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے اقدام کی توثیق فرمائی۔
خلاصہ:
یہ تاریخ فتحِ مکہ کے اسی لازوال واقعے کو ظاہر کرتی ہے جہاں ابو سفیان نے اسلام کے عسکری مظاہرے کو دیکھ کر مسلمانوں کی طاقت کو تسلیم کیا، اور دوسری طرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قریش کی آخری مزاحمت کو منٹوں میں کچل کر مکہ میں توحید کا پرچم لہرانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
01/08/2026
لیجنڈ کہاں ہیں بتاؤ گائیزز یہ محترمہ کون ہے کیا نام اور۔ کردار تھا اس کا سیریز میں؟ـــــ!!!!
13/07/2026
اگر اداکاری کی بات کریں تو کس نے تاریخی کردار کے ساتھ مکمل انصاف کیا ؟؟؟
میرے خیال سے ارطغرل غازی (شروع کے حلیمہ سے عشقیہ سین نکال کر )
13/07/2026
بہت بڑی خوشخبری عثمانیوں کے لیئے بوران الپ اب نظر آئیں گے سلطان محمد فاتح میں
نیو اپڈیٹ 💥
کورولس اورحان میں بوران کا کردار نبھانے والے اداکار کے "سلطان محمد فاتح" کی کاسٹ میں شامل ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، چوتھے سیزن کے لیے پروڈکشن ٹیم اور اداکار کے درمیان ہونے والے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو مداحوں کو بہت جلد اس شاندار شمولیت کا باضابطہ اعلان سننے کو مل سکتا ہے۔
13/07/2026
حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا تڑپا دینے والا واقعہ جسے پڑھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں گے
تڑپا دینے والا واقعہ
مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری " میں ہیں ، آپ نبی ہیں ۔ جب آپکا وصال ہوجائے تو میں نبی یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی --- آدھے عرب کا معاذ اللہ میں نبی
اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے جھوٹا ہے
جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے کون لے " .. "کے جائے گا یہ خط اس کتاب کے دربار میں
آپ اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے ۔ ایک صحابی تھے چابڑی فروش سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - - - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کچھور کھا رہے تھے فتافت اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا
حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا " جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ایک صحابی کہنے لگے اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے " . بڑی جلدی ہے تجھے " " بولنے کی
مسکرا کے کہنے لگے اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گئی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے " ... (اللہ اکبر)
حضور ﷺ نے اپنا نیزہ دیا گھوڑا دیا اور فرمایا ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر " وہ صحابی عقیدت سے ناظرین چھکا کہنے لگے محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں
صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلا جیسے کوئی جرنیل نکلتا ہے اسکا انداز ہی بدل گیا اس کے طور طریقے بدل گئے وہ یوں نکلے جیسے کوئی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گئے، وہاں ایک شخص جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے
وہ صحابی جن کا نام حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا
مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے ۔ کون بو "
آپ نے غراتے ہوئے فرمانے لگے تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا " نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہے کہ نبی ﷺوالے ہے ، تجھے پتہ نہیں چلا
میں کون ہوں
" مسلمہ کہنے لگا .. کیسے آئے ہو ؟
بے نیازی سے فرمایا یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔
بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے. ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ ۔ " پڑھو " . جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا : " تو کذاب ہے
یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی حضرت حبیب بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگئیں سامنے
تیرے نبی نے مجھے کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے " ؟؟ حبيب بن زيد مسكرا کے فرمانے لگے
خیال والی بات ہی کوئی نہیں جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے۔ تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا
مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سیاہی میرے پہرے دار " تلواریں نیزے خنجر تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں
حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے
میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہے جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا میں جب رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں جو جی 11 میں آتا ہے کر غلام محمد ﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے
مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا اب بول اب تیرا کیا خیال ہے ؟؟؟ " آپ فرمانے لگے
تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک " سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا
مسلمہ نے پھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیا کہنے لگا میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا " آپ فرمانے لگے
تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہے جو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی " دعا بی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے
مسلمہ کذاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا " میں تیری گردن کاٹ دونگا " حبیب بن زید فرمانے لگے
" کانٹتا کیوں نہیں
روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانیے تھے ۔
تلوار چلایی گردن کٹ گئی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آئے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا " یا رسول اللہ کیا ہوا
فرمایا
میرا حبیب شہید ہو گیا ہے اور رب کریم نے اس کے لئے " "جنت کے سارے دروازے کھول دئے ہیں
12/07/2026
اسلام کا وہ ماسٹر مائنڈ جس نے بغیر تلوار اٹھائے 10,000 کا لشکر تباہ کر دیا! ⚔️🔥
یہ داستان غزوۂ خندق (شوال ۵ ہجری) کے اس نازک ترین موڑ کی ہے جب ایک اکیلے شخص کی ذہانت، عسکری چال اور نفسیاتی جنگ نے کفر کے اس مہیب اتحاد (احزاب) کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ آئیے اس حیران کن واقعے کی مکمل اور سچی تاریخ جانتے ہیں:
۱۔ پسِ منظر: جب مدینہ چاروں طرف سے گھِر چکا تھا
غزوۂ خندق کے وقت مدینہ کے باہر قریش اور غطفان کا ۱۰ ہزار کا لشکر کھڑا تھا اور اندر سے غدار یہودی قبیلے بنو قریظہ نے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کمل پلان بنا لیا تھا۔ مسلمان شدید بھوک، سردی اور خوف کے سائے میں دوہرے محاصرے میں پھنس چکے تھے
۲۔ حضرت نعیم بن مسعودؓ کی اچانک آمد اور خفیہ اسلام
ایسے مایوس کن حالات میں، دشمن کے لشکر (قبیلہ غطفان) کے ایک انتہائی ذہین اور معزز سردار حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دل میں اللہ نے اسلام کا نور پیدا کر دیا۔ وہ رات کے اندھیرے میں محاصرے کو چیرتے ہوئے چپکے سے خندق پار کر کے رسول اللہ ﷺ کے خیمے میں پہنچے۔
انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں مسلمان ہو چکا ہوں، لیکن میری قوم (غطفان) اور قریشِ مکہ کو میرے اسلام لانے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ میں اس وقت کفر کے لشکر میں کمل قابلِ اعتماد مانا جاتا ہوں، آپ مجھے جو حکم دیں میں تعمیل کے لیے حاضر ہوں"۔
رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر تاریخ ساز جملہ ارشاد فرمایا، جو آج بھی دنیا بھر کی ملٹری اکیڈمیز میں پڑھایا جاتا ہے:
"الْحَرْبُ خُدْعَةٌ" (جنگ ایک چال یا تدبیر کا نام ہے)
آپ اکیلے ہو، اگر جا کر دشمنوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا سکتے ہو تو ضرور کرو، تاکہ مسلمانوں پر سے یہ دباؤ کم ہو۔
۳۔ وہ الٰہی چال جس نے دشمنوں کو آپس میں لڑوا دیا
حضرت نعیم بن مسعودؓ نے ایک بہترین مائنڈ گیم (Mind Game) کھیلا۔ چونکہ ان کے تعلقات مکہ کے قریش، غطفان اور مدینہ کے غدار یہودیوں (بنو قریظہ) تینوں سے بہت گہرے تھے
پہلا قدم: بنو قریظہ (یہودیوں) کے پاس آمد
وہ سب سے پہلے اپنے پرانے دوستوں یعنی بنو قریظہ کے قلعے میں گئے۔ انہوں نے ہمدرد بن کر یہودیوں سے کہا:
"دیکھو! قریش اور غطفان تو باہر سے آئے ہیں، اگر وہ جنگ ہار گئے تو آرام سے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے، لیکن تم تو مدینہ کے اندر رہتے ہو، اگر قریش چلے گئے تو محمد (ﷺ) اور مسلمان تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ اس لیے میری مخلصانہ رائے یہ ہے کہ جب تک قریش اور غطفان اپنے کچھ بڑے سردار بطور 'ضمانت' (Hostages) تمہارے قلعے میں نہ بھیج دیں، تب تک تم مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع مت کرنا، ورنہ تم اکیلے پھنس جاؤ گے"۔ یہودیوں کو یہ بات بہت منطقی لگی اور انہوں نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
دوسرا قدم: قریشِ مکہ (ابو سفیان) کے پاس آمد
یہاں سے نکل کر حضرت نعیمؓ قریش کے سردار ابو سفیان کے پاس پہنچے اور رازدارانہ انداز میں کہا:
"مجھے اندر کی ایک پکی خبر ملی ہے کہ یہودی (بنو قریظہ) مسلمانوں کے ساتھ غداری کرنے پر پچھتا رہے ہیں اور انہوں نے محمد (ﷺ) کو راضی کرنے کے لیے ایک خفیہ معاہدہ کیا ہے۔ وہ تم سے ضمانت کے طور پر تمہارے کچھ معزز سردار مانگیں گے اور جیسے ہی تم وہ سردار ان کے حوالے کرو گے، وہ ان کے سر کاٹ کر محمد (ﷺ) کو تحفے میں دے دیں گے۔ اس لیے اگر یہودی تم سے کوئی بھی آدمی مانگیں، تو ہرگز مت دینا"۔ ابو سفیان یہ سن کر چونک گیا اور اس کے دل میں یہودیوں کے لیے شک پیدا ہو گیا۔
تیسرا قدم: اپنے قبیلے (غطفان) کے پاس آمد
آخر میں وہ اپنے قبیلے غطفان کے پاس گئے اور وہاں بھی یہی بات دہرائی کہ یہودی غداری کر رہے ہیں، ان پر بھروسہ مت کرنا۔
۴۔ پانسہ پلٹ گیا: کفر کا اتحاد پاش پاش
اگلے ہی دن ابو سفیان نے یہودیوں کو پیغام بھیجا کہ "اب محاصرے کو بہت دن ہو گئے، چلو مل کر مسلمانوں پر کمل حملہ کرتے ہیں"۔
یہودیوں نے آگے سے جواب دیا: "آج ہفتے (Saturday) کا دن ہے، ہم اس دن جنگ نہیں کرتے۔ اور ویسے بھی جب تک آپ اپنے کچھ بڑے سردار ضمانت کے طور پر ہمارے پاس نہیں بھیجتے، ہم جنگ میں حصہ نہیں لیں گے"۔
یہ سنتے ہی ابو سفیان اور غطفان کے سردار پکار اٹھے: "خدا کی قسم! نعیم بن مسعود نے ہمیں بالکل سچی خبر دی تھا، یہودی واقعی غدار ہیں اور ہمارے بندے مروانا چاہتے ہیں!"۔ ادھر یہودیوں نے جب دیکھا کہ قریش بندے دینے سے صاف مکر گئے ہیں، تو وہ بولے: "نعیم نے سچ کہا تھا، قریش ہمیں اکیلا چھوڑ کر بھاگنے کا پلان بنا رہے ہیں"۔
۵۔ انجام: بغیر لڑے فتح
حضرت نعیم بن مسعودؓ کی اس ایک چال نے دشمنوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ ایسا توڑا کہ وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔ ان کا الائنس (Alliance) کمل طور پر تباہ ہو گیا اور وہ آپس میں ہی لڑنے جھگڑنے لگے۔ اسی دوران اللہ نے وہ تیز آندھی بھیجی جس کا ذکر ہم نے پہلے کیا تھا، اور دشمن ذلیل و خوار ہو کر راتوں رات بھاگ کھڑا ہوا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Address
Multan