14/06/2026
غزوۂ طائف اسلامی تاریخ کے اہم عسکری واقعات میں شمار ہوتا ہے، جہاں مسلمانوں کو بنو ثقیف کے مضبوط قلعے اور بلند فصیلوں کا سامنا تھا۔ قلعے کی مضبوطی کے باعث اسے فتح کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، جس کے لیے حکمتِ عملی اور تدبیر کی ضرورت تھی۔
تاریخی روایات کے مطابق اس موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ کی رائے سے مسلمانوں نے محاصرے کے دوران **منجنیق** (پتھر پھینکنے والی مشین) کا استعمال کیا۔ یہ اُس دور کی معروف جنگی ٹیکنالوجی میں سے ایک تھی، جس کے ذریعے قلعوں کی دیواروں اور دفاعی حصاروں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی قیادت میں مسلمان صرف شجاعت اور ایمان پر ہی انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ حالات کے مطابق مؤثر تدابیر اور دستیاب وسائل سے بھی فائدہ اٹھاتے تھے۔ اسلام نے ہمیشہ حکمت، مشاورت اور جائز ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
غزوۂ طائف کا یہ پہلو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی کے لیے ایمان کے ساتھ ساتھ تدبیر، منصوبہ بندی اور حالات کے مطابق درست فیصلے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ یہی توازن ابتدائی اسلامی معاشرے کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک تھا۔
**ڈسکلیمر:**
یہ تحریر تاریخی روایات اور سیرت کی کتب میں مذکور واقعات کی بنیاد پر دینی و تعلیمی مقصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔ بعض جزوی تفصیلات کے بارے میں تاریخی مصادر میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم غزوۂ طائف اور منجنیق کے استعمال کا ذکر متعدد سیرت و تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے
13/06/2026
📜کراسی بیلک کا زوال اور عثمانیوں کی تاریخی فتح ⚔️🏰
دَمیر خان، دُرسُن بے اور سلطان اورحان غازی کی عظیم پیش قدمی 👑⚔️
اناطولیہ کی ابتدائی ترک تاریخ میں **کراسی بیلک (Karasi Beylik)** ایک اہم ترک ریاست تھی، جو بازنطینی سرحدوں پر قائم ہوئی اور ایک عرصے تک اپنی عسکری طاقت کی وجہ سے نمایاں رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اندرونی اختلافات، حکمرانوں کے درمیان کشمکش اور سیاسی تقسیم نے اس ریاست کو کمزور کر دیا، جس کے نتیجے میں عثمانی ریاست کو اس خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کا موقع ملا۔ 🏰⚔️
---کراسی بیلک کی تقسیم اور اقتدار کی کشمکش ⚔️**
کراسی بے کے انتقال کے بعد ریاست دو اہم حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے بعد دو حکمران نمایاں ہوئے:
⚔️ دَمیر خان (Demir Khan)
⚔️ یاخشی خان (Yakhshi Khan)
دَمیر خان بالک حصار (Balıkesir) کے علاقے پر حکمرانی کرتا تھا، جبکہ یاخشی خان برگامہ (Pergamos) کے علاقے کا حکمران تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق دونوں کو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے بھائی سمجھا جاتا ہے۔
دَمیر خان کو غالباً بڑا حکمران سمجھا جاتا تھا، کیونکہ بازنطینی سلطنت کے ساتھ معاہدے اور سفارتی معاملات طے کرنے کا اختیار اسی کے پاس تھا۔ 📜
---
دَمیر خان اور بازنطینی سلطنت کے ساتھ تعلقات ⚔️🤝
دَمیر خان نے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے بازنطینی علاقوں پر دباؤ جاری رکھا۔ اس کی فوجوں نے قیزیکس (Cyzicus) کے اطراف میں کارروائیاں کیں، جبکہ اس کی بحری طاقت نے بحیرہ مرمرہ کے ساحلی علاقوں میں بھی حملے کیے۔ 🚢⚔️
1328ء میں بازنطینی شہنشاہ **اینڈرونیکوس سوم (Andronikos III)** نے دَمیر خان سے ملاقات کی اور دونوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ 🤝
بعد میں 1333ء میں مشہور مسلمان سیاح **ابن بطوطہ** نے دَمیر خان سے ملاقات کی۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں اس کے بارے میں کچھ منفی تاثرات بھی بیان کیے اور ذکر کیا کہ اس کی عوام میں مقبولیت کم تھی۔ 📖
---
# **کراسی خاندان کے اندر اختلافات ⚔️👑**
کراسی ریاست کے اندر اقتدار کی جنگ نے اسے مزید کمزور کر دیا۔ حکمران خاندان کے افراد کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے اور سیاسی صورتحال بدلتی رہی۔
اسی دوران **سلیمان بے (Suleiman Bey)** کا ذکر بھی ملتا ہے، جو بازنطینی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی شدہ تھا۔ وہ بازنطینی سیاسی معاملات میں بھی شامل رہا، لیکن بدلتے حالات کے باعث کراسی قوتیں مختلف اتحادوں میں شامل ہوتی رہیں۔ 🏰
آخرکار اندرونی کمزوریوں نے کراسی بیلک کی طاقت کو متاثر کیا اور عثمانیوں کے لیے راستہ ہموار ہوا۔ ⚔️
---
# **دُرسُن بے اور سلطان اورحان غازی کا اتحاد ⚔️🐺👑**
کراسی ریاست کے زوال کے دوران کراسی خاندان کے ایک شہزادے **دُرسُن بے (Dursun Bey)** نے عثمانی دربار سے رابطہ کیا۔
عثمانی مؤرخین کے مطابق دُرسُن بے نے **سلطان اورحان غازی** کو مشورہ دیا کہ اگر عثمانی لشکر مغربی اناطولیہ کی طرف پیش قدمی کریں تو کراسی کے علاقوں کو ایک مضبوط اور منظم حکومت کے تحت لایا جا سکتا ہے۔ 🏹
سلطان اورحان غازی نے اپنی دور اندیشی اور عسکری حکمت عملی کے ذریعے اس موقع کو استعمال کیا۔ عثمانی لشکر مغرب کی جانب بڑھے اور مختلف علاقوں میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے کراسی کے خطے تک پہنچے۔ ⚔️🔥
---
# **کراسی بیلک کی عثمانی ریاست میں شمولیت 🏰👑**
عثمانی روایات کے مطابق 1335ء کے قریب **سلطان اورحان غازی** نے کراسی کے علاقوں کو فتح کیا اور انہیں عثمانی ریاست کا حصہ بنا دیا۔ یہ کامیابی عثمانیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہوئی۔ 🐺⚔️
اس فتح کے بعد عثمانیوں کو:
🏰 نئے علاقے حاصل ہوئے
⚔️ تجربہ کار جنگجوؤں کی قوت ملی
🚢 بحری سرگرمیوں کے لیے اہم راستے ملے
🌍 مغربی اناطولیہ میں مضبوط بنیاد حاصل ہوئی
کراسی کے علاقے عثمانی شہزادے **سلیمان پاشا** کے انتظام میں دیے گئے، جس سے عثمانی نظام حکومت اس خطے میں مزید مضبوط ہوا۔ 👑
---
تاریخی اختلافات
جدید مؤرخین کراسی خاندان کے افراد کے ناموں اور رشتوں کے بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں۔ کچھ مؤرخین کے مطابق دَمیر خان، یاخشی خان اور اَجلان جیسے نام ایک ہی خاندان کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ کچھ انہیں الگ شخصیات قرار دیتے ہیں۔
لیکن تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ کراسی بیلک کی اندرونی کمزوری نے عثمانیوں کے عروج میں اہم کردار ادا کیا۔ 📚
---
# **تاریخ کا فیصلہ: کراسی کی فتح اور عثمانیوں کا عروج ⚔️🐺👑**
کراسی بیلک کی فتح سلطان اورحان غازی کے دور کی ایک اہم کامیابی تھی۔ اس نے عثمانی ریاست کو مزید مضبوط کیا اور مستقبل میں یورپ کی طرف عثمانیوں کی عظیم پیش قدمی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ 🏰🌙
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ عثمانی ریاست صرف جنگوں سے نہیں بلکہ بہترین حکمت عملی، مضبوط قیادت اور سیاسی بصیرت کے ذریعے ایک عظیم سلطنت بنی۔ ⚔️🔥
13/06/2026
کورلوس اورحان کے آخر ميں دکھايا گيا شہزادہ کون؟
سلطان محمد اوّلؒ- عثمانی سلطنت کا دوسرا بانی🔥
1413…عثمانی سلطنت بکھر چکی تھی۔ ⚔️
جنگِ انقرہ کے بعد سلطنت کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ شہزادے آپس میں تخت کے لیے لڑ رہے تھے، بلقان کی عیسائی ریاستیں دوبارہ آزادی حاصل کر رہی تھیں، اور اناطولیہ میں منگولوں کا خوف ابھی تک باقی تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ عثمانیوں کا دور ختم ہونے والا ہے۔
مگر انہی تاریک حالات میں ایک شہزادہ اُبھرا… 🔥
محمد چلیبی ⚔️
جب محمد چلیبی نے اپنے تمام بھائیوں کو شکست دے کر 1413 میں Edirne (ادرنہ) میں تاج پہنا، تو وہ صرف ایک سلطان نہیں بنے تھے… بلکہ ایک ٹوٹی ہوئی سلطنت کی آخری امید بن چکے تھے۔
اُن کے سامنے ایک تباہ حال ریاست تھی۔
اناطولیہ جنگوں سے برباد ہو چکا تھا…
بلقان کے کئی علاقے عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل چکے تھے…
بازنطینی، سرب، بلغاری اور والاچین حکمران تقریباً آزاد ہو چکے تھے…
اور یورپی طاقتیں یہ سمجھنے لگی تھیں کہ عثمانی سلطنت اب دوبارہ کبھی کھڑی نہیں ہو سکے گی۔ ⚠️
محمد اوّل نے بہت جلد سمجھ لیا کہ صرف تلوار کے زور پر سلطنت کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے اُنہوں نے اپنے والد بایزید یلدرم کی طرح مسلسل جنگوں کے بجائے سیاست، سفارت کاری اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔ 🤝
انہوں نے دارالحکومت Bursa سے منتقل کر کے دوبارہ Edirne بنا دیا تاکہ بلقان پر عثمانیوں کی گرفت مضبوط رکھی جا سکے۔ یہ فیصلہ دراصل ایک واضح پیغام تھا:
# # عثمانی ابھی ختم نہیں ہوئے تھے… ⚔️🔥
بلقان میں صورتحال انتہائی نازک تھی۔ سربیا، والاچیا، بازنطینی سلطنت اور بلغاری حکمران تقریباً آزاد حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ دوسری طرف ہنگری اور وینس بھی بلقان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتے تھے۔
محمد اوّل نے ابتدا میں طاقت کے بجائے سیاسی حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے بعض علاقوں میں فوجی مہمات ضرور بھیجیں، مگر اُن کی اصل توجہ سلطنت کو اندر سے مضبوط بنانے پر تھی۔
عثمانی افواج نے دوبارہ البانیہ کے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ بوسنیا کے حکمران Tvrtko II اور کئی مقامی سردار دوبارہ عثمانیوں کے باج گزار بن گئے۔ ⚔️
محمد اوّل نے یورپی طاقتوں کے ساتھ غیر ضروری جنگوں سے بچنے کی کوشش کی۔ اُن کے دور میں وینس کے ساتھ صرف ایک مختصر جنگ ہوئی، مگر سلطان جانتے تھے کہ سلطنت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔
لیکن اصل خطرہ باہر نہیں… اندر تھا۔ ⚠️
جنگِ انقرہ اور خانہ جنگیوں نے عثمانی معاشرے کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ غربت بڑھ چکی تھی، عوام بے چینی کا شکار تھے، اور کئی مذہبی و سیاسی گروہ سلطنت کے خلاف اُبھرنے لگے تھے۔
1416 میں Dobruja کے علاقے میں ایک خطرناک بغاوت پھوٹ پڑی۔ اس بغاوت کی قیادت مشہور صوفی عالم اور مفکر:
# # شیخ بدرالدین 🔥
کر رہے تھے۔
شیخ بدرالدین ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ وہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کو ایک نظام کے تحت اکٹھا کرنے کی بات کرتے تھے۔ وہ غریب کسانوں، خانہ بدوشوں اور نچلے طبقے کے حقوق کی حمایت کرتے تھے، جبکہ عثمانی امرا، تاجروں اور سرکاری اشرافیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
جلد ہی اُن کی تحریک نے ایک عوامی انقلاب کی شکل اختیار کر لی۔ ⚔️
عثمانی سلطنت کے لیے یہ ایک بہت بڑا خطرہ تھا، کیونکہ اگر یہ بغاوت کامیاب ہو جاتی تو سلطنت دوبارہ خانہ جنگی میں ڈوب سکتی تھی۔
محمد اوّل نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔
عثمانی فوج نے بغاوت کو کچل دیا، شیخ بدرالدین گرفتار ہوئے، اور بعد میں اُنہیں سزائے موت دے دی گئی۔ اس بغاوت کے خاتمے کے ساتھ ہی سلطان نے سلطنت کے اندرونی استحکام کو دوبارہ بحال کرنا شروع کر دیا۔ ⚡
اسی دوران Wallachia کے حکمران Mircea نے بھی عثمانیوں کے خلاف سر اٹھانے کی کوشش کی اور Dobruja پر قبضہ کر لیا۔ مگر محمد اوّل نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو دوبارہ عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا۔ انہوں نے Giurgiu کے اہم قلعے پر قبضہ کیا اور Wallachia کو ایک بار پھر عثمانیوں کا باج گزار بنا دیا۔ ⚔️🔥
محمد اوّل نے اپنی باقی زندگی عثمانی سلطنت کو دوبارہ منظم کرنے میں صرف کر دی۔ انہوں نے فوج، حکومت، خزانہ اور انتظامیہ کو دوبارہ مضبوط بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر سلطنت کو دوبارہ عظیم بنانا ہے تو پہلے اُس کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے مؤرخین محمد اوّل کو:
# # “عثمانی سلطنت کا دوسرا بانی”
کہتے ہیں۔ 🌍
کیونکہ اُنہوں نے ایک ایسی سلطنت کو دوبارہ زندہ کیا جو تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
11/06/2026
اورحان کی آخری قسط کیسی لگی ؟؟؟
1. زبردست
2.اچھی
3.بس ٹھیک
09/06/2026
آخری قسط کے دوسرے ٹریلر کی زبردست تصویری جھلکیاں!!!
آخر کار جاتے ،جاتے فاطمہ اور فلاویوس کی شادی ہو ہی گئی ،😁😁😁
07/06/2026
اگر اورحان کا دوسرا سیزن آئے اور ہیرو پرانے والا اورحان ہو تو کیا ڈرامہ کامیاب رہےگا ؟؟؟ یا اور بھی عوامل ہوں گے؟
07/06/2026
میں سوچ رہا ہوں اورحان ڈرامے کی حالت کے بعد ارطغرل اور عثمان دوبارہ سے دیکھوں
کیا خیال ہے آپکا؟
07/06/2026
🚨🔥 بریکنگ اپڈیٹ! آخرکار سچ سامنے آگیا! 😱⚔️
کیا پرانا اورہان بے واقعی واپس آ رہا ہے؟
🔥 کیا سیزن 2 کی تیاری شروع ہو چکی ہے؟
🤔 اور کیا مداحوں کو جلد بڑی خوشخبری ملنے والی ہے؟
قسط 26 کے بعد مداحوں کے درمیان سب سے زیادہ بحث سیزن 2 اور پرانے اورہان بے کی واپسی کے بارے میں ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں، جس نے مداحوں کا جوش مزید بڑھا دیا ہے۔ ❤️⚔️
🏰 اس قسط میں ایورانوس کے بارے میں حیران کن حقیقت سامنے آئی، جبکہ اورہان بے کی حکمتِ عملی، جانشینی کے راز، اور آنے والی تاریخی جنگ کی تیاریاں بھی ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
🔥 مداحوں کا ماننا ہے کہ اگر آخری قسط کی ریٹنگ توقعات سے زیادہ رہی تو سیزن 2 کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں مزید اپڈیٹس سامنے آ سکتی ہیں۔ 👑❤️
😳 لیکن سب سے بڑا سوال اب بھی باقی ہے...
❓ کیا پرانا اورہان بے واقعی واپس آئے گا؟
❓ کیا سیزن 2 مداحوں کی توقعات پر پورا اترے گا؟
❓ اور کیا آنے والی کہانی پہلے سے بھی زیادہ دھماکے دار ہوگی؟
👇 مکمل تفصیل جاننے کے لیے ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں!
💬 کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں:
"کیا آپ سیزن 2 کا انتظار کر رہے ہیں؟"
❤️🔥 ویڈیو پسند آئے تو لائک، شیئر اور فالو کرنا مت بھولیں۔
07/06/2026
گھوڑا
سب سے پہلے گھوڑے پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سواری فرمائی۔ آپ سے پہلے یہ وحشی اور جنگلی چوپایہ تھا اسلئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ گھوڑے کی سواری کرو کیونکہ یہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی میراث ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ کو بیویوں کے بعد سب سے زیادہ گھوڑا محبوب تھا حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ گھوڑا میدان جنگ میں تسبیح پڑھتا ہے ["سبوح قدوس رب الملئكة والروح]
حضور ﷺ کے پاس چند گھوڑے تھے جن پر آپ ﷺ سواری فرمایا کرتے تھے منقول ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ کون کون سی سواریاں آپکو پسند ہیں؟
تو آپ نے فرمایا کہ گھوڑا اور گدھا اور اونٹ
کیونکہ گھوڑا اولوالعزم رسولوں کی سواری ہے
اونٹ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب و حضرت محمد ﷺ کی سواری ہے اور گدھا حضرت عیسٰی اور حضرت عزیر علیہا السلام کی سواری ہے اور میں کیوں نہ اس چوپائے یعنی (گدھے) سے محبت رکھوں جس کو مرنے کے بعد اللَّه تعالٰی نے زندہ فرمایا
📓(تفسیر روح البیان، ج ۵، ص ۱۱- ۱۰ (ملgخصاً) پ١٤ ، النحل: 8)
07/06/2026
"کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
"کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ ﷺ کا دینِ حسن رہ جائے گا
نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشانِ پنجتن رہ جائے گا"
کے پیچھے ایک عظیم قربانی، عشقِ رسول ﷺ اور حریتِ وطن کی لازوال داستان چھپی ہے۔
پس منظر اور تاریخی حقیقت
1857ء کی جنگِ آزادی میں مولانا سید کفایت علی کافیؒ مرادآبادی ایک نمایاں کردار کے طور پر سامنے آئے۔ آپ نہ صرف ایک جید عالم اور نعت گو شاعر تھے بلکہ عملی طور پر انگریزوں کے خلاف جہاد میں شریک رہے۔ مرادآباد میں انگریزوں کے خلاف بغاوت اور اسلامی حکومت کے قیام میں آپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے عوام میں جہادی روح پھونکی، خطبات اور فتاویٰ کے ذریعے لوگوں کو حریت اور دین کی حفاظت کے لیے ابھارا۔
جب انگریزوں نے مرادآباد پر دوبارہ قبضہ کیا تو مولانا کافیؒ کو ایک مخبر کی اطلاع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر بغاوت اور انگریز حکومت کے خلاف عوام کو اکسانے کا الزام لگا۔ مقدمہ صرف دو دن میں مکمل ہوا اور 6 مئی 1858ء (22 رمضان المبارک) کو مرادآباد کے چوک میں عوام کے سامنے پھانسی دے دی گئی۔
شعر کی معنوی گہرائی
پھانسی کے وقت مولانا کافیؒ کی زبان پر یہ اشعار جاری تھے۔ ان اشعار میں انہوں نے وقت کے جابر حکمرانوں کو پیغام دیا کہ دنیا کی ہر طاقت، ہر سلطنت اور ہر بادشاہت مٹ جائے گی، مگر رسول اللہ ﷺ کا دین اور اہلِ بیتؑ کی محبت قیامت تک باقی رہے گی۔ یہ اشعار نہ صرف عشقِ رسول ﷺ کی گواہی ہیں بلکہ حریتِ فکر، استقلال اور ایمان کی پختگی کا اظہار بھی ہیں۔
ان اشعار کے ذریعے مولانا کافیؒ نے اپنے قاتلوں اور سامعین کو یہ پیغام دیا کہ ان کی موت وقتی ہے، مگر جس مقصد کے لیے وہ جان دے رہے ہیں — یعنی دینِ محمدی ﷺ اور اہلِ بیتؑ کی عظمت — وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ اشعار آج بھی اہلِ ایمان کو حوصلہ دیتے ہیں کہ باطل کی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر حق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
مکمل کلام ملاحظہ فرمائیں۔
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
شاعر: کفایت علی مراد آبادی
کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہﷺ کا دین حسن رہ جائے گا
ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں ہو تم
اس تن بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا
نام شاہان جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشان پنجتن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحب لو لاکﷺ کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک
نعت حضرتﷺ کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا