27/07/2026
شان مسعود💚
پاکستان کے سابق کپتان شان مسعود نے ویسٹ انڈیز کیخلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار سنچری جڑ کر پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں مظبوط پوزیشن دلا دی۔۔
ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز 311 رنز پر اختتام پذیر ہوٸ تو دل میں ڈر تھا کہ سکور زیادہ بن گیا ہے مشکل ہو سکتی ہے اور ازان اویس کی واپسی نے اس ڈر کو مزید گہرا کیا
۔۔کپتانی جا چکی ہے عبداللہ فضل کی انجری کے چلتے میچ ملا ورنہ شاٸد شان باہر بیٹھتا ایک پر ایک آٶٹ ہوتا ہے اور وہاں پریشر کے پہاڑ تلے دبے شان نے امام کو جواٸن کیا شان شروع میں نروس ضرور تھے مگر امام کی کمال شروعات نے شان کو موقع دیا اور شان نے تیزی سے سکور بنانا شروع کیا۔۔
دونوں کے درمیان 156 رنز کی شراکت کا اختتام ہوا اور دن ختم ہونے تک کپتان بھی چل پڑے مگر شان 88 پر کھیل رہےتھے اور آج تیسرے دن شان نے اپنی ساتویں ٹیسٹ سنچری سکور کر ہی ڈالی ۔۔بلاشبہ یہ اننگز شان اور پاکستان دونوں کیلیے ہی بیحد ضروری تھی۔۔تا دم تحریر پاکستان کا سکور 244/3 ہے اور ویسٹ انڈینز برتری محض 67 رنز ہی باقی ہے آج لمبی بلے بازی کر کے تگڑی لیڈ لینی ہوگی جو کہ ہر لحاظ سے ممکن ہے۔۔میچ کی اپڈیٹ کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
17/07/2026
بکری ❤️💚
کرکٹ کی دنیا میں دور جدید کا اگر کوٸ حقیقی معنوں میں گریٹ ہے تو وہ انگلینڈ کے جو روٹ ہیں کرکٹ کے سب سے بڑے اور حقیقی فارمیٹ میں تو روٹ نے جو آگ لگاٸ ہوٸ ہے وہ سب کو پتا ہی ہے مگر بھاٸ ونڈے کرکٹ میں بھی آگ لگا رہا ہے۔۔
انگلش ٹیم سیریز کا پہلا میچ ہار چکی تھی دوسری ہار کا مطلب سیریز کا ختم ہونا اور 233 کے ہدف میں انگلینڈ پہلی ہی گیند پر ڈکٹ کو کھو دیتا ہے وہاں روٹ کی آمد ہوتی ہے اور وقفےوقفے سے ساتھ والے کھلاڑی آٶٹ ہو رہے ہیں سکور 125 تک پہنچتا ہے تو آدھی انگلش ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی جیت ابھی بھی 109 رنز دور تھی مگر جو ڈٹا ہوا تھا جیکس کے ساتھ 72 رنز کی شراکت قاٸم کی اور جب لگا کہ میچ ختم ہے تو جیکس بھی چل دیے مگر روٹ ڈٹا رہا اور آخر کار بھاٸ نے 99* کی باری کھیل کر ٹیم کی نیا پار لگا دی اور انگلینڈ میچ جیت گیااور روٹ پلیٸر آف دی میچ قرار پاۓ۔۔۔
مگر یہاں میں ایک چیز کا زکر ضرور کرونگا کہ ٹھیک ہے آپ کو اپنی زاتی ریکارڈذ کی فکر نہیں ہونی چاہیے مگر دس رنز چاہیں ٹیم سکون سے جیت رہی ہے وہاں اٹکنسن کو کسی طور پر روٹ کو سنچری سے محروم نہیں رکھنا چاہیے تھا ۔۔۔ایسے ریکارڈز روز روز نہیں بنتے کچھ کھلاڑیوں کے پورے کیریٸر نکل جاتے ہیں اور ایک سنچری نہیں بن پاتی اور آپ ایک کھلاڑی 99* پر واپس بھیج رہے ہو میں کبھی اس چیز کی حمایت نہیں کر سکتا ہاں انگلینڈ کیلیے حالات کرو یا مرو والے ہوتے تو آپ ضرور ایسا کرتے مگر ایسے حالات میں یہ حرکت مجھے بلکل پسند نہیں آٸ اور بھارتی کپتان گل نے بھی یہی کہا کہ میں وہاں ہوتا تو روٹ کی سنچری مکمل کرواتا۔۔۔دوستو آپ کی اس بارےکیا راۓ ہے ؟ کیا اٹکنسن نے ٹھیک کیا یاسنچری مکمل کروانی چاہیے تھی؟ کومنٹس میں ضرور بتاٸیں اور Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
16/07/2026
ٹوٸنٹی کا نیا ماڈل❤️
ونڈے ورلڈکپ دو ہزار ستاٸیس میں لاگو ہونے والا نیا ماڈل کل آپ کےساتھ شیٸر کیا تھا اس تحریر میں ٹوٸنٹی ورلڈکپ دو ہزار اٹھاٸیس میں لاگو ہونے والا ماڈل آپ کے ساتھ شیٸر کرونگا۔۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں آٸ سی سی کے ٹوٸنٹی فارمیٹ میں ہونے والے آخری دو ورلڈ کپ (چوبیس اور چھبیس) بیس ٹیمز پر مشتمل تھے جہاں بیس ٹیمز کو چار گروپس میں تقسیم کیا جاتا تھا اور ہر گروپ سے دو ٹیمز کوالیفاٸ کرتی تھیں جنہیں آگے چار چار کے دو گروپس میں تقسیم کیا جاتا تھا ۔۔
مگر اس ماڈل میں نیوزیلینڈ،جنوبی افریقہ اور افغانستان ہمیشہ ایک گروپ میں آتے تھے اور یوں ایک اچھی ٹیم پہلے ہی گروپ سے باہر ہو جاتی تھی ۔۔سو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ دو ہزار اٹھاٸیس کے ورلڈکپ میں ٹیمز تو اسی طرح بیس ہونگی مگر گروپس چار کی بجاۓ پانچ ہونگے اور ہر گروپ میں پانچ کی بجاۓ چار ٹیمز ہونگی ان چار میں سے دو ٹیمز اگلے مرحلے کیلیے کوالیفاٸ کریں گی یوں اگلے راٶنڈ میں دس ٹیمز کو پانچ پانچ کے دو پولز میں تقسیم کیا جاۓ گا۔۔
مگر دلچسپی ابھی ختم نہیں ہوٸ سیمی فاٸنل کیلیے پہلے تو ٹاپ ٹو ٹیمیں کوالیفاٸ کر جاتی تھیں مگر اس بار گروپ کی ٹاپر ٹیم سیمی فاٸنل میں پہنچے گی جبکہ دونوں گروپس میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمز مخالف گروپ کی دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمز سے کوارٹر فاٸنل نما میچ کھیلیں گی جو یہ میچ جیتے گا وہ سیمی فاٸنل کھیلے گا جو ہارے گا وہ باہر ہو جاۓ گا۔۔۔اس کے بعد دو سیمی فاٸنل اور پھر فاٸنل ( ویسے شکر ہے جے شاہ سرکار نے پلے آف نہیں رکھ دیا)
اس ماڈل کا بنیادی مقصد چھوٹی ٹیمز کی ورلڈکپ میں شرکت کے ساتھ ساتھ ورلڈکپ میچز کی تعداد بڑھانا اور تمام اچھی ٹیمز کو اگلے راٶنڈ میں کوالیفاٸ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔۔میرے حساب سے تو یہ اچھا ماڈل ہے باقی سیمی فاٸنل والے نظام سے اگر مگر اور کاش والا دور ختم ہو جاۓ گا کیونکہ تیسرے نمبر والی ٹیم کے پاس بھی پورا موقع ہوگا۔۔امید ہے آپ کو یہ ماڈل سمجھ آگیا ہوگا اگر نہیں آیا تو ہمارا فیسبک پیج Cricket Talks فالو کریں اور کومنٹس میں مسٸلہ بتاٸیں بھاٸ حاضر ہے۔۔
15/07/2026
گورکھ دھندہ 💚
کرکٹ کے میدان میں سب سے بڑا ایونٹ ونڈے ورلڈکپ ہوتا ہے اور اس بار جے شاہ سرکار نے اس ایونٹ کے ساتھ وہ حال کیا ہے کہ بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا کہ بھیا یہ کیا ہے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے دو ہزار ستاٸیس ورلڈکپ کیلیے آج اپنا ماڈل جاری کر دیا ہے جو کہ سمجھنا خاصا مشکل ہے تو دل تھام لیجیے۔۔
سب سے پہلے تو یہ ایونٹ 2019 اور 2023 کے برعکس دس کی بجاۓ چودہ ٹیمز پر مشتمل ہوگا مگر یہ چودہ ٹیمز سات سات کے دو پولز میں نہیں ہونگی بلکہ ۔۔
ٹاپ گیارہ ٹیمز ڈاٸریکٹ کوالیفاٸ کر جاٸیں گی جس میں گروپ اے میں چھ جبکہ بی میں پانچ ہونگی جبکہ گروپ بی کی چھٹی ٹیم پوری کرنے کیلیے آٸ سی سی رینکنگز میں 12,13 اور 14 نمبر پر موجود ٹیمز آپس میں کھیلیں گی اور جو ٹیم فاتح رہے گی وہ گروپ بی کی چھٹی ٹیم اور ایونٹ کی بارہویں ٹیم شمار ہو گی جبکہ تیرہ اور چودہ نمبر والی ٹیمز وہی کوالیفاٸر کھیل کر باہر ہو جاٸیں گی۔۔۔
اب بارہ ٹیمز کو چھ چھ کے دو پولز میں تقسیم کیا جاۓ گا جہاں سے دونوں گروپس کی ٹاپ تین تین ٹیمز اگلے مرحلے میں پہنچ جاٸیں گی یوں یہ چھ ٹیمز اگلے راٶنڈ میں ایک ہی پول میں ہونگی مگر جو چھ ٹیمز فارغ ہونگی ان میں رن ریٹ یا پواٸنٹس کے حساب سے (دونوں گروپس میں ) جو ٹیم سب سے اوپر ہو گی اسے ان ٹاپ چھ ٹیمز کے ساتھ اگلے راٶنڈ کاٹکٹ دے دیا جاۓ گا یوں بارہ میں سے سات ٹیمز اگلے راٶنڈ جبکہ پانچ ٹیمز گھر چلی جاٸیں گی مگر یہ سات ٹیمز ایک ہی گروپ میں رہیں گی۔۔
اب سات ٹیمز آپس میں کھیلیں گی اور ٹاپ چار ٹیمیں سیمی فاٸنل کھیلیں گی اور پھر فاٸنل ۔۔تو دوستو یہ تھا ماڈل ظاہرا عام بندے کیلیے سمجھنا تھوڑا مشکل ہے مگر کوشش کی ہے کہ آسان کر کے بتاٶں تا کہ سب کو سمجھ آ جاۓ ۔۔
یہ ماڈل بنانے کے بنیادی مقاصد میں چھوٹی ٹیمز کوایونٹ میں شریک کرنا،ورلڈکپ کے میچز کی تعداد بڑھانا اور شاٸقین کو یکطرفہ میچوں کی بوریت سے بچانا ہے۔۔۔ٹاپ سات والا گروپ مجھے بہت اچھا لگا جہاں دنیا کی سب سے بہترین سات ٹیمز ایک پول میں مزہ آۓ گا۔۔مزید اپڈیٹ کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
10/07/2026
چس آ گٸ💚
کہتے ہیں کہ جب آپ کااچھا وقت چل رہا ہوتا ہے تو راکھ میں بھی ہاتھ ڈالو تو وہ سونا بن جاتی یے جبکہ برا وقت چل رہا ہو تو اونٹ پر بیٹھے آدمی کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے بھارت کی ٹوٸنٹی ٹیم کے ساتھ لگ بھگ یہی کچھ ہو رہا ہے۔۔
دو ہزار چوبیس ورلڈکپ کی جیت کے بعد روہت اور کوہلی نے ٹوٸنٹی کرکٹ چھوڑی تو ہر کسی کو لگا کہ اب ہاردک کپتانی کی آٹومیٹک چواٸس ہونگے مگر گمبھیر نے سب کو حیران کرتے ہوۓ سوریا کمار کو کپتان بنا دیا اور اچھا وقت اتنا چل رہا تھا کہ سوریا جہاں بھی جاتے فتح ان کا مقدر بن جاتی۔۔
کبھی سری لنکا میں آخری اوور سوریا کرتے پھر بھی ٹیم جیت جاتی پھر ایشیا کپ بھی بھارت جیت گیا اور گھر میں ہونے والا ٹوٸنٹی ورلڈکپ 2026 بھی بھارت نے سہی معنوں میں ڈومینیٹ کر کے جیت لیا۔۔۔
مگر کہتے ہیں نا جب انسان کے رویے میں حد سے زیادہ اکڑ اور تکبر آ جاۓ تواوپر والا اپنی موجودگی ضرور دکھاتا ہے ۔۔گمبھیر نے اسی نشے میں مست ہو کر سوریا کو کپتانی سے ہٹایا اور شریاس کو کپتان بنا دیا تو سب کو لگا کہ اگر سوریا بطور کپتان اتنا کر گیا تو آٸیر تو آسمان چھو لے گا مگر یہاں پہ تقدیر نے اپنا کام دکھایا پہلے آٸرلینڈ میں کلین سویپ اور اب تاریخ میں پہلی بار دو میچوں سے زیادہ کی سیریز میں انگلینڈ کے ہاتھوں سیریز شکست۔۔۔
مجھے خوشی اس بات کی نہیں ہے کہ بھارت ہارا اس سے زیادہ خوشی اس بات پر ہے کہ کم از کم ان کی اکڑ تھوڑی کم ضرور ہوٸ ہے اس میں کوٸ شک نہیں ہے کہ بھارت اچھی ٹیم ہے میچز جیت رہی ہے مگر ہر میدان میں اپنی مرضی مخالف کا مزاق بنانا یہ چیزیں حد سے زیادہ تکبر کا اظہار تھا ۔۔۔بہر حال اپن کو تو بھارتیوں کا رونا دیکھ کر سہی چس آ رہی ہے آپ لوگ بھی یہ خوشیاں انجواۓ کریں اور Cricket Talks کو فالو کر دیں۔۔
09/07/2026
ہاۓ وہ دن 💚 (پارٹ 2)
پاکستان ٹیم نے مقررہ پچاس اوور میں 4 وکٹیں گنوا کر 338 رنز بناۓ اور بھارت کو اپنے ٹاٸٹل کا کامیابی سے دفاع کرنے کیلیے 339 رنز درکار تھے ۔۔پاکستان کیلیے سب سے بڑی خوشی کی خبر یہ تھی کہ کمر کی انجری کی وجہ سے سیمی فاٸنل مس کرنے والے محمد عامر مکمل فٹ ہو کر بولنگ کیلیے تیار تھے۔۔
جب بھارت کی بلے بازی شروع ہوٸ تھی تب عین افطار کا وقت تھا مگر مجال ہے جو کوٸ ٹی وی کے سامنے سے ہٹا ہو ہر بندہ اپنی افطاری سامنے رکھے ٹی وی سکرین پر نظریں جماۓ بیٹھا تھا۔۔
پاکستان ٹیم کو ایک بات کلیٸر تھی کہ اگر اس میچ کو جیتناہے توہر حال میں انڈین ٹاپ آرڈر کو اڑانا ہوگا وگرنہ یہ ہدف آرام سے چیز ہو جاۓ گا اور اسی سوچ کو لیے محمد عامر نے پہلے اوور کی تیسری گیند اندر سوٸنگ کرواٸ اور گیند سیدھا روہت شرما کے پیڈذ سے جا ٹکراٸ پیڈذ پر گیند لگتے ہی نہ صرف گراٶنڈ میں موجود گیارہ بلکہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہر پاکستانی نے اپیل کی اور امپاٸر نے انگلی کھڑی کر دی اور یوں روہت شرما بڑے فاٸنل میں بھارت کو دغا دے گۓ اور بغیر کوٸ رنز بناۓ پویلین لوٹ گۓ۔۔
روہت آٶٹ ہوۓ اور ویرات کی انٹری ہوٸ اور اننگز کے تیسرے اوور میں محمد عامر کی گیند نے چیز ماسٹر کے بلے کا کنارہ چھوا اور گیند سلپ میں موجود اظہر علی کے ہاتھوں میں گٸ یہ وہ لمحہ تھا جب پورےپاکستان اور ہندوستان کاسانس رک گیا کیونکہ یہ کیچ نہیں یہ فاٸنل تھا اور تب ناصر حسین کی آواز آٸ۔۔
" Not the man you want to drop its kohli""
یہ الفاظ جہاں ہندوستانیوں کیلیے امید کا پیغام تھے وہیں پاکستانیوں کیلیے موت کا پیغام تھا۔۔کومنٹری میں بیٹھا گنگولی بار بار اس کیچ کی اہمیت بتا رہا تھا مگر شاٸد کوٸ اور دن ہوتا تو یہ اہم ہوتا وہ دن صرف پاکستان کادن تھاجب اگلی ہی گیند پر ویرات کا لیڈنگ ایج نکلا اور گیند سیدھی پواٸنٹ پر کھڑے شاداب کے ہاتھوں میں گٸ اور کومنٹری میں بیٹھا ناصر حسین یہ تاریخی جملہ ادا کر گیا۔۔
" Not that important he's gone the next ball brilliant from amir,,Pakistan cricket at its best one minute down next minute up"
یہ صرف ناصر حسین کے جملے نہیں تھے یہ فاٸنل کا نتیجہ تھا بھارت کے دو سب سے بڑے سورما پویلین لوٹ چکے تھے اور پاکستان کو ٹرافی سامنے نظر آنے لگی تھی۔۔۔
شیکھر دھون نے یوراج سنگھ کے ساتھ مل کر اننگز بلڈ کرنا چاہی تو عامر نے انہیں بھی چلتا کر دیا ۔۔۔بھارتی مجموعہ ابھی 54 تک ہی پہنچا تھا کہ شاداب نے ایک لاجواب ریویو لے کر نہ صرف پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا بلکہ یوراج سنگھ کو بھی واپسی کا پروانہ تھما دیا تھا۔۔اگلے اوور میں دھونی کو آٶٹ کر کے حسن علی نے فاٸنل آفیشلی پاکستان کے نام لکھ دیا تھا۔۔
مجموعی سکور ابھی 72 تک ہی پہنچا تھا کہ بھارت کو جادھو کی صورت میں چھٹا صدمہ برادشت کرنا پڑا یہاں سے ہاردک نے کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا اور پاکستانی سپنرز کو پھینٹی لگانی شروع کر دی۔۔سب سے زیادہ ہاردک کے عتاب کا شکار نوجوان لیگ سپنر شاداب اور پارٹ ٹاٸمر فخر زمان ہوۓ۔۔ہاردک نے بتیس گیندوں پر نصف سنچری سکور کر کے ونڈے ٹورنمنٹ کے فاٸنل کی تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔۔
اس سے پہلے ہارددک جدیجا پاکستان کیلیے خطرہ بنتے سیفی نے پیسرز کا رخ کیا اور حسن علی کے پہلے ہی اوور میں جدیجا اور ہاردک کے درمیان رابطے کے فقدان کا شکار ہاردک ہوۓ اور وہ رن آٶٹ ہو گۓ۔۔آٶٹ ہونے سے قبل ہاردک نے تینتالیس گیندوں پر چھہتر رنز کی دھماکہ اننگز کھیلی مگر سب سے دلچسپ سین ہاردک کا آٶٹ کے بعد باٶنڈری لاٸن کو بلے سے دھونا تھا۔۔
ہاردک کی وکٹ گرتے ہی انڈین حوصلے پست ہو گۓ اگلے اوور میں جنید خان نے جدیجا کو سلپ میں کھڑے بابر کی مدد سے دھر لیا۔۔اگلے اوور کی پہلی گیند پر حسن علی نے ایشون کی زحمت تمام کر دی ۔۔156/9 ہو چکی بھارتی ٹیم کیلیے بمراہ اور بھووی نے 18 گیندوں تک مزاحمت کی مگر اکتیسویں اوور کی تیسری گیند پر حسن کے باٶنسر کو بمراہ نے سیدھا کھڑا کر دیا اور گیند سرفراز کے محفوظ ہاتھوں میں چلی گٸ اور راجہ جی چلا اٹھے۔۔
" tha's gone straight up in the air sarfraz takes the catch its all over Pakistan win"
اس کیچ کے ساتھ ہی سرفراز نے دوڑ لگا دی اور مڈ آف پر کھڑے شعیب ملک نے انہیں گلے لگا لیا اور پوری پاکستان ٹیم ان دو سینیٸر کھلاڑیوں کے گرد جشن مناتی ہوٸ جمع ہو گٸ آخر میں ساری ٹیم نے سجدہ شکر بجا لایا اور پاکستان نے یہ مقابلہ 180 رنز کے بھاری مارجن سے جیت کر چیمپیٸن ٹرافی کا ٹاٸٹل پہلی باراپنے نام کر لیا۔۔
اس میچ میں بھارت کیلیے محض ہاردک 76 ہی قابل زکر اننگز کھیل پاۓ جبکہ پاکستان کی طرف سے محمد عامر 3, حسن علی 3 اور شاداب 2 وکٹیں لے کر نمایاں رہے ۔۔۔114 رنز کی بہترین اننگز کھیلنے پر فخر کو مین آف دی میچ کاایوارڈ دیا گیا۔۔تحریر پسند آۓ تو Cricket Talks کو فالو کر دیں۔۔
09/07/2026
ہاۓ وہ دن 💚
تاریخ کے جھماکوں میں وقت کتنا تیزی سے گزرتا ہے پتا ہی نہیں چلتا پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا بہت بڑا دن جسے بیتے آج نو سال ہو چکے ہیں۔۔پاکستان ٹیم تین بڑے ایونٹ اپنے نام کر چکی ہے مگر جو ایونٹ پورا لاٸیو بال باٸ بال دیکھا وہ چیمپیٸن ٹرافی کافاٸنل تھا تو آج اس میچ کی روداد سناتا ہوں اس تحریر میں پہلی اننگز اور اگلی تحریر میں دوسری اننگز کا احوال بیان کرونگا۔۔۔
یہ 18 جون 2017 کی روشن صبح اور رمضان المبارک کا باٸیسواں روزہ تھا۔۔جب کرکٹ کے دو سب سے بڑے سورما دس سال بعد کرکٹ کے ایک اور فاٸنل میں مد مقابل ہوۓ۔۔۔میں نے صبح سے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ آج کوٸ کام نہ کہا جاۓ کیونکہ آج صرف پاکستان اور انڈیاکا میچ دیکھا جاۓ گا۔۔۔
دن اڑھاٸ بجے میچ کا آغاز ہوا تو میچ سے کچھ وقت قبل گریٹ عمران خان کی ٹویٹ آ گٸ کہ پاکستان کو پہلے بلے بازی کرنی چاہیے مگر پاکستان اس ایونٹ میں ہر بار چیز کر رہا تھا تو ڈر تھا کہ سیفی چیز پے جاۓ گا مگر شومٸ قسمت کوہلی نے ٹاس جیتا اور پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔۔۔
میچ کا تھرل اتنا زیادہ تھا کہ میرے ابو ،چاچو ،ماموں لوگ جو صرف ٹی وی پر میچ دیکھنے پر ہمیں برا بھلا کہتے تھے آج ہمارے ساتھ کرسیاں سجاۓ میچ شروع ہونے کے منتظر تھے۔۔
میچ شروع ہوا اور بھونیشور نے بہترین اوور سے شروعات کی ۔۔فخر زمان جو پاکستان کیلیے اس ایونٹ میں ٹرمپ کارڈ کے طورپر ابھرے تھے وہ واضح طور پر فاٸنل کے دباٶ میں لگ رہے تھے۔۔اور چوتھے اوور کی پہلی گیند پر بمراہ کی گیند فخر کے بلے کا کنارہ چھوتی ہوٸ دھونی کے دستانوں میں اور ہم سب نے سر پکڑ لیے کہ پروگرام تو ۔۔۔
مگر اس دن شاٸد تقدیر لکھنے والے نے پاکستان کیلیے ہی سب کچھ لکھا تھا کہ بمراہ کا پاٶں کریز سے باہر تھا اور راجہ جی کے الفاظ
"its clearly over the line and its a no ball comeback fakhar zaman"
اس فقرے نے راجہ کے ساتھ پورے پاکستان کے چہرے پر خوشیاں بکھیر دیں اور ساتھ بیٹھا گنگولی دل میں ارمان اور چہرے پے مسکان سجاۓ بیٹھا رہا اس کے بعد پہلے اظہر علی نے عمدہ سٹروکس لگا کر پریشر کم کیا اور پھر فخر نے بھی ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا اور پاکستان ٹیم اٹھارہ اوور کے اختتام تک بغیر کسی نقصان کے 100 رنز بنانے میں کامیاب ہو گٸ۔۔
بیسویں اوور کیلیے آۓ جدیجا کے اوور میں دونوں پاکستانی اوپنرز نے ففٹیاں سکور کر لیں۔۔مگر اننگز کے تٸیسویں اوور میں فخر زمان اور اظہر علی کے درمیان رابطے کے فقدان کی وجہ سے اظہر رن آٶٹ ہو گۓ اور پاکستان کی 128 رنز کی اوپننگ شراکت ٹوٹ گٸ۔۔
اب پھر ہم پاکستانی فینز کو دھڑکا لگ گیا کہ کہیں پھر کولیپس نہ ہو جاۓ کیونکہ اسی ایونٹ میں سری لنکا کے خلاف ایسا ہو چکا تھا مگر اننگز کا چھبیسواں اوور شروع ہوا اور فخر نے انڈیا کے سپنرز کی کھال ادھیڑنا شروع کر دی اگلے دو اوورز میں جدیجا اور ایشون کو تینتیس رنز لگا کر فخر بھارت پر پریشر ڈال چکا تھا ۔۔۔اننگز کے تیسویں اوور میں فخر نے ایشون کو سویپ شارٹ لگایا اور ساتھ میں سنجے منجریکر کی کومنٹری
" His first one day international hundred and what a stage to get that in"
دوسرے اینڈ پر بابر بڑے سکون سے کھیل رہے تھے جبکہ ٹیم کا سکور بتیس اوور میں 200 ہو چکا تھا جہاں کوہلی نے پانڈیا کو گیند تھماٸ اور انہوں نے 114 رنز بنانے والے فخر کو جدیجا کے شاندار کیچ کی مدد سے آٶٹ کر لیا۔۔پاکستان نے سکورنگ ریٹ کو بہتر رکھنے کیلیے نمبر چار پر حفیظ کی جگہ ملک کو بھیج دیا۔۔۔جیسے ہی ملک آۓ بابر نے ایکسلر یٹر پر پاٶں رکھ دیا اور پہلے بمراہ اور پھر ہاردک کو دو دو چوکے لگا کر رن ریٹ مینٹین رکھا۔۔شعیب نے جدیجا کے اوور میں چھکا ضرور لگایا مگر اگلے اوور میں بھونیشور کا شکار بن گۓ انہوں نے محض 12 رنز بناۓ۔۔
ملک آٶٹ ہوۓ تو اننگز کے گیارہ اوور باقی تھے اور بھارت امید کر رہا تھا کہ اب واپسی کرے گا مگر حفیظ نے آتے ہی پہلی گیند پر قدموں کا استعمال کر کے چوکا لگا کر اپنے عزاٸم کا اظہار کر دیا کہ آج اپن موڈ میں ہے۔۔سکور کا ہندسہ 267 تک پہنچا تھا کہ بابر کیدار جادھو کو چھکا لگانے کی کوشش میں 46 رنز بنا کر یوراج کا کیچ بن گۓ۔۔
پاکستان نے کپتان سرفراز کی جگہ عماد کو بلے بازی کیلیے بھیج دیا جنہوں نے حفیظ کے ساتھ ملکر جادھو کے اوور میں دو چھکے جڑ کے رن ریٹ کی کنڈلی واپس سیٹ کر دی پینتالیسویں اوور کی پہلی گیند پر حفیظ نے بھووی کو پہلی گیند پر زبردست چھکا لگایا تو رمیز کی کومنٹری ۔۔
" Oo big one from Hafeez three hundred for pakistan"
یہ الفاظ آج بھی سنیں تو گوز بمبپس آ جاتے ہیں مگر اس کے بعد انڈین پیسرز نے بہت ہی شاندار ڈیتھ بولنگ کی حفیظ اور عماد اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بڑی ہٹ نہ لگاپاۓ اگر چہ حفیظ نے چونتیس گیندوں پر ففٹی سکور کر لی مگرآخری پانچ اوور پاکستان کی منشا کے مطابق نہیں گۓ یوں پاکستان ٹیم مقررہ پچاس اوور میں چار وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بنانے میں کامیاب ہوٸ اور بھارت کو یہ میچ جیتنے کیلیے اس وقت تک کا آٸ سی سی ایونٹ کاسب سے بڑا ہدف چیز کرنا تھا۔۔
پاکستان کی طرف سے فخر 114,اظہر 59،حفیظ 57* اور بابر 46 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ بھارت کیلیے بھونیشور کمار نے دس اوورز میں 44 رنز دے کر ایک شکار کیااور وہ دن کے سٹینڈ آٶٹ گیند باز رہے۔۔۔
338 کسی بھی فاٸنل میں بہت بڑا سکور تھا مگر سامنے روہت ،کوہلی ،دھون سب اپنی زندگی کی بہترین فارم میں تھے تو تجزیہ نگار ایک تگڑے مقابلے کی پیشنگوٸ کر رہے تھے ملتے ہیں رن چیز کی اگلی تحریر کے ساتھ تب تک Cricket Talks کو فالو کردیں۔
09/07/2026
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ پیارے دوستو چیمپیٸن ٹرافی دو ہزار سترہ کی تاریخی جیت پر اٹھارہ جون کو تحریر شیٸر کرنی تھی جو کچھ مصروفیات کی وجہ سے رہ گٸ کیا خیال ہے آج آپ کے ساتھ شیٸر کر دی جاۓ؟ کومنٹس میں اپنی راۓ ضرور دیں۔۔
07/07/2026
شاہ پورزدران 💔🤲
افغانستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شاہ پور زدران انتالیس سال کی عمر میں کینسر سے جنگ لڑتے زندگی کی بازی ہار گۓ۔۔
دو ہزار نو سے دو ہزار بیس تک افغانستان کرکٹ کیلیے اسی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے شاہ پور زدران نے اسی انٹرنیشنل وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین ٹوٸنٹی اورونڈے ورلڈکپ دو ہزار پندرہ میں بھی ملک کی نماٸندگی کا اعزاز پایا۔۔
وہ عرصہ دراز سے کینسر کی بیماری سے جنگ لڑ رہے تھے اور آج اپنی انتالیسویں سالگرہ سے ایک روز قبل وہ خالق حقیقی سے جاملے ۔۔۔ہم ان کی موت پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماٸیں۔۔
07/07/2026
میرا ہیرو چلا گیا💔
میں نہ فٹ بال لور ہوں اور نہ اتنے زیادہ فٹ بال کے میچز دیکھتا ہوں مگر فٹ بال کی دنیا میں صرف ایک بندے سے عشق تھا اور وہ تھا کرسٹیانو رونالڈو اور اس کی سب سے بڑی وجہ تھی اس بندے کی پاگلوں کی طرح محنت۔۔
میرے لیے کسی بھی کھیل میں عظمت کا معیار بندے کی محنت طے کرتی ہے کیونکہ انسان کے ہاتھ میں محنت ہوتی ہے کامیابی ناکامی خدا کی زات دیتی ہے۔۔
بہت سے فٹبال لور رونالڈو میسی کے تقابل پر بحث کرتے ہیں مگر مجھے کبھی اس میں دلچسپی نہیں رہی کیونکہ میرے لیے سکل سے زیادہ محنت عظمت کا معیار ہے ۔۔سکل بھلے میسی کے پاس نیمار کے پاس زیادہ ہوگی مگر فٹبال کیلیے فٹنس جس طرح رونالڈو نے مینٹین کی اس طرح کبھی کوٸ نہیں کر پایا۔۔
اب کچھ دوست میسی کے ریکارڈز دکھاٸیں گے اس میں کوٸ شک نہیں ہے وہ عظیم ترین ہے مگر ریکارڈز میں ساتھ والوں کا بھی بہت ہاتھ ہوتا ہے میسی اور امباپے کے پاس جتنے ریکارڈز آج ہیں عین ممکن ہے یہ کسی ہلکی ٹیم میں ہوتے تو ان کے پاس یہ سب نہ ہوتا۔۔
رونالڈو اگر چہ ورلڈکپ نہیں جیت پایا مگر اس نے پوری قوم کو انسپاٸر کیا وہ پرتگال جو رونالڈو سے پہلے ہمیشہ پہلے راٶنڈ سے یا بعض دفعہ ورلڈ کپ کوالیفاٸ ہی نہیں کر پاتی تھی وہ پرتگال رونالڈو نے اس قابل بنا دی تھی کہ وہ بڑی ٹیمز میں شمار ہونے لگی تھی لوگ اس کے بارے بات کرنے لگے تھے ۔۔باقی کارنامے لکھنے بیٹھوں تو تحریر لمبی ہوجاۓ گی مگر اتنا کہونگا شکریہ اے عظیم ترین کھلاڑی تم واقعی اپنا سب کچھ دے گۓ۔۔پرتگال ہمیشہ تمہارا مقروض رہے گا۔۔مزید تحریروں کیلیے ہمارا فیسبک پیج Cricket Talks فالو کریں۔۔