07/07/2026
شاہ پورزدران 💔🤲
افغانستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شاہ پور زدران انتالیس سال کی عمر میں کینسر سے جنگ لڑتے زندگی کی بازی ہار گۓ۔۔
دو ہزار نو سے دو ہزار بیس تک افغانستان کرکٹ کیلیے اسی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے شاہ پور زدران نے اسی انٹرنیشنل وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین ٹوٸنٹی اورونڈے ورلڈکپ دو ہزار پندرہ میں بھی ملک کی نماٸندگی کا اعزاز پایا۔۔
وہ عرصہ دراز سے کینسر کی بیماری سے جنگ لڑ رہے تھے اور آج اپنی انتالیسویں سالگرہ سے ایک روز قبل وہ خالق حقیقی سے جاملے ۔۔۔ہم ان کی موت پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماٸیں۔۔
07/07/2026
میرا ہیرو چلا گیا💔
میں نہ فٹ بال لور ہوں اور نہ اتنے زیادہ فٹ بال کے میچز دیکھتا ہوں مگر فٹ بال کی دنیا میں صرف ایک بندے سے عشق تھا اور وہ تھا کرسٹیانو رونالڈو اور اس کی سب سے بڑی وجہ تھی اس بندے کی پاگلوں کی طرح محنت۔۔
میرے لیے کسی بھی کھیل میں عظمت کا معیار بندے کی محنت طے کرتی ہے کیونکہ انسان کے ہاتھ میں محنت ہوتی ہے کامیابی ناکامی خدا کی زات دیتی ہے۔۔
بہت سے فٹبال لور رونالڈو میسی کے تقابل پر بحث کرتے ہیں مگر مجھے کبھی اس میں دلچسپی نہیں رہی کیونکہ میرے لیے سکل سے زیادہ محنت عظمت کا معیار ہے ۔۔سکل بھلے میسی کے پاس نیمار کے پاس زیادہ ہوگی مگر فٹبال کیلیے فٹنس جس طرح رونالڈو نے مینٹین کی اس طرح کبھی کوٸ نہیں کر پایا۔۔
اب کچھ دوست میسی کے ریکارڈز دکھاٸیں گے اس میں کوٸ شک نہیں ہے وہ عظیم ترین ہے مگر ریکارڈز میں ساتھ والوں کا بھی بہت ہاتھ ہوتا ہے میسی اور امباپے کے پاس جتنے ریکارڈز آج ہیں عین ممکن ہے یہ کسی ہلکی ٹیم میں ہوتے تو ان کے پاس یہ سب نہ ہوتا۔۔
رونالڈو اگر چہ ورلڈکپ نہیں جیت پایا مگر اس نے پوری قوم کو انسپاٸر کیا وہ پرتگال جو رونالڈو سے پہلے ہمیشہ پہلے راٶنڈ سے یا بعض دفعہ ورلڈ کپ کوالیفاٸ ہی نہیں کر پاتی تھی وہ پرتگال رونالڈو نے اس قابل بنا دی تھی کہ وہ بڑی ٹیمز میں شمار ہونے لگی تھی لوگ اس کے بارے بات کرنے لگے تھے ۔۔باقی کارنامے لکھنے بیٹھوں تو تحریر لمبی ہوجاۓ گی مگر اتنا کہونگا شکریہ اے عظیم ترین کھلاڑی تم واقعی اپنا سب کچھ دے گۓ۔۔پرتگال ہمیشہ تمہارا مقروض رہے گا۔۔مزید تحریروں کیلیے ہمارا فیسبک پیج Cricket Talks فالو کریں۔۔
05/07/2026
کپتان بابر اعظم💚
پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کیلیے سترہ رکنی ٹیسٹ سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جس میں سب سے بڑی ہیڈ لاٸن کپتان کی تبدیلی ہے جہاں ناکامی بھرے کپتانی دور کے بعد شان مسعود کو فارغ کر کے سب کے دل کی دھڑکن بابر اعظم کو ایک بار پھر قیادت کا تاج پہنا دیا گیا۔۔
بات کی جاۓ سکواڈ کی تو ویسٹ انڈیز سیریز کیلیے سولہ رکنی سکواڈ منتخب کیا گیا جس میں سعود شکیل فٹنس کی وجہ سے شامل نہیں ہیں جبکہ دورہ انگلینڈ میں شکیل کو ٹیم میں رکھا گیا ہے مگر ان کی شرکت فٹنس سے مشروط ہوگی۔۔
بات کی جاۓ سکواڈ کی تو کوٸ بڑی تبدیلی نظر نہیں آٸ ازان اویس اور عبداللہ فضل بنگلہ دیش میں شاندار کارکردگی کی بدولت جگہ بچانے میں کامیاب رہے جبکہ داٸیں ہاتھ کے اوپننگ بلے باز اویس ظفر ،سلو لیفٹ آرم سپنر علی عثمان اور فاسٹ بولر عبید شاہ کو شاندار ڈومیسٹک کارکردگی کی بدولت پہلی بار منتخب کیا گیا۔
اب بہت بحث رہے گی کہ بابر کو کپتانی سونپنے کا فیصلہ درست ہے یا غلط تو بھاٸ لوگ ہر بندے کی اپنی راۓ ہوتی ہے میرے حساب سے بابر کا بطور ٹیسٹ قاٸد ریکارڈ اتنا برا نہیں ہے اور یہ بہت شاندار ہوجاتا اگر رمیز راجہ پچز کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ نہ کرتے ۔۔
سو میری طرف سے نیک تمناٸیں بابر کیلیے ٹیسٹ کرکٹ میں ملک کی قیادت کرنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے اور بابر کو دوسری بار یہ زمہ داری ملی ہے دعا ہے وہ اسے بخوبی نبھاٸیں سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھیں اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپیٸن شپ کے فاتح بنیں۔۔آپ کے خیال میں بابر کا کپتان بننا کیسا فیصلہ ہے؟ہر اپڈیٹ کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
04/07/2026
جیکب بیتھل ❤️
شروع شروع میں جب جیکب بیتھل کو انگلش سسٹم میں آتے دیکھا تو کافی حیرانگی ہوٸ کہ ایسا کیا ہے بندے میں جو اسے اتنا فاسٹ ٹریک کر کے ٹیم میں لایا جا رہا ہے اور یقین کریں بیتھل بغیر فرسٹ کلاس سنچری کے انگلینڈ کیلیے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکاتھا۔۔
مگر ہر گزرتا دن اس بات کی گواہی بنتا جا رہا ہے کہ کیوں بیتھل پر انگلینڈ نے اتنا بھروسہ دکھایا تھا کیوں انہیں اتنا جلدی ٹیم میں لایا گیا۔۔
اچھا کھلاڑی ہونا الگ چیز ہے سکور کر جانا الگ چیز وہ اپنے دن پر کوٸ بھی بلے باز کر دیتا ہے مگر جس میچورٹی،بہادری اور اعتماد سے بیتھل کھیلتا ہے یار حیرانی ہوتی ہے کہ اس عمر کے بچے کے پاس اتنی میچوریٹی اور اعتماد کہاں سے آیا۔۔
آپ کو اسی سال جنوری میں بیتھل کی سڈنی کے میدان پر کینگروز کے خلاف ٹیسٹ سنچری یاد ہوگی جہاں ٹیل کے ساتھ مل کر بیتھل کینگروز سے بھڑ گیا تھا یا ورلڈکپ کا سیمی فاٸنل تو نہیں بھولے ہونگے جہاں بٹلر ،سالٹ بروک سب فیل ہوۓ تھے وہاں بندہ اپنے دم پر ٹیم کو آخری گیند تک لے گیا تھا۔۔
آج کے میچ میں 190+ کا ہدف سامنے ورلڈچیمپیٸن بھارت اوپنرز جلدی آٶٹ ہو گۓ کپتان کیمیو کھیل کر چلتا بنا مگر بیتھل نے وہاں پہلے وکٹ پر قیام کیا تاکہ ٹیم پینک نہ ہو اور پھر ایک لاجواب فنش ،،،76* کی بہترین اننگز جو محض 43 گیندوں پر بنی جبکہ اسی اننگز کے پہلے اڑتیس رنز چونتیس گیندوں پر تھے یہ چیز بندے کی سمجھ داری بیان کرتی ہے۔۔بیتھل کی لاجواب اننگز سے انگلینڈ نے بھارت کو دبوچ لیا ہے اور بھارتیوں کیلیے سر پنچ صاحب کا دور تین ہار اور ایک ڈرا سے شروع ہوا ہے آگے دیکھیں کیا بنتا ہے۔۔مزید اپڈیٹس کیلیے Cricket Talks کو فالو کر دیں۔۔آپ میں سے کس کس کو میری طرح بیتھل کی اس طرح کی اننگز سٹوکس کی یاد دلاتی ہیں !؟
02/07/2026
تنقید کیوں ؟💙
کل بھارت اور انگلینڈ کی ٹوٸنٹی انٹرنیشنل ٹیمز آپس میں مدمقابل تھیں جہاں بھارتی اوپنر سنجو سیمسن ایک بار پھر فلاپ ہوگۓ اور سات گیندوں پر محض ایک رنز بنا کر پویلین لوٹ گۓ۔۔جبکہ اس سے قبل آٸرلینڈ کی سیریز کے دونوں میچز میں سنجو ناکام رہے۔۔
اب پبلک کو سنجو کا فیلیٸر اس لیے بھی زیادہ چبھ رہا ہے کیونکہ بنچ پر پندرہ سالہ سوریا ونشی بیٹھا ہوا ہے اور ہر کوٸ سوریا ونشی کو فیلڈ میں دیکھنا چاہتا ہے کچھ اس کی محبت میں کچھ اس کی نفرت میں ۔۔
اب پبلک یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ سنجو کو باہر بٹھا کر سوریاونشی کو کھلاٶ یہ بلکل سچ ہے کہ سنجو کے ابھی رنز نہیں آ رہے اور وہ مکمل فلاپ ہو رہے ہیں مگر سنجو کے پورے کیریٸر کی یہی کہانی ہے کبھی عرش پر کبھی فرش پر ۔۔۔
اب یہ تین اننگز فلاپ کھیلنے والے سنجو کی ان سے پہلے تین ٹوٸنٹی انٹرنیشنل اننگز دیکھیں تو بالترتیب 89,89 اور 97* کا سکور ہے اور وہ بھی عام میچز نہیں تھے تمام کے تمام ناک آٶٹ میچز تھے ۔۔جہاں کوارٹر فاٸنل، سیمی فاٸنل اور فاٸنل میں سنجو نے تین مختلف حریفوں کے خلاف ایسی اننگز کھیل کر نہ صرف بھارت کو ورلڈکپ جتوایا تھا بلکہ پلیٸر آف دی ٹورنمنٹ کا انعام بھی پایا تھا۔۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر اب اتنی تنقید کیوں اس کی وجہ ہے پبلک کا سٹیج نہ سمجھنا پبلک ورلڈکپ کے ناک آٶٹ میچز اور سیریز میچز کو ایک نظر سے دیکھ رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ سنجو کی وہ اننگز انڈین فلیٹ وکٹوں پر آٸ تھیں مگر جس سٹیج پر سنجو نے وہ کھیلی تھیں وہ کمال تھا اور ایسی پرفامنس لوگ پورے کیریٸر میں نہیں دے پاتے۔۔
بھاٸ لوگ یہ سچ ہے کہ بھارت آج سنجو کو باہر بٹھا دے تو ان کے پاس اتنا ٹیلنٹ ہے کہ ایسے دس آ جاٸیں گے مگر سنجو نے جو کر کے دکھایا ہے اس کے بعد وہ اتنا حقدار ہے کہ اسے فیل ہونے کے بعد بھی مواقع دیے جاٸیں بھلے سوریاونشی بینچ گرم کرتا رہے۔۔سو میرے حساب سے شریاس گمبھیر کا یہ فیصلہ بلکل سہی ہے۔۔آپ کی اس بارے میں کیا راۓ ہے کومنٹس میں ضرور بتاٸیں۔۔مزید اپڈیٹ کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
01/07/2026
اولمپکس 2028💚
اولمپکس 2028 میں پہلی بار مردوں کی کرکٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور جب سے یہ اعلان ہوا تب سے چہ مگوٸیاں ہو رہی ہیں کہ کون اس میں کھیلے گا کون نہیں کھیلے گا مگر اب آٸ سی سی نے اس کا مکمل طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔۔
سب سے پہلے تو یہ بات زہن میں رہے کہ اولمپکس کی انتظامیہ ایک مخصوص حد تک ہی ایتھلیٹس کو اجازت دیتی ہے اسی لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ایونٹ میں شریک ٹیموں کو چھ تک محدود کرنا پڑا۔۔
اب طریقہ کار یہ بنایا گیا ہے کہ ہر بر اعظم سے ایک ٹیم لی جاۓ گی اور وہ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی سالانہ رینکنگ میں اوپر نمبر پر آنے والی ہوگی۔۔یوں اکتیس دسمبر دو ہزار چھبیس تک براعظم ایشیا میں جو ٹیم رینکنگ میں سب سے اوپر ہو گی وہ کوالیفاٸ کر جاۓ گی جو کہ ظاہری طور پر بھارت ہی ہے۔۔اسی طرح براعظم افریقہ میں سے جنوبی افریقہ، براعظم آسٹریلیا میں سے کینگروز اور سلطنت برطانیہ میں سے انگلینڈ کو ڈاٸریکٹ کوالیفیکیشن ملنے کا امکان ہے ۔۔۔جبکہ میزبان ملک ہونے کی وجہ سے امریکہ بھی کوالیفاٸ کر جاۓ گا۔۔
اب رہ گیا ایک سپاٹ جس پر جم کے لڑاٸ ہو گی اس چھٹے سپاٹ کیلیے آٹھ ٹیمز کوالیفاٸر کھیلیں گی جن میں پاکستان،بنگلہ دیش،افغانستان،نیوزیلینڈ ،ویسٹ انڈیز جبکہ ان کے بعد رینکنگ میں ٹاپ پر آنے والی تین ٹیمز شامل ہونگی۔۔میرے لیے تو اولمپکس سے زیادہ یہ ایونٹ دلچسپ ہوگا کیونکہ اولمپکس میں چھ ٹیمز اور ایک ٹرافی ہوگی جبکہ یہاں آٹھ ٹیمز اور ایک سپاٹ ہوگا۔۔
واضح رہے یہ کوالیفاٸرز 2027 میں کھیلیں جاٸیں گے اور پاکستان کی قسمت اپنے ہاتھ میں ہے کہ کیا وہ جیت پاتے ہیں یا نہیں اور اولمپکس میں پاکستان بمقابلہ بھارت دیکھنے کو ملے گا یا نہیں مگر اس کیلیے بہت تگڑی کرکٹ کھیلنی ہوگی۔آپ کو کیا لگتا ہے پاکستان اولمپکس میں پہنچ پاۓ گا یا یہ صرف خواب ہی رہے گا؟ مزید اپڈیٹس کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
29/06/2026
سوپر سنڈے❤
پاکستان جیتے یا ہارے وہ الگ بات ہے مگر بھارت کی ہار پر ایک عجیب سی خوشی ہوتی ہے اس کی وجہ ہے بھارتیوں کا بے پناہ مغرور رویہ یہ سچ ہے کہ مینز اور ویمنز دونوں میدانوں پر ان کی ٹیم اچھا پرفارم کرتی ہے مگر بلکل ہی ہار کا نام بھول جانا مغروری کہلاتا ہے اوراس پر منہ کی کھانی پڑتی ہے۔۔
28 جون دوہزار چھبیس ایسے ہی پاکستانی فینز کیلیے بے پناہ خوشی کا دن تھا جہاں لگاتار دو دفعہ کی ورلڈ چیمپیٸنز بھارتی ٹیم آٸرلینڈ کیخلاف دو میچوں کی ٹوٸنٹی سیریز میں کلین سویپ ہو گٸ۔۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ آٸر لینڈ کی ٹیم آدھی ادھوری بولنگ سے کھیل رہی تھی اور بھارتی یہ سپناسجا کر میدان آۓ تھے کہ ہم ان آٸرش بچوں پر خوب ہاتھ صاف کریں گے مگر انہیں آٸرش بچوں نے بھارتیوں کو ان کی نانی یاد کروا دی ۔۔
دوسری طرف پاکستانیوں کی خوشی کو دگنا کرنے کیلیے آسٹریلوی خواتین بھی میدان میں آگٸیں جہاں خواتین کے ٹوٸنٹی ورلڈکپ میں بھارت کو سیمی فاٸنل تک پہنچنے کیلیے آسٹریلیا کو ہرانا تھا 170 رنز بورڈ پر لگا کر شاٸد بھارتی ٹیم سوچ رہی تھی کہ ہم یہ معرکہ سر کر سکتے ہیں مگر الیس پیری اور ایش گارڈنر نے بھارتی خواب خاک میں ملا دیے اور مقابلہ جیت کر بھارتی خواتین کی ممبٸ کی فلاٸٹ کنفرم کر دی۔۔
یہ تاریخ میں تیسری بار ہوا ہے کہ بھارتی مینز اور ویمنز ٹیمز ایک ہی دن میں ٹوٸنٹی میچز ہار گٸ ہیں جس پر بھارتی خوب چیخ رہے ہیں انجواۓ کرنا چاہتے ہیں تو سپورٹس یاری، سپورٹس تک یا اے بی کرک انفو جیسے چینل وزٹ کیے جا سکتے ہیں مزید اپڈیٹس کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
28/06/2026
الوداع سٹوکسی ❤️
میں نے جب سے کرکٹ کو سہی معنوں میں دیکھنا شروع کیا تب کیلس کا دور ختم ہو چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ دنیاۓ کرکٹ فاسٹ بولنگ آلراٶنڈرز میں نا پید ہو چکی ہے مگر ایسے میں انگلش کرکٹ میں ایک ہیرا نمودار ہوا۔۔جسے دنیا نے بین سٹوکس کے نام سے جانا۔۔
سٹوکس کی سب سے بڑی چیز کبھی ہار نہ ماننے والا ایٹیچیوڈ تھا چاہے وہ سڈنی کے میدان پر چوتھی اننگزمیں پھٹی ہوٸ وکٹ پر سنچری ہو یا ورلڈکپ کے فاٸنل میں مشکلوں میں گھری انگلینڈ کے لیے کمال اننگز ہو یا ہیڈنگلے کے میدان پر ایشز سیریز کا ٹیسٹ تن تنہا جتوانا ہو یا آگ اگلتی پاکستانی گیند بازی کیخلاف ایم سی جی کے میدان پر میچ وننگ ففٹی ہو۔۔
الغرض ہر میدان ہر مشکل ہر ناممکن جگہ پر سٹوکس ڈٹ گیا اور سٹوکس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا یے کہ دو ہزار انیس میں جب کوہلی سے پوچھا گیا تھا کہ کرکٹ فیلڈ میں آپ کسے سب سے بڑا حریف مانتے ہیں تو انہوں نے سٹوکس کا ہی نام لیا۔۔
اتنی عظمتوں کے مالک بین سٹوکس نے آج تمام طرز کی انٹرنیشنل کرکٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ۔۔پہلے ٹیسٹ کے بعد ہوۓ معاملات کے بعد کہیں نہ کہیں لگ رہا تھا کہ شاٸد یہ فیصلہ آجاۓ مگر یوں بیچ میچ سٹوکس یہ اعلان کر دیں گے شاٸد کسی نے نہ سوچا تھا۔۔
کرکٹ کی تاریخ میں میرا سب سے پسندیدہ کھلاڑی ،،سخت موقعوں کا کھلاڑی ، ایک بہت بڑا آلراٶنڈر، ایک عظیم کپتان آج انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑ گیا ۔۔یقین کریں دل بہت رنجیدہ ہے شاٸد کسی پاکستانی کھلاڑی کی ریٹاٸرمنٹ پر بھی اتنا دکھ نہ ہوتا ۔۔آخر میں اتنا ہی کہونگا ابھی نہ جاٶ سٹوکسی کہ دل ابھی بھرا نہیں ہے۔۔مزید تحریروں کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
23/06/2026
پنت دہلی میں 💙
یہ نومبر دو ہزار چوبیس کی بات ہے جب بھارتی لیگ کیلیے کھلاڑیوں کی بولی لگاٸ جا رہی تھی اور ڈاکٹر سنجیو گوینکا کی ٹیم لکھنٶ سوپر جاٸنٹس نے ستاٸیس کروڑ کی تاریخی بولی لگا کر رشب پنت کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔۔
بعد میں جب سوال کرنے والوں نے گوینکا جی سے پوچھا کہ اتنی قمیت کیوں تو جواب دیتے ہیں کہ جیسے آج بھارت میں ماہی ( مہندرا سنگھ دھونی),روہت کی بات ہوتی ہے کیونکہ وہ دونوں بطور قاٸد پانچ پانچ ٹرافیز جیت چکے ہیں تو دس سال بعد لوگ ماہی ،روہت اور رشب کہیں گے مانو گوینکا جی کو لگا کہ پنت انہیں دس سالوں میں پانچ ٹرافیز جتوا دے گا۔۔
دوسرے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ میں نے آکشن والے دن مختلف ایکسپرٹس کو فون کیے تو کوٸ کہتا شریاس کو لے لو کوٸ کسی کا نام لیتا تو کوٸ کسی کا مگر ایک بندے نے بھی رشب کا نام نہیں لیا مگر میں نے سب کی ان سنی کرکے پنت کو اٹھا لیا کیونکہ مجھے لگتاتھا کہ پنت کہ پاس الہ دین کا چراغ ہے جو رگڑے گا اور ہم کہاں نکل جاٸیں گے۔۔
دوسری طرف اتنے پیسے لے کر پنت کے پاٶں بھی زمین پر نہیں لگ رہے تھے وہ بھی کہتے ہیں مجھے باقی تو کنفرم تھا کہ لکھنٶ جارہا ہوں بس ایک ٹیم تھی جس کا ڈر تھا وہ تھا پنجاب کیونکہ ان کے پاس پیسہ بہت تھا ۔۔الغرض دونوں نے اس نٸ محبت کو خوب انجواۓ کیا۔۔
مگر پھر شروع ہوا آٸ پی ایل اور پنت کی قیادت میں اتری لکھنٶ نے ناکامیوں کی تاریخ رقم کر دی سونے پر سہاگہ پنت نے بھی بلے کے ساتھ کچھ نہ کیا میمز کی بھرمار سوشل میڈ یا پر لکھنٶ ٹیم اور فینز کو کاٹنے لگی مگر گوینکا جی برداشت کر گۓ اگلے سیزن کیلیے پھر پنت کو چانس ملا ایک بار پھر اس سے بھی گھٹیا کارکردگی اور ٹیم آخری نمبر پر۔۔۔
اب گوینکا جی پھٹ پڑے اور پنت سے صاف لفظوں میں کہ دیا یوں نہ چل سکے گی یاری ہماری تم اپنا بستر بوریا سمیٹو اور جانے کی کرو تیاری الغرض پہلے کپتانی چھڑواٸ اور آج ایک ڈیل کے تحت ستاٸیس کروڑ والے پنت پندرہ کروڑ میں واپس دہلی کو سونپ دیے گۓ ہیں کہ بھیا تمہارا لڑکا ہے تم ہی دیکھو ہم سے نہ ہو پاۓ گا بدلے میں 13.5 کروڑ میں کلدیپ لکھنٶ کو مل گۓ ہیں ۔۔
یوں یہ محبت کی داستان محض دو سیزن بعد ہی ختم ہو گٸ اور گوینکا جی جو سینے میں بڑے بڑے سپنے سجاۓ بیٹھے تھے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے محبوب کو روانہ کر دیا۔۔۔۔۔
یہ تمہید لکھنے کا مقصد ایک ہی ہے کہ پنت کبھی بھی ستاٸیس کروڑ کا کھلاڑی نہیں تھا جبکہ گوینکا جی نے جس لیول پر پنت کو سمجھا ہوا تھا وہ بلکل ویسا نہیں تھا پنت ٹیسٹ کا تگڑا کھلاڑی ہے مگر ٹوٸنٹی میں وہ محض اوسط درجے کا بلے باز ہے۔۔کرکٹ کی اپڈیٹس کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔
21/06/2026
نیا سلطان 💙
ٹوٸنٹی کرکٹ میں یونیورس بوس کرس گیل کی بارہ سالہ بادشاہت کا اختتام ہو گیا اور ان کے ہی ملک کے اور ٹوٸنٹی کرکٹ کے شہزادے کیرون پولارڈ نے ٹوٸنٹی کرکٹ کے نۓ سلطان کا تاج سر پر سجا لیا۔۔
2005 میں جب اس فارمیٹ کو لانچ کیا گیا تو ہر کسی کو امید تھی کہ یہ چوکوں چھکوں کی برسات دیکھنے کیلیے بنایا گیا فارمیٹ ہے اور یہ ویسٹ انڈیز کے پاور ہٹرز کو خوب پسند آۓ گا۔۔
اور بلکل وہی ہوا ویسٹ انڈیزی کھلاڑیوں نے اس فارمیٹ میں کو اپنے نام کرنا شروع کر دیا اور مارچ دو ہزار چودہ سے کرس گیل اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ سکور بنانے والے کھلاڑی بن گۓاور گیل نے اپنی سلطنت اتنی مظبوط کر لی کہ بارہ سال تک کوٸ انہیں ہلا نہ پایا۔۔
مگر ہر ریکارڈ نے ٹوٹ جانا ہے اور ان کے ہی ہم وطن کیرون پولارڈنے آج گیل کی بارہ سالہ سلطنت کو پاش پاش کر دیا اور خود ٹوٸنٹی کرکٹ کے نۓ سلطان بن گۓ۔۔
واضح رہے کہ کرس گیل نے ٹوٸنٹی کرکٹ میں (انٹرنیشنل +ڈومیسٹک) 463 میچز کھیل کر 14562 رنز اسکور کیے جبکہ پولارڈ نے 736 ٹوٸنٹی میچز کھیل کر آج 14582 رنز کر کے ٹوٸنٹی کرکٹ کے ہاٸ ایسٹ رن سکورر کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔۔
اب بہت سے دوست یہ کہیں گے کہ پولارڈ کے میچز بھی گیل سے بہت ہیں مگر یہ ہر گز نہ بھولیں کہ گیل اوپنر تھے وہ پورے بیس اوور تک بلے بازی کر سکتے تھے جبکہ پولارڈ فنشر تھے جنہیں کبھی کبھی صرف دو ہی گیندیں کھیلنے کو ملتی تھیں۔۔واضح رہے کہ اتنے سکورز کے ساتھ پولارڈ ٹوٸنٹی کرکٹ میں اب تک 980 سے زیادہ چھکے اور 335 وکٹس بھی حاصل کر چکے ہیں ۔کرکٹ کی اپڈیٹس کیلیے Cricket Talks کو فالو کریں۔۔