ISI Pakistan Army Power

ISI Pakistan Army Power

Share

Pakistan Army Power @ISI@

07/09/2022

مسجد نبوی ماشاءاللہ

11/07/2019



28 جولائی 1999ء کو بھارتی فوج کے فیلڈمارشل مانک شا کو ایک ٹی۔وی انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ مانک شا پارسی تھے اورتب ان کی عمر 85 برس تھی۔ وہ اس انٹرویو کے نو برس بعد 94 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ 1971ء کی جنگ میں جب بھارتی افواج نے بنگلہ دیش میں پاکستان کو شکست دی تو مانک شا اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ وہ اس جنگ کے دو برس بعد 1973ء میں سبک دوش ہوئے۔

کرن تھاپر نے ایک ایسا سوال مانک شا سے کردیا جس کے جواب نے ان کروڑوں لوگوں کو ششدر کردیا جو اس وقت ٹی۔وی پر ان کا انٹرویو دیکھ رہے تھے۔ کرن تھاپر نے پوچھا کہ فیلڈمارشل صاحب آپ کو یہ جنگ جیتنے کا کتنا کریڈٹ جاتا ہے کیونکہ پاکستانی فوج نے وہ بہادری نہیں دکھائی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔

فیلڈمارشل مانک شا ایک لمحے میں ایسے پیشہ ور فوجی بن گئے جو اپنے دشمن کی تعریف کرنے میں بغض سے کام نہیں لیتے۔ مانک شا نے کہا، یہ بات غلط تھی۔ پاکستانی فوج بڑی بہادری سے ڈھاکا میں لڑی تھی لیکن ان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل دور جنگ لڑ رہے تھے جبکہ میں نے اپنی ساری جنگی تیاریاں آٹھ سے نو میل کے علاقے میں کرنا تھیں۔ ایک پاکستانی فوجی کے مقابلے میں میرے پاس پندرہ بھارتی فوجی تھے لہٰذا اپنی تمام تر بہادری کے باوجود پاکستانی فوج یہ جنگ نہیں جیت سکتی تھی۔

کرن تھاپر کو کوئی خیال آیا اور اس نے پوچھا کہ فیلڈمارشل ہم نے کوئی کہانی سنی ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے کومان پل کے محاذ پر بھارتی فوجیوں کے خلاف اتنی ناقابلِ یقین بہادری دکھائی کہ آپ نے جنگ کے بعد بھارتی فوج کا چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے اسے ایک خط لکھا جس میں اس کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے اتنے ناقابل یقین انداز میں لڑنے پر اسے خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔

مانک شا نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ بھارتی افواج ڈھاکا کی طرف پیش قدمی کررہی تھیں اور یہ پاکستانی کیپٹن ہماری فوج کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس اکیلے نے محاذ پر موجود بھارتی فوج کومشکلات میں مبتلا کرنا شروع کیا۔ ایک زوردار حملہ کیا گیا جو اس نے اپنی حکمت عملی کی بدولت پسپا کیا۔ بھارتی فوج نے دوسری دفعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے اس محاذ پر پہلے سے بھی بڑا حملہ کیا لیکن کیپٹن احسان ملک نے انھیں ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔ بھارتی فوج نے آخر اس محاذ پر تیسرا حملہ کیا تو تب کہیں جاکر انھیں کامیابی ہوئی۔ مانک شا بڑا حیران تھا کہ آخر اتنی بڑی بھارتی فوج کے حملے کے سامنے کون تھا جو شکست ماننے کو تیار نہیں تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے ان کی تمام کوششوں اور حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بچا یا لڑتا ہوا مارا گیا۔

جنگ ختم ہوگئی۔ جنرل نیازی مانک شا کے آگے ہتھیار ڈال چکے تھے لیکن مانک شا کا ذہن اس پاکستانی کیپٹن کی بہادری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مانک شا ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے ایک فاتح جنرل کی طرح بھارت واپس آیا۔ اپنے دفتر جاکر جو اس نے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ کاغذ قلم اٹھا کر کیپٹن احسان ملک کے نام ایک ذاتی خط لکھا اور اسے اپنے ملک کے لیے اتنی بہادری اور بے جگری سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ خصوصًا ان حالات میں کہ جب پاکستانی فوج کے پاس بھارت کے سامنے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ خط اس نے پاکستان کی فوج کو بھیجا کہ یہ اس بہادر کیپٹن کو دیا جائے۔

مانک شا نے اسی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انھیں بلا کر کہا تھا کہ آپ پاک فوج میں شامل ہو جائیں لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اب وہ بھارتی فوج کا حصہ تھے اور اپنے آپ کو بھارتی سمجھتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے اب ایک بھارتی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔

1971ء کی جنگ کو آج چالیس برس گزر گئے ہیں۔ آپ، میں اور ہماری نسلیں کیپٹن احسان ملک کے نام سے واقف تک نہیں۔ ایک ایسا کیپٹن جس کی بہادری نے فیلڈمارشل مانک شا کو اتنا متاثر کیا تھا کہ جنگ کے تیس برس بعد بھی 1999ء میں کرن تھاپر کو دئیے انٹرویو میں اس کا نام تک یاد تھا۔ جب کہ اس بہادر کیپٹن کا نام ہم نے اپنی کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا اور نہ ہی ہمارے بچے پڑھیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے جو اپنی ساری زندگی اس وطن کی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ جو جیتے ہیں تو دولت کی خاطر اور مرتے ہیں تو دولت کی خاطر۔ جو امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر۔ اور جب وہ اقتدار کی ہوس میں لڑتے ہوئے ”شہید“ ہو جاتے ہیں تو ان کا نام تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ جبکہ کیپٹن احسان جیسے سپاہیوں کی حب الوطنی اور بہادری کے قصے ہم دشمنوں کی زبان سے سنتے ہیں۔

PS : Capt Ehsan Malik from 31 Baloch was awarded Sitara e Jurrat in 1974 on his repatriation from India. He retired as a full colonel.

09/03/2019

ایک رات خبر آتی ہے کہ بھارت سے کچھ جاسوس پاکستان میں داخل ہونے والے ہیں ۔
پھر ان جاسوسوں کا انتظار کیا جاتا ہے آخر کار وہ جاسوس آ ہی جاتے ہیں ہمارے گمنام مجاہد انہیں پکڑ لیتے ہیں جب تفتیش کی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے ان کے پاس کوئی

انفارمیشن نہیں ہے سوائے ایک نمبر کے
جس پر انہوں نے پاکستان پہنچ کر کال کے زریعے بتانا تھا کہ ہم پہنچ گئے،

وہ نمبر بھی کسی یورپی ملک کا ہوتا ہے گمنام اسی نمبر کی مدد سے ملک دشمنوں تک پہنچتے ہیں اور ان پر کڑی نگرانی شروع کر دی جاتی ہے
ایک گمنام لالچی بن کر ان کی ایک جاسوسہ کو گھیرتا ہے وہ گمنام اسے اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے.

جب اس جاسوسہ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو ایٹمی پلانٹ کا سیکورٹی مینجر ہے ہے وہ اندر ہی اندر بہت خوش ہوتی ہے جو خود ایک ملک غدار کے گھر میں رہے رہی ہوتی ہے ۔

وہ گمنام خود کو لالچی ظاہر کرتا ہے اور وہ جاسوسہ اس گمنام کی ملاقات اس غدار سے کرواتی ہے جس کے گھر رہے رہی ہوتی ہے ۔

وہ سب بہت ہی خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے شکار کر لیا ہے اب ہم بہت جلد پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کو تباہ کر دیں گے لیکن انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ
وہ گمنام ہیروز کی نگاہ میں ہیں ان کی ایک ایک حرکت گمنام نوٹ کر رہے ہیں

ایک دن وہ اس گمنام کی ملاقات بھارتی کمانڈوز اور تربیت یافتہ جاسوسوں سے کرائی جاتی ہے وہ اس گمنام کو پیسے کا لالچ دیتے ہیں

اور کہتے ہیں ہم ایٹمی پلانٹ تک جائیں گے لیکن تم فلاں راستے سے پوری سیکورٹی یہ جتنا ممکن ہو سکے ہٹا لو گے یہ پھر تم کچھ دن کی چھٹی کی درخواست دے کر سکوں کریں ہمیں راستے کا نقشہ دے دیں ۔

وہ گمنام کچھ دن کی چھٹی کی درخواست دیتا ہے جسے قبول کر لیا جاتا ہے.
لیکن وہ چھٹی بھی محض ایک کھیل ہی ہوتا ہے

وہ اسے پچاس لاکھ ایڈوانس دیتے ہیں جیسے وہ گمنام بخوشی قبول کر لیتا ہے اور ان کی بات مان لی جاتی ہے

آخر وہ رات آ ہی جاتی جس کا گمنام ہیروز کو بھی ب صبری سے انتظار ہوتا ہے اور دشمن کو بھی ب صبری سے انتظار ہوتا ہے ۔
وہ رات دوسری راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی کالی تھی.
ملک دشمن اپنی تیاری کے ساتھ رات کو نکلتے ہیں اور

ایٹمی پلانٹ کے تقریباً دس کلومیٹر دور سے وہ پیدل سفر
شروع کر دیتے ہیں جیسے جیسے وہ

قریب ہوتے جاتے ہیں ان کی خونخوار آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی جاتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ عنقریب وہ
گمنام ہیروز کی گرفت میں ہونگے

جب تقریباً 5 کلومیٹر راستہ طے کر لیا جاتا ہے اور وہ مسلسل آگے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو اچانک ہی
ان کی چاروں سے سرچ لائٹ چلتی ہے جس آنکھیں ہی چندھیا جائیں؟

ابھی ملک دشمن سمجھ ہی رہے ہوتے ہیں کہ یہ کیا ہوا
گمنام ہیروز انہیں آ گھیرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے
وہ سب ملک دشمن گمنام ہیروز کے شکنجوں میں اس طرح آ چکے تھے کہ اگر وہ ہلکہ سا بھی ہلتے تو وہ موت کی وادی میں ہوتے؟

ان سب کو جب تفتیش سنٹر پہنچایا جاتا ہے تو آگے وہی گمنام ہیرو ویلکم کہتا ہے.
اس کے الفاظ کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ
ویلکم ٹو کہوٹہ؟

جب دشمنوں کی آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوتی تو
اسے سامنے کھڑا دیکھ کر اور ان کے پیسے ہی جھوٹ جاتے ہیں ۔

وہ دن اور آج کا دن پھر کسی نے کہوٹہ کی طرف جانے کی تکلیف نہیں کی ۔

یہ تھا ایک مختصر سا تعارف اپنے گمنام مجاہدوں کا ۔
جو میں نے ساغر صاحب کی ایک کتاب میں پڑھا تھا
سوچا آپ کو بھی مختصر بتاؤں ۔

اگر ہم سکوں سے سوتے ہیں تو اس کے پیچھے
ہمارے گمنام محافظوں کا جاگنا ہوتا ہے ۔

.

پاک آرمی زندہ باد
گمنام محافظ زندہ باد
پاکستان بائیندہ باد ۔

کاپی پیسٹ

Photos from ISI Pakistan Army Power's post 31/01/2019
Photos from ISI Pakistan Army Power's post 31/01/2019

Proud ISI Pakistan

21/11/2018

Eid Milaad ual Nabi S.A.W Mubarak ho

09/11/2018

Happy Birthday

09/11/2018

Happy Birthday Azeem Insan

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Faizul Dother
Lahore
0092

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00