20/08/2026
الحمدللہ 🤍
-------------------------------------------------------------------------
This is a great milestone for me! ✨
I’m truly grateful to share that my article on “Reframing” has been published in seven newspapers.
A heartfelt thank you to Sir Waqas and Mam Farhat for your guidance, encouragement and belief in me.
One of the most powerful presuppositions I have learned is:
“The resources one needs in order to effect a change are already within them. They just need to access them.”
Now I am seeing this effect in my life as well.
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
20/08/2026
ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی خوبی ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر اپنی خوبیوں کو دیکھنے کے بجائے اپنی کمزوریوں پر توجہ دیتے رہتے ہیں۔
دوسروں کی کامیابی دیکھ کر خود کو کم سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ کی زندگی کا سفر الگ ہے، آپ کی رفتار الگ ہے اور آپ کے حالات بھی الگ ہیں۔
ضروری نہیں کہ آپ سب کو پیچھے چھوڑیں۔ ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے خوف، اپنی سستی اور اپنی پرانی سوچ سے آگے نکلیں۔ خود کو وقت دیں، خود کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں پر کام کریں۔
ایک دن آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے اور محسوس کریں گے کہ جس انسان کو آپ معمولی سمجھتے تھے، وہ بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ خود کو کم نہ سمجھیں، شاید آپ اپنی اصل طاقت سے ابھی واقف ہی نہیں۔
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
19/08/2026
خوشی کا انتظار نہ کریں۔
خوشی ہمیشہ حالات کے بہتر ہونے سے نہیں آتی، اکثر ہمیں اسے خود پیدا کرنا پڑتا ہے۔
ہم اکثر یہ سوچ کر اپنی خوشی روک دیتے ہیں کہ جب سب کچھ ہمارے مطابق ہو جائے گا، تب سکون ملے گا۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔
حقیقی سکون حالات بدلنے سے زیادہ اپنی سوچ اور نظر بدلنے میں ہے۔ ہر مشکل وقت میں بھی کوئی نہ کوئی ایسی چھوٹی سی بات ضرور ہوتی ہے جو ہمارے دل کو بہتر محسوس کرا سکتی ہے۔
اس لیے خوش رہنے کے لیے کسی بہترین وقت کا انتظار نہ کریں۔ آج کے دن میں موجود چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کریں۔
آپ جب حالات اپنے حق میں نہ ہوں تو اپنا موڈ بہتر کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
19/08/2026
سکون کا آغاز اس بات کے یقین سے شروع ہوتا ہے:
"سکون تب حاصل ہوتا ہے جب آپ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں، وہ آپ کے ذہن میں بھی نہیں ہونی چاہیے۔"
ایک پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ہر چیز کو اپنے قابو میں رکھنا ضروری نہیں ہے۔ جسے آپ بدل سکتے ہیں، اس پر توجہ دیں۔ جو آپ کے بس میں نہیں، اسے چھوڑنا سیکھیں۔ اپنی پریشانیوں کے بجائے اپنے ذہنی سکون کی حفاظت کریں۔ آپ جتنا زیادہ باتوں کو قبول کرنا شروع کریں گے، آپ کا ذہن اتنا ہی ہلکا اور پرسکون ہوتا جائے گا۔
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
18/08/2026
ڈیوڈ گاگنز (David Goggins) دنیا کے سب سے مضبوط ذہنی صلاحیت رکھنے والے انسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ امریکی نیوی سیل (Navy SEAL) کے سابق اہلکار، الٹرا رنر اور مصنف ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان اپنے دماغ کو قابو میں کر کے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔
یہاں ان کے سکھائے ہوئے 7 اہم ترین اسباق پیش ہیں:
# # # 1۔ 40 فیصد کا قانون
(The 40% Rule)
جب آپ کا دماغ آپ سے کہتا ہے کہ "بس اب میں تھک گیا ہوں اور مزید کچھ نہیں کر سکتا،" تو حقیقت میں آپ ابھی صرف اپنی 40 فیصد صلاحیت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ باقی 60 فیصد طاقت آپ کے اندر محفوظ ہوتی ہے۔ گاگنز کا کہنا ہے کہ جب آپ اس تھکن کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں، تو آپ اپنے ذہن کی اصل طاقت کو انلاک (unlock) کرتے ہیں۔
# # # 2۔ جوابدہی کا آئینہ
(The Accountability Mirror)
گاگنز کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں۔ وہ خود ایک آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی خامیوں کو کاغذ پر لکھ کر چپکا دیتے تھے (جیسے: "تم موٹے ہو"، "تم سست ہو")۔ جب تک آپ آئینے میں دیکھ کر اپنی سچائی اور کمزوریوں کو تسلیم نہیں کریں گے، آپ خود کو بدل نہیں سکتے۔ خود سے مخلص ہونا ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
# # # 3۔ دماغ کو قابو کرنا
(Taking Souls)
جب آپ کسی مشکل مقابلے، نوکری یا امتحان میں ہوں، تو اپنی محنت اور کارکردگی سے سامنے والے (یا اپنے حریف) پر ایسا ذہنی غلبہ حاصل کر لیں کہ وہ دنگ رہ جائے۔ اس کا مطلب کسی کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ اپنی محنت سے دوسروں کا حوصلہ پست کرنا اور خود کو سب سے آگے لے جانا ہے۔
# # # 4۔ کوکی جار کا تصور
(The Cookie Jar)
جب زندگی میں بہت مشکل وقت آئے اور آپ ہار ماننے والے ہوں، تو اپنے دماغ کے "کوکی جار" (بسکٹ کے ڈبے) میں ہاتھ ڈالیں۔ اس خیالی ڈبے میں آپ کی زندگی کی وہ تمام پرانی کامیابیاں اور مشکلات موجود ہیں جن پر آپ پہلے فتح پا چکے ہیں۔ اپنے ماضی کی مشکلات کو یاد کریں کہ "جب میں اس وقت نہیں ہارا، تو اب کیوں ہاروں؟" یہ چیز آپ کو فوری حوصلہ دے گی۔
# # # 5۔ تکلیف سے پیار کرنا
(Embrace the Suck)
کامیابی کا راستہ آرام دہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو وزن کم کرنا ہے، پڑھائی کرنی ہے یا کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا ہے، تو آپ کو اس کے لیے ہونے والی تکلیف، صبح جلدی اٹھنے اور سخت محنت سے پیار کرنا پڑے گا۔ گاگنز کے مطابق، آرام پسندی انسان کو کمزور بناتی ہے، جبکہ تکلیف انسان کو فولاد بناتی ہے۔
# # # 6۔ اپنے ذہن کے مالک بنیں
(Master Your Mind)
اگر آپ اپنے دماغ کو نہیں چلائیں گے، تو آپ کا دماغ آپ کو چلائے گا۔ صبح جب الارم بجتا ہے اور دماغ کہتا ہے کہ "تھوڑی دیر اور سو جاؤ، باہر سردی ہے،" تو اسی وقت آپ کو اپنے دماغ کو حکم دینا ہے کہ "نہیں، مجھے اٹھنا ہے"۔ زندگی کے فیصلے اپنے آرام کے مطابق نہیں، بلکہ اپنے نظم و ضبط (Discipline) کے مطابق کریں۔
# # # 7۔ کبھی بھی مطمئن نہ ہوں
(Never Settled)
چاہے آپ نے زندگی میں کتنا ہی بڑا مقصد کیوں نہ حاصل کر لیا ہو، کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ "بس میں نے کر لیا"۔ گاگنز کے نزدیک زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک پہاڑ سر کرنے کے بعد، دوسرے اونچے پہاڑ کی تلاش شروع کر دیں۔ ہمیشہ سیکھتے رہیں اور خود کو چیلنج کرتے رہیں کیونکہ جمود (رک جانا) ذہنی موت ہے۔
Copied
18/08/2026
5 موقعے جب زیادہ سوچنا دراصل خوف ہوتا ہے جو آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
1۔ جب آپ پہلے ہی جانتے ہوں کہ آپ کو کیا کرنا ہے، لیکن پھر بھی بار بار سوچیں۔
آپ فیصلہ کر لیتے ہیں، پھر دوبارہ اسی فیصلے پر سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر مجھے بعد میں پچھتاوا ہوا تو؟
اگر میرا فیصلہ غلط نکلا تو؟
اگر اس سے بہتر کوئی راستہ ہوا تو؟
کبھی کبھی آپ الجھن میں نہیں ہوتے، آپ صرف بغیر کسی گارنٹی کے فیصلہ کرنے سے ڈر رہے ہوتے ہیں۔
2۔ جب آپ کسی سے بات کرنے سے پہلے وہ گفتگو کئی بار ذہن میں دہراتے ہیں۔
آپ سوچتے ہیں کہ سامنے والا کیا جواب دے گا،
اپنے الفاظ بار بار بدلتے ہیں اور ہر ممکن صورتحال کا تصور کرتے ہیں۔ یہ تیاری لگتی ہے، لیکن کبھی کبھی آپ کا ذہن آپ کو انکار، اختلاف، تنقید یا شرمندگی سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
3۔ جب ایک چھوٹا سا خطرہ ذہن میں 50 بڑے مسائل بن جائے۔ اگر میں ناکام ہوگیا تو، اگر لوگوں نے برا سوچا تو، اگر پیسے ضائع ہوگئے تو، اگر سب کچھ غلط ہوگیا تو۔ اصل فیصلہ شاید اتنا مشکل نہیں ہوتا لیکن خوف آپ کے ذہن میں پورا مستقبل بنا دیتا ہے اور پھر آپ کو لگتا ہے کہ ان سب چیزوں کو روکنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔
4۔ جب کافی معلومات ملنے کے بعد بھی آپ مزید معلومات جمع کرتے رہیں۔
ایک اور ویڈیو، ایک اور رائے، ایک اور موازنہ، ایک اور گھنٹہ تحقیق۔ آپ خود سے کہتے ہیں میں بس صحیح فیصلہ کرنا چاہتا ہوں لیکن کبھی کبھی مزید معلومات آپ کو واضح جواب نہیں دے رہیں ہوتیں، بلکہ فیصلہ کرنے میں تاخیر کر رہی ہوتی ہیں۔
کیونکہ اصل مشکل فیصلہ نہیں، خود پر بھروسہ کرنا ہوتا ہے۔
5۔ جب فیصلہ نہ کرنے سے آپ کا ذہن فوراً پرسکون ہو جائے۔
آپ کام چھوڑ دیتے ہیں۔ بات مؤخر کر دیتے ہیں۔
فیصلہ آگے کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں،بعد میں دیکھیں گے اور اچانک آپ کو سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ سکون بہت کچھ بتا سکتا ہے۔
شاید آپ کا زیادہ سوچنا دراصل آپ کو اُس چیز سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا تھا جس سے آپ کا ذہن ڈر رہا تھا۔ یہ بات یاد رکھیں صحت مند سوچ آخرکار آپ کو کسی فیصلے تک پہنچاتی ہے لیکن خوف سے پیدا ہونے والی سوچ ہر جواب کے بعد ایک نیا سوال لے آتی ہے۔ پھر مقصد یہ نہیں رہتا کہ صحیح جواب کیا ہے بلکہ مقصد بن جاتا ہے میں ایسا کیا کروں کہ کچھ بھی مشکل نہ ہو اور مجھے کبھی تکلیف نہ پہنچے۔
اس لیے جب اگلی بار آپ خود کو بہت زیادہ سوچتے ہوئے پائیں، تو خود سے یہ سوال ضرور کریں میرا ذہن مجھے کس چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے شاید مسئلہ آپ کی سوچ نہیں، اس کے پیچھے چھپا ہوا خوف ہو۔
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
18/08/2026
ہنر انسان کی وہ طاقت ہے جو اسے دوسروں سے الگ بناتی ہے۔ آج کی دنیا میں صرف تعلیم کافی نہیں، بلکہ ایسے ہنر سیکھنا ضروری ہیں جو آپ کو اپنے میدان میں نمایاں کریں۔ چاہے وہ کمیونیکیشن ہو، ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت، قیادت، مسئلہ حل کرنا یا کوئی اور مہارت، ہر نیا ہنر آپ کے اعتماد اور مواقع میں اضافہ کرتا ہے۔
اپنے وقت کو صرف معلومات جمع کرنے میں نہیں، بلکہ عملی مہارتیں سیکھنے میں لگائیں۔ کیونکہ جب آپ کسی کام میں واقعی ماہر ہو جاتے ہیں تو مقابلہ کم محسوس ہونے لگتا ہے۔
ہنرمند بنیں، اپنی پہچان خود بنائیں۔ ✨
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
17/08/2026
ایک مضبوط ذہن کیسے بنایا جائے؟
تاریخ کے عظیم فلسفیوں میں ایک نام ارسطو (Aristotle) کا ہے۔ وہ صرف فلسفی نہیں تھے، بلکہ سکندرِ اعظم کے استاد بھی رہے۔ ان کی تعلیمات آج بھی ہمیں ایک مضبوط اور متوازن زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتی ہیں۔
ایک مضبوط ذہن کے لیے ارسطو کے 8 اصول:
1۔ خود کو جانیں
اپنی سوچ، عادات، کمزوریوں اور خواہشات کو سمجھیں۔ کیونکہ خود شناسی ہی حقیقی سمجھ کی پہلی سیڑھی ہے۔
2۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچیں
ہر نئی بات کو فوراً درست نہ مانیں، لیکن اسے فوراً رد بھی نہ کریں۔ سیکھنے کے لیے ذہن کو کھلا رکھیں۔
3۔ جذبات کو سمجھیں
صرف عقل کافی نہیں۔ اپنے جذبات اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنا بھی کامیابی کا اہم حصہ ہے۔
4۔ آگے کے چند قدم سوچیں
صرف آج کے فیصلے نہ دیکھیں، یہ بھی سوچیں کہ آج کا فیصلہ کل کیا نتیجہ دے گا۔
5۔ خوشی کو حالات سے نہ جوڑیں
ہر وقت حالات کے بدلنے کا انتظار نہ کریں۔ اپنے رویے اور سوچ پر کام کریں، کیونکہ خوشی کا تعلق ہماری اندرونی کیفیت سے بھی ہے۔
6۔ محنت کو معمول بنائیں
کامیابی صرف قسمت کا نام نہیں۔ واضح مقصد، مسلسل محنت اور درست عمل اکثر وہ مواقع پیدا کرتے ہیں جنہیں ہم ’’قسمت‘‘ کہتے ہیں۔
7۔ پہلے خود پر قابو پائیں
دوسروں کو شکست دینا آسان ہو سکتا ہے، لیکن اپنی خواہشات، غصے اور کمزوریوں پر قابو پانا اصل کامیابی ہے۔
8۔ اپنی سوچ کو حقیقت نہ سمجھیں
ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔ کبھی ہماری اپنی تشریحات اور perceptions ہی ہمیں پریشان کرتی ہیں۔
اس لیے ہر چیز کو نئے زاویے سے دیکھنا سیکھیں۔
زندگی ہمیشہ ہمارے قابو میں نہیں ہوتی لیکن اپنی سوچ، رویے اور ردِعمل پر کام کرنا ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd
17/08/2026
زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ بڑا حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلی اور اہم شرط یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ہی بنائی ہوئی محدود سوچ اور پرانے خیالات کی قید میں زندگی گزار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نئے مواقع ہمارے قریب سے گزر جاتے ہیں اور ہم انہیں دیکھ بھی نہیں پاتے۔
جیسے ایک پیراشوٹ صرف اس وقت کام کرتا ہے اور انسان کو بلندی سے محفوظ طریقے سے زمین پر لاتا ہے جب وہ ہوا میں پوری طرح کھل جائے، بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی صرف تبھی بہترین فیصلے کرتا ہے اور ترقی کی راہیں کھولتا ہے جب ہم اسے نئے افکار اور نئی معلومات کے لیے آزاد چھوڑتے ہیں۔
ایک بند ذہن انسان کو صرف بوجھ اور خوف دیتا ہے، جبکہ ایک کھلا ذہن نئی امید، طاقت اور کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔
جب آپ اپنے ذہن کو کھلا رکھتے ہیں تو آپ دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنا شروع کرتے ہیں، غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور ہر تبدیلی کو خوف کے بجائے ایک موقع سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ترقی کا سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں ہم اپنی پرانی ضد اور تعصب کو چھوڑ کر کچھ نیا سیکھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
آج ہی سے اپنی سوچ کے دروازے کھولیں، نئی صلاحیتیں حاصل کریں اور آگے بڑھیں۔ اپنے اندر کی جھجک کو ختم کریں اور زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کریں۔
آپ کی نظر میں ایک کھلے ذہن کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd