Trainer Muhammad Waqas

Trainer Muhammad Waqas

Share

I am a Trainer, Psychologist, NLP Master Practitioner and Author of two Book. Remember, if you think, you can.

NLP Trainer | Psychologist | Coach | 2x Author | Mind Reprogramming Trainer | Pakistan Air Force Retd

Helping Professionals Overcome Limiting Beliefs |
Transform Fear into Confidence Through NLP & Psychology
DM “SUCCESS” for Free Growth Strategy Call I believe that there are a lot of opportunities and resources to solve our problem and upgrade our lives, but sometimes we cant find them.

19/06/2026

جو آج آپ کے ذہن میں ہے، وہی کل آپ کی حقیقت بنے گا۔ اپنی کامیابی کو آج ہی سے جینا شروع کریں!

Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd

18/06/2026

اپنے ذہن کو ری پروگرام کریں۔ این ایل پی پریکٹیشنر ٹریننگ جوائن کریں✌️🤭

18/06/2026

اپنے آپ پر فخر کریں وہ جنگیں جو آپ نے خاموشی سے خود سے لڑیں وہ آپ کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور انکی داستان صرف آپ جانتے ہو۔

18/06/2026

انسان کو باہر کی دنیا سے زیادہ اس کے اپنے ذہن کی پوشیدہ زنجیریں اور منفی عقائد (Limiting Beliefs) قید رکھتے ہیں۔ ⛓️💥

جب تک آپ اپنے لاشعور کی پرانی پروگرامنگ کو نہیں بدلیں گے، آپ کا ہر دن ماضی کا ہی عکس رہے گا۔ NLP Reframing کے ذریعے آپ اپنی سوچ کے زاویے کو بدل کر ان ذہنی بیڑیوں کو ہمیشہ کے لیے توڑ سکتے ہیں۔
اپنے خیالات کو بدلیں، آپ کی زندگی خود بخود بدل جائے گی۔ 💯

کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی پوشیدہ خوف آپ کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے؟

Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd

18/06/2026

صرف 4 الفاظ جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں۔

اپنے اردگرد دیکھیں۔ ہم انسانی تاریخ کے سب سے شور زدہ دور میں جی رہے ہیں۔ آپ کے فون کی ہر ایک ٹون آپ کی توجہ مانگتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر ایک سکرول آپ کی انرجی کو نچوڑنے کا ایک جال ہے۔ ہم ہر وقت دنیا سے تو جڑے ہوئے ہیں، لیکن خود سے بالکل کٹ چکے ہیں۔ عارضی سکون اور سستی خوشیوں کے چکر میں ہم اپنی اصل صلاحیتوں کو کھو رہے ہیں۔
تھکا دینے والا ہے نہ یہ سب؟ ہر کسی کو خوش رکھنے کی کوشش میں خود کو اندر سے خالی کر دینا۔

اگر آپ بھی ایک ہی دائرے میں گھوم گھوم کر تھک چکے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی ساری طاقت ان چیزوں پر ضائع ہو رہی ہے جن کی کوئی حیثیت نہیں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی زندگی کو بالکل سادہ اور ٹو دی پوائنٹ کر لیں۔ آپ کو کسی 50 صفحات کے پیچیدہ پلان کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس دنیا کے اس فضول شور کو خاموش کرنا ہے اور اپنی زندگی کو ان G's 4 کے گرد گھمانا ہے۔

1. GOD (خدا):

دنیا کو فتح کرنے سے پہلے، آپ کو اپنے اندر کے طوفان کو پرسکون کرنا ہوگا۔ خدا سے تعلق صرف ایک رسم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے آپ کو اس کائنات کے مالک کے سپرد کرنے کا نام ہے جو آپ کی ہر تکلیف سے واقف ہے۔ جب آپ کا رابطہ اپنے رب سے مضبوط ہوتا ہے، تو آپ کی بے چینی اطمینان میں بدل جاتی ہے۔ یہ آپ کو شکر گزاری سکھاتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ جب سب راستے بند ہوں، تب بھی وہ ایک راستہ کھلا رکھتا ہے۔ اس بنیاد کے بغیر ہر کامیابی ادھوری ہے۔

2. GYM (ورزش):

آپ ایک بیمار اور کمزور جسم میں مضبوط اور کامیاب ذہن نہیں رکھ سکتے۔ جم جانے کا مطلب صرف باڈی بلڈنگ یا وزن اٹھانا نہیں ہے، یہ آپ کے نظم و ضبط (Discipline) کا امتحان ہے۔ جب آپ تھکے ہونے کے باوجود ایکسرسائز ہیں، تو آپ صرف مسلز نہیں بلکہ اپنا کردار مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔

3. GOALS (مقاصد):

مقصد کے بغیر زندگی اس کشتی کی طرح ہے جس کا کوئی ملاح نہ ہو۔ وہ کسی بھی لہر کے ساتھ ٹکرا کر ڈوب جائے گی۔ آپ کے مقاصد آپ کو صبح الارم سے پہلے اٹھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی بزنس کھڑا کرنا ہو، کوئی نیا ہنر سیکھنا ہو، یا مالی طور پر خودمختار ہونا ہو۔ آپ کے مقاصد آپ کے اپنے آپ سے کیے گئے وعدے ہیں۔ اگر کوئی کام آپ کو آپ کی منزل کے قریب نہیں لا رہا، تو وہ آپ کے وقت کا حقدار نہیں ہے۔

4. GROWTH :

اگر آپ آگے نہیں بڑھ رہے، تو یاد رکھیں آپ پیچھے جا رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو صرف 1% بہتر بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ سوشل میڈیا پر ریلز دیکھنے کے بجائے کوئی اچھی کتاب پڑھنا، یا مشکل حالات سے ڈر کر بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا۔ خود کو بدلنے میں تکلیف ہوتی ہے، لیکن جب آپ ایک سال پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اور خود کو ایک بہتر انسان پاتے ہیں، تو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔

وہ پارٹیاں جن میں آپ نہیں جا پائے، وہ فیس بک کی سکرولنگ، وہ رات گئے تک دوستوں کے ساتھ فضول گپ شپ آج سے پانچ سال بعد ان میں سے کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اگر کچھ یاد رہے گا تو بس یہ کہ آپ کا ایمان کتنا مضبوط تھا، آپ کی صحت کیسی تھی، آپ نے کیا حاصل کیا اور آپ کی سوچ کتنی بڑی تھی۔

دنیا سے کٹ جائیں۔ اپنے کام پر فوکس کریں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق دینا بند کریں۔ آج ہی اپنے گرد ایک لکیر کھینچ لیں۔ لوگ آپ کو مغرور کہیں یا پاگل، انہیں کہنے دیں۔ آپ کا آنے والا وقت اس تنہائی اور محنت کا سود سمیت قرض اتارے گا۔
آج آپ اپنی زندگی سے کس ایک فضول عادت یا ڈسٹریکشن (distraction) کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے جا رہے ہیں تاکہ ان 4 اصولوں پر کام کر سکیں۔



18/06/2026

ہم میں سے اکثر لوگ یا تو گزرے ہوئے کل کی تکلیف میں رہتے ہیں، یا آنے والے کل کی فکر میں گم رہتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ آپ کا آنے والا کل اس بات پر منحصر ہے کہ آپ آج کیا کر رہے ہیں۔

جب آپ کی توجہ موجودہ لمحے پر ہوتی ہے، تو آپ اپنے مستقبل کو خود بدلنے کی طاقت حاصل کر لیتے ہیں۔ اپنے آج کو فکرِ فردا میں ضائع مت ہونے دیں۔

آج میں جینے کا آسان طریقہ:
1. ایک لمبا اور گہرا سانس لیں اور اس لمحے میں خود کو محسوس کریں۔
2. صرف ان چیزوں پر توجہ دیں جو اس وقت آپ کے اختیار میں ہیں۔
3. کل کی فکر چھوڑ کر، آج کا پہلا قدم اٹھائیں۔


Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd

18/06/2026

ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی خاموش جنگ سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، اور خود کے ساتھ بھی۔ اگر آج آپ تھکے ہوئے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑا آرام کریں، خود کو سنبھالیں، پھر دوبارہ چل پڑیں۔ یاد رکھیں، سفر وہی مکمل کرتے ہیں جو رکنے کے بعد بھی واپس اٹھنا جانتے ہیں۔

Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd

17/06/2026

ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں لوگ حقیقی مسائل سے کم، اور ذہنی تھکن سے زیادہ شکست کھا رہے ہیں۔

17/06/2026

میں نے آپ کے ساتھ مختلف این ایل پی ٹیکنیکس شیئر کی ہیں۔
آپ کے لیے سب سے زیادہ بہترین ٹیکنیک کونسی رہی ہے جو آپ کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند رہی ہو اور کیا آپ چاہتے ہیں کہ روزانہ آپ کے ساتھ ایک ٹیکنیک شیئر کی جائیں۔
کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں۔

Muhammad Waqas
NLP Trainer
Life Coach
Psychologist
Author
Pakistan Air Force Retd

17/06/2026

دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک جھوٹ یہ ہے کہ حالات انسان کو ہرا دیتے ہیں۔ کائنات کا ایک انتہائی سفاک اور تلخ سچ یہ ہے کہ انسان کبھی حالات، غربت یا دشمنوں سے نہیں ہارتا؛ وہ اس دن ہارتا ہے جس دن وہ اپنے اندر بیٹھے ہوئے جنگجو کو، اپنی امید کو، خود اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتا ہے۔
1952 میں ایک امریکی ادیب ارنسٹ ہیمنگوے نے ایک پتلی سی کتاب لکھی، جس کا نام تھا "دی اولڈ مین اینڈ دی سی" (The Old Man and the Sea)۔ بظاہر یہ ایک بوڑھے مچھیرے اور ایک مچھلی کی کہانی تھی، لیکن درحقیقت یہ انسانی برداشت، رواقی فلسفے (Stoicism) اور کسی بھی ہارے ہوئے انسان کے دوبارہ 'ناقابلِ تسخیر' (Invincible) بننے کا وہ بے رحم بلو پرنٹ تھا جس نے ہیمنگوے کو ادب کا نوبل انعام دلا دیا۔
ذرا چشمِ تصور میں لائیے۔ سینٹیاگو نام کا ایک بوڑھا، کمزور اور غریب مچھیرا۔ 84 دن گزر چکے ہیں اور وہ سمندر سے ایک چھوٹی سی مچھلی بھی نہیں پکڑ سکا۔ معاشرے نے، اس کے ساتھیوں نے، اور مارکیٹ نے اسے 'سالاؤ' (Salao) یعنی بدترین درجے کا منحوس قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ جانے والے نوجوان لڑکے کو بھی اس کے والدین نے اس سے دور کر دیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک عام انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے، اپنی قسمت کا رونا روتا ہے اور سمندر کنارے بیٹھ کر موت کا انتظار کرتا ہے۔
لیکن ایک حقیقی لیڈر کی کایا پلٹ کا آغاز اسی اندھیرے سے ہوتا ہے۔ سینٹیاگو نے معاشرتی ہپناٹزم اور طعنوں کو مسترد کر دیا۔ وہ 85ویں دن ایک بار پھر اپنی چھوٹی، خستہ حال کشتی لے کر سمندر کی بے رحم لہروں میں تنہا اتر گیا۔
اور پھر اس کے کانٹے میں ایک ایسی دیوہیکل مارلن (Marlin) مچھلی پھنسی جو اس کی کشتی سے بھی دو فٹ لمبی تھی۔ تین دن اور تین راتیں... بوڑھا اس مچھلی کے ساتھ موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ اس کے ہاتھ رسیوں کی رگڑ سے کٹ کر لہولہان ہو گئے، پیاس سے حلق میں کانٹے پڑ گئے، بوڑھی ہڈیاں درد سے چیخ اٹھیں، اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا، لیکن اس نے ڈور نہیں چھوڑی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہیمنگوے رواقیت (Stoicism) کی سب سے بڑی اور سفاک حقیقت بیان کرتا ہے، “درد ایک لازمی جزو ہے، لیکن اس درد کے سامنے ہتھیار ڈالنا آپ کا اپنا انتخاب ہے۔"
بالآخر بوڑھا اس دیوہیکل مچھلی کو مار لیتا ہے، اسے اپنی کشتی کے ساتھ باندھتا ہے اور فاتحانہ انداز میں ساحل کی طرف پلٹتا ہے۔ لیکن کائنات اتنی جلدی کسی کو ہیرو نہیں مانتی۔ سمندر میں پھیلی خون کی بو سونگھ کر شارک مچھلیوں کے غول کشتی پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ بوڑھا اپنے خون کے آخری قطرے تک ان شارک مچھلیوں سے لڑتا ہے۔ وہ اپنا نیزہ، اپنا چاقو، اپنا چپو... سب کچھ ایک ایک کر کے شارکس کے سروں میں گھونپ کر توڑ دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ ہار رہا ہے، مگر وہ لڑنا نہیں چھوڑتا۔ جب وہ ساحل پر پہنچتا ہے تو اس کی دیوہیکل مچھلی کا صرف ایک سفید ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے۔ گوشت شارک مچھلیاں کھا چکی ہوتی ہیں۔
بظاہر وہ ہار گیا۔ مارکیٹ کے حساب کتاب میں اسے کچھ نہیں ملا، وہ خالی ہاتھ لوٹا۔ لیکن حقیقت میں وہ جیت چکا تھا۔ اس نے سمندر کی بے رحم موجوں اور قدرت کو یہ بتا دیا تھا کہ تم میرا جسم توڑ سکتے ہو، تم میرا رزق چھین سکتے ہو، تم میری ہڈیاں چٹخا سکتے ہو، لیکن تم میرا ارادہ نہیں توڑ سکتے۔ ہیمنگوے نے اس کتاب میں ایک ایسا جملہ لکھا جو آج بھی تاریخ کے سینے پر خنجر کی طرح گڑا ہے۔
"انسان تباہ تو ہو سکتا ہے، لیکن شکست نہیں کھا سکتا۔" (A man can be destroyed but not defeated)
ہم میں سے ہر انسان اپنی زندگی کے سمندر میں ایک سینٹیاگو ہے۔ ہمارے سامنے بھی معاشی بحران، کاروباری ناکامیوں، اور اپنوں کی بے وفائی کی شارک مچھلیاں منہ کھولے کھڑی ہیں۔ ہم روز اپنی محنت کو، اپنے خوابوں کو ان شارکس کے جبڑوں میں چھنتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لیکن ایک سسٹمک اور باشعور انسان جانتا ہے کہ اصل کایا پلٹ (Transformation) اس دن ہوتی ہے جب آپ حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ ناقابلِ تسخیر ہیں۔
آپ کا اصل اثاثہ وہ مچھلی (دولت یا عارضی کامیابی) نہیں ہے جو آپ نے پکڑی تھی، آپ کا اصل اثاثہ آپ کا وہ بے رحم مائنڈسیٹ ہے جو 84 دن کی مسلسل اور ذلت آمیز ناکامی کے بعد، 85ویں دن بھی آپ کو دوبارہ اپنی چھوٹی سی کشتی لے کر سمندر میں اترنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
فیصلہ اب آپ کی اپنی مٹھی میں ہے۔ آپ حالات کی ایک شارک دیکھ کر رونا شروع کر دیں گے، اپنی قسمت کو کوسیں گے اور کنارے پر بیٹھ کر موت کا انتظار کریں گے؟ یا سینٹیاگو کی طرح اپنے ٹوٹے ہوئے چپو سے آخری سانس تک لڑتے ہوئے، اس کائنات کے سامنے خود کو ناقابلِ تسخیر ثابت کریں گے؟

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


First Floor, Suit No 594, Block F2, Johar Town
Lahore
54000