Muhammad Farooq

Muhammad Farooq

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Farooq, Sports, Karachi.

13/07/2026

بٹ کوائن اور روپیہ..... کھاتے!
محمد اویس پراچہ
===================

کیا بٹ کوائن کسی کھاتے کا ایک نمبر ہے؟

میری رائے یہی ہے کہ ایسا نہیں ہے اور اس پر کافی عرصہ قبل لکھ بھی چکا ہوں۔ یہ در اصل ڈاکٹر مبشر رحمانی صاحب کی تحقیق تھی جس پر میں نے لکھا تھا۔ شاید دار العلوم کراچی کے فتوے میں اسی تحقیق کو لیا گیا ہے۔ اس کے لنکس کسی وقت لگانے کا ارادہ ہے۔

سر دست ایک سوال ہے....! کیا کسی کھاتے میں لکھے نمبر کو ہم واقعی کرنسی یا زر اعتباری نہیں کہتے؟ عمومی خیال تو یہی ہے کہ ہم اسے زر اعتباری نہیں کہہ سکتے۔ البتہ جدید معاشی نظام میں بینکس ایک کام کرتے ہیں جسے "تخلیق زر" یعنی کرنسی بنانا کہتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟

عالم ایک شخص ہے جو "پلاسٹک دانے" کا امپورٹر ہے۔ اس کے پاس دس لاکھ روپے ہیں۔ یہ ایک بینک "اے بی سی بینک" میں اکاؤنٹ کھلوا کر دس لاکھ اس میں رکھ دیتا ہے۔ عالم کے یہ دس لاکھ روپے بینک پر قرض ہیں جنہیں بینک آگے استعمال کر سکتا ہے۔

زید ایک کاروباری ہے۔ اس کی ایک دکان ہے جہاں وہ پلاسٹک کا سامان بیچتا ہے۔ اسے اپنی دکان کے لیے مال چاہیے لیکن پیسے نہیں ہیں۔ وہ اے بی سی بینک کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ مجھے دس لاکھ روپے درکار ہیں۔ بینک اس کا ایک اکاؤنٹ کھول کر اس میں دس لاکھ کی کریڈٹ لمٹ ڈال دیتا ہے۔

اب زید دس لاکھ روپے کا مال خرید سکتا ہے اور بینک اس کے لیے عالم کے ڈلوائے دس لاکھ استعمال کرے گا۔ لیکن فی الحال حقیقت یہ ہے کہ بینک نے یہ دس لاکھ زید کو دیے نہیں ہیں بلکہ ایک وعدہ کیا ہے کہ وہ زید کی ادائیگی کے وقت دس لاکھ دے گا۔

زید گیا بکر کے پاس جس کی پلاسٹک کے سامان کی فیکٹری ہے۔ بکر سے اس نے سامان مانگا تو بکر نے کہا کہ وہ آرڈر تیار کر کے دے گا اور زید اسے ایڈوانس دے دے۔ زید نے اسے پانچ لاکھ کا چیک کاٹ دیا۔ بکر نے چیک اے بی سی بینک کو دے دیا۔

اے بی سی بینک نے بکر کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ لکھے، زید کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ منفی کیے اور زید کو پانچ لاکھ کا مقروض ٹھہرا دیا۔ لیکن....... یہ پانچ لاکھ اے بی سی بینک نے کبھی زید کو دیے ہی نہیں تھے تو قرض کیسے ہوا؟ صرف اکاؤنٹ میں لکھنے سے!

اب اس وقت اے بی سی بینک پر قرضہ ہے پندرہ لاکھ کا: دس لاکھ عالم کے اور پانچ لاکھ بکر کے۔ لیکن حقیقت میں پیسے تو کل دس لاکھ ہی ہیں اور باقی پانچ لاکھ کھاتے میں ایک نمبر ہے جو در حقیقت قرض سے نہیں، بلکہ اس کے وعدے سے بنا ہے۔ البتہ اس ملک کی کرنسی اب پندرہ لاکھ سمجھی جائے گی۔

بکر گیا خالد کے پاس جو پلاسٹک دانہ بیچتا ہے۔ اس سے بکر نے پانچ لاکھ کا مال خرید لیا اور چیک دے دیا۔ بینک نے بکر کا اکاؤنٹ منفی کر کے خالد کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ لکھ دیے. ادائیگی ہو گئی..... کس کی؟ اس رقم کی جو ایک وعدہ تھی اور کبھی کسی کے ہاتھ میں آئی ہی نہیں۔

خالد گیا عالم کے پاس جو پلاسٹک دانے کا امپورٹر ہے۔ خالد نے اس سے پلاسٹک دانہ خریدا اور اسے پانچ لاکھ کا چیک دے دیا۔ عالم نے وہ چیک اے بی سی بینک میں جمع کروا دیا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ:
1. عالم کے بینک پر پندرہ لاکھ قرض ہیں جب کہ اس نے صرف پانچ لاکھ جمع کروائے تھے۔
2. بینک کے زید پر پانچ لاکھ قرض ہیں جو اس نے زید کو کبھی دیے ہی نہیں تھے۔
3. بینک کے پاس ٹوٹل دس لاکھ ہیں جب کہ اس نے عالم کو پندرہ لاکھ دینے ہیں۔

باقی کے پانچ لاکھ کہاں ہیں؟ آسان جواب ہے جب زید دے گا تو بینک عالم کو دے دے گا۔ لیکن ذرا فرض کیجیے کہ اس ملک کی کل معیشت یہی ہے..... یہ پانچ لاکھ کبھی چھپے ہی نہیں تو زید کے پاس کہاں سے آئیں گے؟ کہیں سے نہیں، اور یہ پوائنٹ ہے جہاں جب عالم پیسے مانگنے جاتا ہے تو بینک دیوالیہ ہو جاتا ہے۔

میں آگے چل کر بتاتا ہوں کہ اس وقت حقیقت میں پاکستان کے پاس کتنی حقیقی کرنسی ہے اور کتنے یہ کھاتے کے نمبر، لیکن پہلے اہم سوالات یہ ہیں:
1. کیا ہم زید کے اکاؤنٹ میں صرف منفی نمبر لکھنے سے اسے قرض دار نہیں مان رہے؟ کیا یہ کھاتے کا ایک نمبر نہیں ہے؟
2. کیا ہم باقی سب کی ادائیگی کھاتے کے اسی نمبر سے درست نہیں مان رہے؟
3. کیا ہم عالم کے کھاتے میں پانچ لاکھ کا نمبر ڈال کر اسے پندرہ لاکھ کا مالک نہیں مان رہے حالانکہ یہ پانچ لاکھ دنیا میں ہیں ہی نہیں؟
4. آخر یہاں "کرنسی" ہے کیا اس وعدے کے سوا جو بینک نے زید سے کیا تھا؟

اس وقت پاکستان کے فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں کل جاری کردہ نوٹ اور سکے بارہ ٹریلین روپے کے ہیں جب کہ پاکستان کی کل ایم ٹو سپلائی تینتالیس ٹریلین روپے ہے۔ باقی تقریباً اکتیس ٹریلین روپے وہ ہیں جو بینکوں کے کھاتوں میں ہیں۔

یعنی پاکستان کی بہتر فیصد کرنسی ایسی ہے جو کبھی دنیا میں بنی ہی نہیں ہے اور صرف کھاتوں کے نمبروں کی شکل میں موجود ہے۔ اگر اہل پاکستان بینکوں سے پیسے مانگنے جائیں تو انہیں صرف اٹھائیس فیصد ہی رقم مل سکتی ہے۔ مل وہ بھی نہیں سکتی کیوں کہ بینکوں کے پاس کل کیش صرف آٹھ سو بلین روپے ہے۔

کیا ہم بینکوں سے ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کو یہ کہہ کر غلط قرار دے دیتے ہیں کہ یہ کھاتے میں موجود نمبر ہیں؟ یا یہ ایک قرض کا وعدہ تھا؟ کیا قرض کا وعدہ بھی کرنسی بن سکتا ہے؟ اگر ہاں.... تو پھر کرپٹو کیوں نہیں؟

ڈاکٹر مبشر رحمانی صاحب کمپیوٹر سائنس کے ماہر ہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ کرپٹو پر حکم کے لیے مزید علوم کی بھی ضرورت ہے تو ہمارے بعض دوست ناراض ہو جاتے ہیں گویا کہ میں ان کی توہین کر رہا ہوں۔ کمپیوٹر سائنس کے ماہر سے آپ اس سوال کا جواب بھلا کیسے لے سکتے ہیں؟ گو انہیں خود ایسے ہر جواب کو گھمانے کا شوق ہو؟

یہاں کچھ دوست لازماً یہ کہیں گے کہ اس کھاتے کے نمبر کے پیچھے چونکہ حکومت ہے لہذا یہ کرنسی بن جائے گا۔ ان کی خدمت میں دو سوال برائے تحقیق ہیں۔ نہ حل کر سکیں تو مجھے بتا دیجیے گا، میں ہی جواب دے دوں گا:

1. کسی وعدے کے پیچھے حکومتی گارنٹی ہو کہ یہ وعدہ بطور کرنسی قبول کروایا جائے گا تو کیا وہ کرنسی بن جاتا ہے؟ اس کی کوئی فقہی نظیر ہے؟
2. اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پیسے چھاپ کر فوراً دے دے گی تو پھر امریکہ وغیرہ میں 2008 اور 2023 میں کئی بڑے بینک دیوالیہ کیسے ہو گئے؟ کیا ان بڑے ممالک کی حکومتوں کے پاس کاغذ کی شارٹیج ہو گئی تھی؟

ایک ٹریلین: دس کھرب
ایک بلین: ایک ارب

Photos from Muhammad Farooq's post 13/05/2025

کاٹھور: کراچی کے سرسبز وجود کا آخری مورچہ
حفیظ بلوچ

سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مضافاتی علاقے کاٹھور، جو گڈاپ میں واقع ہے، اپنی زرخیز زمینوں، سرسبز باغات اور قدیم زرعی روایت کے باعث ایک اہم پہچان رکھتا ہے۔ کاٹھور کے ایک طرف ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) جیسے جدید رہائشی منصوبے ہیں تو دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کراچی جیسے بڑے کمرشل منصوبے۔ مگر ان دونوں کے بیچ کاٹھور آج بھی فطرت کے حسن اور زمین کی سخاوت کا نمائندہ ہے۔

یہ علاقہ صرف آم کے باغات تک محدود نہیں بلکہ یہاں سیتاپھل، پپیتا، چیکو، گندم، اور کئی دیگر پھلوں و سبزیوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ ضلع ملیر کی زرخیزی کا زندہ ثبوت کاٹھور کے یہی باغات ہیں۔ عہدِ قدیم سے یہ خطہ ایک زرعی اور دیہی معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں کے کنویں اور زمینیں آج بھی اس ماضی کی گواہی دیتی ہیں جب یہاں کی مٹی میں اتنی طاقت تھی کہ جو بھی بویا جاتا، بہترین انداز میں اگتا ہے ـ

مگر گزشتہ چالیس برسوں سے یہاں کے کسان اور زمیندار مایوسی کا شکار ہیں۔ اس زمین کی طاقت کا انحصار یہاں بہنے والی ندیوں پر ہے، جن میں قدرتی ریت اور بجری موجود ہے۔ بدقسمتی سے جب سے تعمیراتی صنعت نے ریت و بجری کو بطور کنسٹرکشن میٹیریل استعمال کرنا شروع کیا، تب سے ان ندیوں پر بلڈر مافیا اور ریتی بجری مافیا کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ قانونی اور آئینی طور پر ملیر میں ریتی و بجری کی مائننگ اور چوری پر پابندی ہے، مگر حکومت، اس کے ادارے اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد اس غیر قانونی عمل کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ عدالتیں اس ظلم کے آگے بےبس نظر آتی ہیں۔

اس بے لگام لوٹ مار کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، جو نہ صرف کاشتکاری بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس کے باوجود ملیر، گڈاپ اور کاٹھور کے کسان آج بھی اپنی مدد آپ کے تحت کاشتکاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اب سندھ بھر میں کارپوریٹ فارمنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے، مگر ملیر میں تو گزشتہ بیس سالوں سے زرعی زمینوں کی سرمایہ داروں میں بندر بانٹ جاری ہے۔ کاٹھور سمیت پورا ملیر آج اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں ان سرسبز باغات کو ملیامیٹ کر کے زمینیں بلڈر مافیا کے حوالے نہ کر دی جائیں۔

یہاں آم کے کئی درخت ایسے ہیں جنہیں پچاس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور وہ آج بھی ثمر بار ہیں۔ یہ وہ قیمتی اثاثے ہیں جنہیں صرف بچانے کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے گنجان اور آلودگی زدہ شہر کے لیے اگر کوئی فطری آکسیجن زون باقی ہے تو وہ یہی ملیر، گڈاپ، کاٹھور، درسانہ چنہ، چوہڑ اور ان سے ملحقہ علاقے ہیں، جہاں آج بھی ایگریکلچر سسٹم زندہ ہے، جہاں آج بھی دیہی معاشرہ اپنی زمین، ندی، درختوں اور گاؤں سے محبت کرتا ہے۔

یہ محض کاٹھور کے لوگوں کی نہیں، بلکہ پورے کراچی کے شہریوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطے کی حفاظت کریں۔ کیونکہ حکومتیں، عدالتیں اور ریاستی ادارے آج بھی سرمایہ داروں، قبضہ گروپوں، بلڈر مافیا اور ریتی بجری مافیا کے آگے بےبس نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دھندا ہے، جو نہایت گندا ہے— اور اس کے نتیجے میں ہم اور ہمارا ماحول تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

23/04/2025

*ہر شخص کا ایک میدان ہوتا ہے … اور وہی اس کا جہاد ہوتا ہے!*

یہ دین کبھی خالد بن ولیدؓ کی تلوار کیلئے ضروری ہوا جب معرکہ سخت ہوا — اور کبھی حسّان بن ثابتؓ کی شاعری کا جب فکری معرکہ شدت اختیار کر گیا۔
خالدؓ، حسّانؓ کی جگہ نہ لے سکے، اور نہ ہی حسّانؓ خالدؓ کی۔

اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو ایک ایک مورچے پر کھڑا کیا ہے — ہر ایک کا ایک مخصوص مقام ہے، جس کا اسے دفاع کرنا ہے۔
نہ اسے اپنے مورچے کو کمتر سمجھنا چاہیے، اور نہ یہ گمان کرنا چاہیے کہ اس کا مورچہ سب سے اعلیٰ ہے۔

غزوہ تبوک میں جب لشکرِ عسرہ کو مال درکار تھا، تو عثمانؓ کا مال سب سے قیمتی تھا۔
لیکن جب قرآن کو جمع کرنے کا مرحلہ آیا، تو ابی بن کعبؓ کی قراءت عثمانؓ کے مال، خالدؓ کی تلوار اور حسّانؓ کی شاعری سے بھی زیادہ اہم بن گئی۔
لہٰذا جب تمہاری باری آئے، تو شیر بن کر اُٹھو!

خیبر میں جب علیؓ نے مرحب جیسے دشمن کو للکارا، تو ان کی تلوار اتنی ہی قیمتی تھی جتنی وہ رقم جس سے ابوبکرؓ نے بلالؓ کو آزاد کرایا۔
یہ دونوں مختلف کام تھے، اور دونوں ہی عظیم۔

یہ دین تکمیل ہے، مقابلہ نہیں۔ یہ یکجہتی ہے، برتری نہیں۔

آج بھی یہی حال ہے۔ امت کے سامنے بہت سے محاذ ہیں، اور ہر مسلمان ایک محاذ پر کھڑا ہے۔

ماں اپنے گھر میں ایک مورچے پر ہے — کیونکہ مردوں کی تربیت وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
استاد اپنے کلاس میں ایک مورچے پر ہے — کیونکہ جاہل امت کبھی قائد نہیں بن سکتی۔

مجاہد ایک ایسا مورچہ سنبھالے ہوئے ہے جو مسجد کا امام نہیں سنبھال سکتا —
اور امام مسجد ایک ایسا مورچہ سنبھالے ہوئے ہے جو تاجر نہیں سنبھال سکتا —
اور وہ تاجر جس کی سخاوت، صدقہ و خیرات اور حاجتمندوں کی مدد،
اسی قدر اہم ہے جیسے کسی مجاہد کی قربانی، یا امام کی ہدایت۔

دیکھو، اللہ نے تمہیں جہاں کھڑا کیا ہے، وہی تمہارا مورچہ ہے۔
اسے مضبوطی سے تھامو، وہیں جہاد کرو، اور اپنا کردار ادا کرو۔

جب ہر شخص اپنا کام کرے گا — تب یہ امت اپنا کھویا ہوا مقام واپس پائے گی۔

*لہٰذا — ابتداء اپنے آپ سے کرو، دوسروں کا انتظار نہ کرو!*
Copied from faiz ahmed khan writes
wall

05/03/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ تمام ممبران خیر و عافیت سے ہونگے اللہ تبارک و تعالی آپ سب کو خوش اور آباد رکھے اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین )
کچھ عرصے سے ہم انفرادی ایک کام کر رہے ہیں ابھی سوچا کہ اس نیکی کے کام میں اپنے بھائیوں کو بھی_ساتھ شریک کریں اور یہ نیکی ایک ایسی نیکی ہے جو مرنے کے بعد بھی آپ کے نامہ اعمال میں لکھی جائے گی جس طرح کہیں پانی کی ضرورت ہے وہاں کسی کو پانی کا کنواں نکال کے دے دیا یہ کہ کہیں مسجد میں اپنا حصہ ڈال دیا یا کسی بے سہاروں کے ساتھ مدد کر لی اس کے لیے جو احباب اس مہم میں ہمارے شانہ بشانہ اللہ کی رضا کے لئے شامل ہونا چاہتے ہیں. ہمارے پاس اپنا نام لکھوا دین تاکہ اس خیروبرکت کے کام میں آپ بھی ہمارے ساتھ شانہ بشانہ ہو جائے
🛑متوجہ ہوں 🛑
🙏🏻 *ایک درخواست ہے*.
👈🏻 اگر آپ روزانہ *بیس روپے* صدقہ کرتے ہیں تو شاید ساری زندگی کسی ایک انسان کو بھی برسرِ روزگار نہیں کر سکتے لیکن اگر اپنے جیسے *دس افراد* کا گروپ بنا لیں اور *وہ دس افراد مزید دس دس لوگوں* کو اپنے ساتھ جوڑ لیں تو یہ تعداد ایک سو ہوجائے گی اور ایک سو افراد روزانہ کے بیس روپے جمع کریں تو مہینہ میں *ساٹھ ہزار روپے* ہوجائیں گے اور ایک سال میں *سات لاکھ بیس ہزار روپے*.
🌷 اب یہ *سو افراد* کا گروپ چاہے تو چھوٹے *قرضِ حسنہ* دے کر ہر ماہ کسی ایک بے روزگار کو روزگار دے سکتا ہے اور *چند ہی سالوں میں یہ قرض واپس آکر مزید غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اور ضرورت کے مطابق فی سبیل اللہ بھی کسی کے روزگار کا بندوبست کر سکتا ہے*.
💭 *ذرا سوچیے*!
♻️ ہمارے شہروں میں اگر اس طرح کی بیسیوں کمیٹیاں بن جائیں تو پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا مگر یہ کرے کون؟

*ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کوئی اور لیڈر بنے ۔۔۔ ارے بھائی خود آگے آئیے اور اس قوم کے لئے خود ہی کچھ کیجئے*۔
👈🏻 اسی طرح اگر آپ صرف *زکوٰۃ کی تقسیم* ہی درست کرلیں تو بھی کایا پلٹ سکتی ہے۔ آپ یہ رقم کسی *مستحق کی بحالی* پر لگائیے *ان شاء اللہ* یہ ادائیگی *صدقہ جاریہ* بن جائے گی۔۔
☂️ *زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر دورانیہ کے 20 سے 25 سال ہماری تعلیم کھا گئی، 15 سال معیشت کو سنبھالتے سنبھلتے گزر گئے باقی پیچھے بچا کیا ۔۔۔؟؟ اس لئے آج اور ابھی سے کچھ کرنے کا جذبہ لے کر میدان میں اتر جائیے. کچھ کرنے کا جذبہ ہے تو اپنے حصے کی شمع جلائیے. اپنے رشتہ داروں، احباب، فیس بک کھاتہ سے دس لوگ نکالیے اور فوری طور پہ مخلوق کی بھلائی میں لگ جائیے۔*
رابطہ کیلئے 03009298904

#محمدایس فاروقی کی وال سے کاپی

02/01/2025

چینی کی بجاے گڑ کا استمال کریں تاکہ بڑی بڑی شوگر ملز والوں کی بجاے چھوٹے طبقے کے کسانوں کو ڈائریکٹ فائدہ ہو

26/12/2024

کل الفیض سپر سٹور شاہ لطیف ٹاؤن پر

ڈکیتی کے دوران ڈکیتوں کی فائرنگ سے گارڈ اور کیشیئر بری طرح زخمی ہوئے
لیکن چند گھنٹے بعد ہی قریب کے ایک گھر سے ان ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا گیا اور گارڈ سے چھینی گئی کلاشنکوف بھی برآمد کی گئی ...... إن چار ڈاکؤؤں میں ایک ڈاکو آصف نامی پولیس اہلکار بھی تھا جو کچھ عرصہ قبل کسی جرم کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا.......
ڈاکوؤں کے ساتھ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کا نیکسز ہی ان آئے روز وارداتوں کی بڑی وجہ ہے .......
اس نیکسز کو آہنی ہاتھوں سے ختم نہ کیا گیا تو کراچی والے اسی طرح لٹتے اور مرتے رہینگے .......
پولیس اہلکار کا اس واردات میں ڈاکوؤں کے ساتھ شامل ہونا اس نکسز کا واضح ثبوت ہے .......

11/12/2024

Early morning 🌄

03/11/2024

مرد کا دوسرا تیسرا نکاح کرنے کا جو سکون عورت ذات کو ہے وہ مردوں کو نہیں ہیں۔ عورتوں کو اپنی مرضی سے آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے ماں باپ کے گھر جانے کیلیے وافر ٹائم مل جاتا ہے یہ ٹینشن نہیں ہوتی پیچھے شوہر کا کیا ہوگا اسکو کھانا کون دے گا کپڑے کون تیار کرے گا مرد حرام رشتوں اور حرام کاریوں اور حرام جگہ پیسہ برباد کرنے سے بچ جاتا ہے ۔۔عورتوں کے اللہ کی طرف سے بنائی ہوئی ساخت کے مطابق ماہانہ بھی اس کو آرام مل جاتا ہے گھر کی کام والی بننے کی بجائے وہ گھر میں اور بھی بہت سے کاموں اور کورسسز کی طرف توجہ دے سکتی ہے لامحدود کام اور بچوں کو سنبھالنے کی وجہ سے جو عورتوں کی صحت کا حال ہوتا ہے ۔۔۔ 35 سال میں ہی ختم ہو جاتی ہیں ۔۔ نا ظاہری حسن بچتا ہے ۔۔ نا باطنی۔موٹاپا اور دوسرے امراض کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نماز اور دیگر عبادات یکسوئی سے نہیں کر سکتیں۔
اپنے اللہ کو راضی کرنے کیلے وقت نہیں ملتا ۔اور اس سب کے پیچھے ۔۔کیا سوچ کار فرما ہے ۔۔۔۔ شوہر صرف میرا ہو ۔۔شوہر آپکا ہی ہوتا ہے ۔ یہ جو انسیکورٹی جو کہ ایک بیماری بن چکی ہے ۔۔ یہ۔ چین نہیں لینے دیتی میری مرضی کے مطابق چلے ۔۔ہر کام مجھ سے پوچھ کر کرے ۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔اور کیا آجکی عورت کے دل و دماغ میں گھومنے والے خیالات کا اللہ کو نہیں علم تھا ۔۔ جب اللہ قرآن میں حکم دے رہا تھا ۔۔۔اور اللہ کے رسول اور صحابہ نے اور انکے بعد آنے والوں نے ۔۔۔۔ بلکہ ترکی ، ایران ، عرب ممالک ۔۔ مصر ، شام ، الجزار سب میں آج تک مرد ک ایک سے زیادہ نکاح کرنا عام ہے یہ انکے دور کی بات بتا رہا ہوں ۔۔۔۔
آجکی عورت جو کہ یہود و ہنود کے پروپیگنڈا کا شکار ہے ۔۔۔۔وہ خود ہی عورت ذات کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔۔۔ کتنی بیچارہ کنواری اور ، بیوہ اور طلاق یافتہ لڑکیاں ، گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں۔ لیکن اکثر عورتوں نے جو فتنہ پھیلایا ہوا ہے کہ عورت کو یہی غم بہت ہے کہ اسکا مرد کسی اور کاشریک کیوں ہے ۔ انکا دور دیکھو ۔۔ 60 فیصد دنیا میں عورتیں ہیں اور چالیس فیصد مرد ہر گھر میں عورتوں کی تعداد دیکھ لو ۔۔۔اللہ کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے سے معاشرہ تباہی اور بربادی کی طرف جا رہا ہے یہی عورت مرد کے حرام افیئرز کا بھی رونا روتی ہے۔ایک سے زیادہ نکاح اللہ نے مرد کی جسمانی ضرورت کے لیےرکھے صحابہ کے دور میں جب صحابہ غزوات میں ، جہاد میں بڑی تعداد میں شہید ہو جاتے تو اس وقت بھی ۔۔۔ جو بیوہ لڑکیاں ہوتیں انکی مشکل سے گھروں میں عدت پوری ہوتی ۔۔اور انکو دو یا تین جگہوں سے نکاح کی پیغام آجاتے آجکی عورت نے خود ہی ہر چیز کو مشکل کیا ہوا ہے!

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi