22/10/2023
بات خاندانی اور وسعت ظرفی کی ہوتی ہے۔
اگست 2019 میں جب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر دی گئی تو تب عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر براجمان تھے انہوں نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج رکھا۔ جب وہ سٹیج پر پہنچے تو انہیں لاکر کشمیر کا جھنڈا پکڑایا گیا تو اس کم ظرف انسان نے اسے پکڑنا تک گوارہ نہیں کیا بلکہ ہاتھ سے یوں سائیڈ پر کر دیا تھا۔جبکہ وہ احتجاجی مظاہرہ خالصتاً کشمیر کے لیے تھا اس کے باوجود بھی اس کم ظرف اور کج نسل انسان نے کشمیر کا جھنڈا پکڑنا گوارہ نہیں کیا۔
آج پٹواریوں کا جلسہ تھا نواز شریف کی واپسی پر استقبالیہ جلسہ تھا۔ نواز شریف کی وطن واپسی اور چوتھی بار وزارت عظمی تک پہنچنے کے لیے پہلا پاور شو تھا۔ اپنے دھن میں مست ماحول میں جا رہے تھے۔ سیاسی تقریریں جاری و ساری تھی۔ نواز شریف کے بیان کے دوران جب فلسطین کے مسئلے پر بات آئی تو انہیں فلسطین کا جھنڈا پکڑا دیا گیا تو فوراً انہوں نے پکڑا لیا اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعادہ کیا۔ بظاہر جھنڈا پکڑنا کوئی بڑی بات نہیں مگر موازنہ کیا جائے تو بہت بڑی بات ہے۔
مجھے نہ تو نواز شریف سے کوئی ہمدردی یا لگاؤ ہے اور نہ ہی عمران خان سے کوئی ذاتی عناد ہے۔ مجھے عمران خان کی اس منافقانہ پالیسی ، کم ظرفی کج نسلی اور بغیرتی سے اختلاف ہے۔ انسان کے خاندانی ہونے کا یہی سے پتا چلتا ہے کہ کون سے موقع پر کون سی بات اور کس زاویے سے کرنی چاہیے۔ نواز شریف اور عمران خان میں اگر وسعت ظرفی اور خاندانی ہونے کا تقابل کیا جائے تو نواز شریف عمران خان سے ایک ہزار ایک درجے بہتر خاندانی اور نسلی آدمی ہیں۔ وماعلینا الالبلاغ!
✍️(عبدالقادر انجم)
07/10/2023
07/10/2023
07/10/2023
06/10/2023
06/10/2023
06/10/2023