*🏴بسْــــــــــــــمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🏴*
وَ بَینَما هُوَ یُغَسِّلُها اِذِ اعْتَزَلَها ناحِیَةً وَ صارَ یَبکِی،
وَ الحَسَنُ عَن یَمینِهِ وَ الحُسَینُ عَن شِمالِهِ وَ زَینَبُ بَینَ یَدَیهِ.
فَقالَتْ أَسماءُ: سَیِّدی، أَکمِلْ غُسلَها ثُمَّ ابکِ بَعدَ ذلِکَ لِفِراقِها.
فَقالَ أَمِیرُالمُؤمِنِینَ (علیهالسلام):
یَا أَسماءُ! بَینَما أُغَسِّلُ فاطِمَةَ مَرَّتْ یَدِی عَلَی وَجْهِها فَإِذا هُوَ مُکَدَّرٌ مِن ضَربَةِ ذلِکَ الشَّقِیِّ، وَ عَینُها حَمرَاءُ کَالدَّمِ، وَ ذِراعُها وَرِمَتْ کَالسِّوارِ، وَ بَینَما أُغَسِّلُها مَرَّتْ یَدِی عَلَی ضِلْعٍ مِن أَضلاعِها فَوَجَدتُهُ مَکسُوراً.وَ لَمْ تُخبِرْنی بِذلِکَ حَتّی لا یَشتَدَّ أَلَمی.
جب امیرالمؤمنین علی علیہالسلام حضرت فاطمہ زهرا سلاماللهعلیها کے جسمِ مطہر کو غسل دے رہے تھے،
ایک لمحے کے لیے گوشۂ اتاق میں ہٹ گئے اور رونے لگے۔
امام حسن علیہالسلام ان کے دائیں جانب، امام حسین علیہالسلام بائیں جانب،
اور حضرت زینب سلاماللهعلیها سامنے کھڑی تھیں۔
اسماء (خادمۂ حضرت) نے عرض کیا:
“اے آقا! بہتر یہ ہے کہ پہلے غسل مکمل فرما لیں، پھر جدائی پر گریہ فرمائیں۔”
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:
“اے اسماء! جب میں فاطمہ کو غسل دے رہا تھا،
میرا ہاتھ ان کے چہرے پر پہنچا تو دیکھا کہ
اس بدبخت کے تھپڑ کے نشان سے چہرہ نیلا ہو چکا ہے،
آنکھ خون کی مانند سرخ ہے،
اور بازو ایسا ورم کر گیا ہے جیسے بازوبند باندھا ہو۔
پھر جب میں ان کے پہلو پر ہاتھ پھیر رہا تھا،
میرا ہاتھ ایک پسلی پر پہنچا — وہ پسلی ٹوٹی ہوئی تھی
اور فاطمہ نے کبھی مجھ سے اس کا ذکر نہیں کیا،
تاکہ میرے دل کا درد زیادہ نہ ہو جائے اور میں شرمندہ نہ ہوں۔”
📚 منابع:
• أنوار الشهادة، شیخ یزدی، ص ۴۳۴
• العبرة الساکتة، ج ۱، ص ۷۶
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ و العن اعدائھم*
Online Mehrab Quran Center
Plz like and share
02/11/2025
۶۵۔ اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو زندہ کیا اس کے مردہ ہونے کے بعد، سننے والوں کے لیے یقینا اس میں نشانی ہے۔
۶۶۔ اور تمہارے لیے مویشیوں میں یقینا ایک سبق ہے، ان کے شکم میں موجود گوبر اور خون کے درمیان سے ہم تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔
۶۷۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشے کی چیزیں بناتے ہو اور پاک رزق بھی بنا لیتے ہو، عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس میں ایک نشانی ہے۔
۶۸۔ اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کی کہ پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو عمارتیں بناتے ہیں ان میں گھر (چھتے) بنائے۔
۶۹۔ پھر ہر (قسم کے) پھل (کا رس) چوس لے اور اپنے رب کی طرف سے تسخیر کردہ راہوں پر چلتی جائے، ان مکھیوں کے شکم سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں ایک نشانی ہے۔
۷۰۔ اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے اور تم میں سے کوئی نکمی ترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے، اللہ یقینا بڑا جاننے والا، قدرت والا ہے۔
۷۱۔ اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے، پھر جنہیں فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو دینے والے نہیں ہیں کہ دونوں اس رزق میں برابر ہو جائیں، کیا (پھر بھی) یہ لوگ اللہ کی نعمت سے انکار کرتے ہیں؟
۷۲۔ اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں اور اس نے تمہاری ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کیے اور تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں تو کیا۔یہ لوگ باطل پر ایمان لائیں گے اور اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے؟
*🌹بسْــــــــــــــمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🌹*
عَنْ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیهالسلام قَالَ:
لَمَّا أُخْرِجَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ علیهالسلام مِنْ مَنْزِلِهِ، خَرَجَتْ فَاطِمَةُ علیهاالسلام تَجُرُّ قَمِيصَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَأْسِهَا، وَ قَدْ أَخَذَتْ بِيَدَيْ ابْنَيْهَا، فَقَالَتْ:
مَا لِي وَ لَكَ يَا فلان ؟ تُرِيدُ أَنْ تُؤْتِمَ ابْنَيَّ وَ تُرَمِّلَنِي مِنْ زَوْجِي؟!
وَ اللَّهِ لَوْ لَا أَنْ تَكُونَ سَبَقَتْنِي الْبَلْوَى، لَنَشَرْتُ شَعْرِي وَ صَرَخْتُ إِلَى رَبِّي.
ثُمَّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ علیهالسلام:
وَ اللَّهِ لَوْ نَشَرَتْ شَعْرَهَا مَاتُوا طُرّاً.
جب امیرالمؤمنین علی علیهالسلام کو گھر سے باہر لے جایا گیا،
حضرت فاطمہ زهرا سلاماللهعلیها پیراهنِ رسول خدا ﷺ کو سر پر ڈالے،اور اپنے دو فرزندوں (حسن و حسین علیهماالسلام) کا ہاتھ پکڑے گھر سے باہر آئیں،
اور فرمایا:
“اے فلاں ! میرا تم سے کیا واسطہ ہے؟!
کیا تم چاہتے ہو میرے دونوں بیٹوں کو یتیم کرو اور مجھے شوہر سے بیوه بنا دو؟!”
پھر فرمایا:“خدا کی قسم! اگر گناه نہ ہوتا، اپنے بالوں کو پریشان کر کے،اپنے پروردگار سے فریاد کرتی۔”
امام محمد باقر علیهالسلام نے فرمایا:
“خدا کی قسم! اگر حضرت فاطمہ سلاماللهعلیها اپنے بالوں کو پریشان کرتیں،تمام وہ مردم (ستمگران) فوراً مر جاتے۔”
📚الکافی، ج ۸، ص ۲۳۸، ح ۳۴۷.
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ و العن اعدائھم*
السلام عليكم
امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
*لَا تَسْتَحِ مِنْ اِعْطَاءِ الْقَلِیْلِ، فَاِنَّ الْحِرْمَانَ اَقَلُّ مِنْهُ*
تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں، کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے
📚کلمات قصار 67
*🌹بسْــــــــــــــمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🌹*
پیامبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الاِسْتِغْفَارِ جَعَلَ اللّٰهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ.
جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات،ہر تنگی سے راستہ،اور ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا۔
📚 نهج الفصاحه، حدیث شماره 2941
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ و العن اعدائھم*
السلام عليكم
امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
*۔۔۔قَلِيلُ اَلْعَمَلِ مِنَ اَلْعَالِمِ مَقْبُولٌ مُضَاعَفٌ وَ كَثِيرُ اَلْعَمَلِ مِنْ أَهْلِ اَلْهَوَی وَ اَلْجَهْلِ مَرْدُودٌ۔۔*
عالم کا تھوڑا عمل قبول ہوتا ہے (اور) کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، جبکہ اہلِ ہوا و ہوس اور جاہل کا زیادہ عمل رد کر دیا جاتا ہے۔
📚کافی ج1 ص13
السلام عليكم
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:
*اِنّا مَعاشِرَ الاَْنْبياءِ اُمِرْنا اَنْ نُـكَلِّمَ النّاسَ عَلى قَدْرِ عُقولِهِمْ*
بے شک ہم انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں سے اُن کی عقل کے مطابق گفتگو کریں۔
📚تحف العقول ص37
📚المحاسن ص195
📚بحار الانوار ج1 ص106
*🌹بسْــــــــــــــمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🌹*
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قالَ:
لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ فَرَضَ اللّهُ لَهَا رِزْقاً حَلَالاً، يَأْتِيهَا فِي عَافِيَةٍ،
وَعُرِضَ لَهَا بِالْحَرَامِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ،فَإِنْ هِيَ تَنَاوَلَتْ شَيْئاً مِنَ الْحَرَامِ قَاصَّهَا مِنَ الْحَلَالِ الَّذِي فَرَضَ لَهَا،وَعِنْدَ اللّهِ سِوَاهُمَا فَضْلٌ كَثِيرٌ،
وَهُوَ قَوْلُهُ: «وَاسْأَلُوا اللّهَ مِنْ فَضْلِهِ»
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے ایک معین اور یقینی حلال رزق مقرر کیا ہے جو لازماً اسے پہنچے گا،
اور اسی کے ساتھ ایک حرام رزق بھی دوسرے راستے سے اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
اگر وہ اس حرام میں سے کچھ حاصل کر لے تو اتنی ہی مقدار اس کے حلال رزق میں سے کم کر دی جاتی ہے۔
اور ان دونوں کے علاوہ اللہ کے پاس بہت زیادہ فضل و برکت موجود ہے،
جس کے بارے میں قرآن میں فرمایا گیا ہے:
"اور اللہ کے فضل میں سے مانگو" (سورہ نساء، آیت ۳۲)
📚 بحارالانوار، ج ۱۰۳، ص ۱۱، ح ۴۹
📖 سورہ نساء، آیت ۳۲
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ و العن اعدائھم*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Qom