24/08/2026
کرناٹک کے منڈیا میں ایک 68 سالہ خاتون کے انتقال کے بعد اس کے گھر سے 8 لاکھ 40 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔ حور نامی یہ خاتون اپنی پوری زندگی بھیک مانگ کر گزارتی رہی تھی۔
حور گزشتہ روز عمر سے متعلق بیماری کے باعث انتقال کر گئی۔ اس کے انتقال کے بعد مقامی لوگوں نے جب گھر کا سامان دیکھا تو انہیں 30 سے زیادہ بوریوں میں بڑی تعداد میں سکے اور 10، 20 اور 50 روپے کے نوٹ بھرے ہوئے ملے۔
گھر میں موجود رقم کی گنتی کے بعد مجموعی رقم 8 لاکھ 40 ہزار روپے نکلی۔ مقامی لوگوں کی جانب سے رقم گننے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں بوریوں سے سکے اور نوٹ نکال کر ان کی گنتی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
18/07/2026
حفاظِ قرآن نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی، نیٹ یوجی 2026 میں 22 حفاظ و حافظات کی شاندار کامیابی
بیدر: دینی اور عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی ایک اور روشن مثال پیش کرتے ہوئے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، بیدر کے 22 حفاظ و حافظاتِ قرآن نے نیٹ یوجی 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے ثابت کر دیا کہ قرآنِ کریم کی تعلیم اور جدید سائنسی علوم ساتھ ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان طلبہ کی کامیابی نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ محنت، لگن، صحیح رہنمائی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق کامیاب حفاظ و حافظات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
حافظ محمد اعجاز عالم — 593/720
حافظ عاطف فیاض — 586/720
حافظ ذکوان ضیا — 586/720
حافظ فرحان خان — 584/720
حافظ سعید احمد — 575/720
حافظ یوسف خان — 570/720
حافظ حنیف بدر — 559/720
حافظ عبداللہ — 551/720
حافظ محمد ناصر — 548/720
حافظ ارسلان عبدالسلام — 548/720
حافظ محمد انس — 546/720
حافظ احمد عمار — 541/720
حافظ شمس ال — 539/720
حافظہ نازیہ خاتون — 536/720
حافظ محمد سعد — 534/720
حافظہ اُمِّ حبیبہ — 525/720
حافظ عبداللہ شیخ — 522/720
حافظ محمد اعجاز — 521/720
حافظ حنظلہ — 519/720
حافظ پی۔ انیس الیاس — 504/720
حافظ اجود اکبر — 503/720
حافظ محمد ساجد — 500/720
یہ تمام طلبہ و طالبات حافظِ قرآن ہیں، جنہوں نے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ملک کے سب سے بڑے طبی داخلہ امتحان NEET UG 2026 میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ان کی یہ شاندار کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دینی تعلیم اور جدید تعلیم ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ایسے نتائج نوجوان نسل کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ منظم منصوبہ بندی، مسلسل محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی دعاؤں سے بڑے سے بڑا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس عظیم کامیابی پر شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، تمام حفاظ و حافظات، ان کے والدین، اساتذہ اور خیر خواہوں کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام طلبہ و طالبات کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، انہیں بہترین ڈاکٹر بنائے اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
16/07/2026
جوہر یونیورسٹی کو گرانے کے حکم پر عمران پرتاپ گڑھی کا سخت ردِعمل
نئی دہلی: کانگریس کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب یونیورسٹی کی تعمیر ہو رہی تھی، اس وقت یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) کے دائرۂ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا۔ بعد میں اتھارٹی کی حدود میں توسیع کی گئی اور اب نقشہ منظور نہ ہونے کی بنیاد پر عمارت گرانے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
عمران پرتاپ گڑھی نے سوال اٹھایا کہ اگر نقشہ منظور نہ ہونا ہی کارروائی کی بنیاد ہے تو کیا ملک کی تمام یونیورسٹیوں پر بلڈوزر چلایا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ شاید کئی سرکاری دفاتر، حتیٰ کہ متعدد ڈی ایم دفاتر بھی اسی معیار پر پورے نہ اتریں، تو کیا انہیں بھی منہدم کر دیا جائے گا؟
انہوں نے اس کارروائی کو غیر منطقی اور آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے کرنے والے افسران کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ خود بھی انہی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔
عمران پرتاپ گڑھی نے عوام سے اپیل کی کہ جوہر یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کو بچانے کے لیے باشعور اور انصاف پسند معاشرے کو آگے آنا ہوگا، ورنہ ایسی کارروائیوں سے مستقبل میں کوئی ادارہ محفوظ نہیں رہے گا۔