عشق زھے نصیب
Public demand
26/06/2026
Kon Kon YouTube Automation krna chata hy
21/06/2026
ریچ بڑھاؤ ڈالر کماؤ، پاکستان میں فیس بک مانیٹائزیشن آگئی۔ یہ چرچا آج کل فیس بک پر بہت عام ہے۔ اور کچھ لوگ اس بات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ جو لوگ پاکستان میں رہتے ہوئے فیس بک سے پیسے کما رہے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ریٹس کتنے کم ہیں۔ ملینز میں ویوز کے بدلے میں چند ڈالر ہی ملتے ہیں۔ آپ کو 24/7 سو قسم کے لوچے کرنے پڑیں گے، اتنی ریلز، اتنی پوسٹس، اتنی سٹوری، چینل میں اتنی پوسٹس، اتنے کمنٹس کے رپلائی، اور بھی بہت کچھ۔ اس ساری زلالت کے بعد جو ملے گا وہ بھینس کے میں ایک چٹکی زیرہ برابر ہوگا۔ میرے ایک لاکھ فالورز ہیں، فیس بک مجھے بڑے نوٹیفکیشن بھیجتی ہے، یہ کرو، وہ کرو، یہ چیلنج لو ، فلاں ڈھمکاں، میں اسکے بلکل الٹ کرتا ہوں۔ اپنی ریچ کئی بار زیرو کر دیتا ہوں۔ یہ آج کی میری اپنی ریچ ہے۔ خود اسے خراب کیا ہے۔ اسی وال کے عروج کے زمانے میں ریچ ہمیشہ دس سے بیس ملین تک رہی ہے۔ جب میں بہت ایکٹیو ہوتا تھا۔
وجہ یہ ہے کہ جتنا وقت یہاں اس لیے دینا ہے کہ پیسے یا ڈالر ملیں گے، ابھی فی الحال اس سے کئی گنا کم وقت میں کہیں اور دے کر اپنے وقت کی قدر و قیمت بہت زیادہ وصول کر سکتا ہوں، اور وہی کر رہا ہوں۔ ہاں جن کے پاس اپنا وقت ، یا کوئی اور اسکل بیچنے کے لیے، کوئی سوٹ ایبل مارکیٹ نہیں ہے۔ تو وہ یہ تجربہ کرکے بے شک دیکھ لیں، کیا ملتا ہے ان کو۔ بعد میں افسوس نہ رہے گا۔ مجھے ایک بار ایک لڑکی پیاری لگی، اپنی پہنچ سے اوپر کی گیم تھی، ایک دوست سے دل کا راز کھولا تو اسنے کہا بتا دو اسے، انکار ہی ہوگا زیادہ سے زیادہ، بات نہ کرنے کا افسوس باقی نہ رہے گا۔ میں نے اسکی بات پر عمل کیا دل کا حال ایمپورئم مال کی ایک پیزا شاپ میں بیٹھ کر بتا دیا۔ اور میری توقع سے بلکل برعکس بات بن گئی تھی۔ پھر اپنے عزیز دوست Usman Zia کو ساتھ لے کر Pace ماڈل ٹاؤن سے اپنے لیے بہت سارے جوتے کپڑے نئے لیے۔ عثمان بھائی یاد ہے ناں؟
خیر دیکھیں یار برا نہ منائیے گا ، ترلے منت کرکے ، گروپس میں لنک بھیج کر، وٹس ایپ اسٹیٹس لگا کر ویوز لینے سے کچھ نہیں ملنا، کانٹینٹ کسی کی کاپی نہ ہو، معیاری ہو، منفرد ہو تو کسی کو واچ، لائیک شئیر وغیرہ کے لیے کہنا نہیں پڑے گا۔ فیس بک کا الگورتھم اس کانٹینٹ کو خود بوسٹ کرے گا۔
اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کانٹینٹ کری ایشن اور اسکرین سے جڑے رہنا ہم انسان نما مخلوق کے لیے آکسیجن اور پانی سے بھی ضروری ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کسی نہ کسی وائے سے ہماری روزی روٹی کو اس سسٹم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ یعنی مارکیٹنگ کے لیے سوشل میڈیا ، ویب سائٹ، لوکل آن لائن و آف لائن ایس ای او، ڈیجیٹل مارکٹنگ، سوشل میڈیا پریزنس ، کہ لوگ تو کھانے کا نوالہ کھاتے وقت، پانی کا گھونٹ پیتے وقت، ٹائلٹ میں بیٹھے ہوئے اسکرین کا نشہ کر رہے ہیں۔ اس نشے کے اندر آپ نے اپنی کنڈی لگا کر شکار یعنی گاہک پکڑنا ہے۔ آپ توجہ اور واچ ٹائم چاہتے ہیں یا کوئی سروس یا شے بیچنا، اب اسکرین سے خود کو جوڑے بغیر اور اس نئے ورلڈ آرڈر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
بہرحال بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ کسی اور کو دیکھا دیکھی کانٹینٹ کری ایٹر ہر گز نہیں بننا، جیسا کبھی کسی دور میں بی کام ہوتا تھا، پھر انجینرنگ آئی، پھر ڈاکٹری اور پھر وکالت اور پھر کمپیوٹر سائنس۔ اب جو سیکھنا چاہئے وہ اے آئی ہے۔ اس پر پیسے لگا کر سیکھنا چاہئے۔ مگر ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا دیگر پلیٹ فارمز پر مواد شئیر کرنے کے پیچھے ہر کوئی بھاگ رہا ہے۔ کوئی اس کا اہل ہے یا نہیں اسکا فیصلہ میں اور آپ نہیں کر سکتے، اس نظام کو بنانے والوں نے الگورتھم ہی ایسا بنا دیا ہے کہ جس کانٹینٹ میں جان ہے وہ توجہ اور ویوز لے گا۔ فالورز بھی آئیں گے اور واچ ٹائم بھی۔ لیکن کوئی اس کام کو بڑی دیر سے کر رہا اور کوئی فائدہ نہیں مل رہا تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھا دیکھی کرنے والا کام نہیں ہے۔
20/06/2026
Heart touching scene
Rauf vs ind👍👍
Click here to claim your Sponsored Listing.