09/06/2026
فنِ موسیقی کا بے تاج بادشاہ — خان صاحب استاد ارباب خان کھوسہ
تحریر :- #باباشجردوست
انسانی تہذیب کی تاریخ میں موسیقی ایک ایسا فن ہے جو جذبات کو زبان عطا کرتا ہے۔ ہر دور اور ہر خطے میں کچھ ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں جو اپنے فن کی بدولت زمانے پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ ضلع صحبت پور بھی ایک مردم خیز سرزمین ہے جس نے سیاست، ادب، تعلیم، سماجی خدمت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بے شمار نامور شخصیات پیدا کیں۔ اسی دھرتی نے فنِ موسیقی کے میدان میں بھی ایک ایسا درخشاں ستارہ پیدا کیا جس کی شہرت سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ عظیم فنکار خان صاحب استاد ارباب خان کھوسہ تھے، جنہیں بجا طور پر شمالی سندھ اور بلوچستان کے فنِ موسیقی کا بے تاج بادشاہ کہا جا سکتا ہے۔
گاؤں ڈرگھی میں 1922ء میں پیدا ہونے والے استاد ارباب خان کھوسہ کے والد کا نام بہرام خان تھا۔ بچپن سے ہی ان کے اندر موسیقی کی غیر معمولی صلاحیتیں موجود تھیں، مگر اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ بچہ ایک دن فنِ موسیقی کی دنیا میں ایک معتبر اور ناقابلِ فراموش نام بن جائے گا۔ ابتدائی طور پر انکو گل خان کھوسہ اور اختیار خان کھوسہ نے پروموٹ کیا انکی حوصلہ افزائی کی بعد میں سردار نور محمد خان گولہ نے انکی حوصلہ افزائی کی انکو رھائش کے لئے جیکب آباد میں جگہ دی گرمیوں میں خان صاحب کوئٹہ ھدہ کے علاقے میں تشریف لے جاتے تھے اور سردیوں میں جیکب آباد انکی مستقل رھائش تھی -اپنی محنت، لگن اور فطری صلاحیتوں کے باعث انہوں نے موسیقی کے میدان میں ایسی مہارت حاصل کی کہ انہیں ’’خان صاحب‘‘ کا اعزازی لقب عطا کیا گیا، جو ان کی فنی عظمت کا اعتراف تھا۔ انکے اساتذہ میں استاد ھادی بخش میمن شکار پور والے استاد مبارک علی خان کراچی والے مشہور اساتذہ تھے
معروف محقق شاہ محمد مری کے مطابق بلوچ قوم میں استاد ارباب خان کھوسہ جیسا موسیقار پیدا نہیں ھوا ۔ وہ سندھی، بلوچی، براہوی اور اردو زبانوں کے بلند پایہ گائک تھے۔ ان کی آواز میں ایسا سوز، ایسی مٹھاس اور ایسا درد تھا جو سامعین کے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔ جب وہ قوالی پیش کرتے تو محفل پر وجد اور سرور کی کیفیت طاری ہو جاتی اور لوگ اپنے اردگرد کی دنیا سے بے خبر ہو کر ان کی آواز کے سحر میں کھو جاتے۔
استاد ارباب خان کھوسہ کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کی روحانیت سے وابستگی بھی تھا۔ وہ اپنے روحانی مرشد حضرت مولوی قادر بخشؒ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ مولوی صاحبؒ کے کلام کو وہ انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ گایا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ وہ ہفتے میں ایک دن باقاعدگی سے مولوی قادر بخشؒ کے دربار پر حاضر ہو کر ان کا کلام پیش کرتے تھے۔ مولوی صاحبؒ کا معروف کلام ’’اک تھیا تھی انار‘‘ ان کی آواز میں خاص طور پر مقبول ہوا، جسے بعد ازاں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے بھی ریکارڈ اور نشر کیا گیا۔
استاد ارباب خان کھوسہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ فنِ موسیقی کی خدمت میں گزارا۔ وہ آخری عمر تک ریڈیو پاکستان حیدرآباد اور ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے وابستہ رہے اور اپنی دلنشین آواز کے ذریعے لاکھوں سامعین کے دلوں میں گھر کرتے رہے۔ ان کی گائیکی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ ثقافت، روایت اور روحانیت کا حسین امتزاج بھی تھی۔ خان صاحب کے فن موسیقی میں بہت سارے شاگرد تھے مگر خان صاحب جیسا مقام اب بھی خالی ھے ۔
22 اکتوبر 1995ء کو فنِ موسیقی کا یہ درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ اپنی وصیت کے مطابق انہیں اپنے روحانی مرشد حضرت مولوی قادر بخشؒ کے مزارِ پرانوار کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور موسیقی سے محبت رکھنے والے لوگ ان کی فنی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
استاد ارباب خان کھوسہ بلاشبہ ایسی نابغۂ روزگار شخصیت تھے جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ان کی آواز خاموش ہو چکی ہے، مگر ان کا گایا ھوا کلام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ ضلع صحبت پور کی ثقافتی تاریخ کا ایک روشن باب اور فنِ موسیقی کی دنیا کا عظیم سرمایہ ہیں