12/07/2026
خبر غم
سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت ملتان اور سابق صدر پریس کلب ملتان ۔۔۔۔ محترم راؤ شمیم اصغر بھی اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون
12/07/2026
خبر غم
سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت ملتان اور سابق صدر پریس کلب ملتان ۔۔۔۔ محترم راؤ شمیم اصغر بھی اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون
11/07/2026
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی جانب سے مغفرت کی دعا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر صحافی محترم قمرالحق قمر ۔۔۔ 23 برس بعد بھی.....
"ہم تم کو نہیں بھولے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر صحافی محترم قمرالحق قمر آج 11 جولائی 2003 کے دن ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے محترم قمرالحق قمر کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری سینئر صحافی محترم قمرالحق قمر سے پہلی ملاقات 1997ء میں روزنامہ خبریں ملتان کے گلدین کالونی والے دفتر میں ہوئی تھی۔ پہلی ہی ملاقات میں ان کی شائستگی، سنجیدگی، خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ وقار نے دل پر گہرا نقش چھوڑ دیا۔ پھر جب معلوم ہوا کہ وہ بھی میرے گھر ممتاز آباد کالونی میں، مسجد شہداء الخیر کے ساتھ، صرف چند گز کے فاصلے پر رہتے ہیں تو یہ تعارف جلد ہی ایک مضبوط تعلق، بے تکلفی اور پھر ایک ایسی دوستی میں بدل گیا جس کی خوشبو آج بھی یادوں میں بسی ہوئی ہے۔
ان دنوں ہماری رات کی ڈیوٹیاں ہوتی تھیں۔ اکثر ایسا ہوتا کہ رات گئے جب ہم نیوز روم سے فارغ ہوتے تو قمر بھائی میرے ساتھ ہی میری گاڑی میں گھر واپس آیا کرتے تھے۔ وہ سفر محض چند منٹوں کا ہوتا تھا، مگر ان چند لمحوں میں صحافت، زندگی، حالات، خبروں، دوستوں اور مستقبل پر ایسی گفتگو ہوتی کہ تھکن بھی اتر جاتی اور راستہ بھی مختصر محسوس ہوتا۔
اگر میں یہ کہوں کہ قمرالحق قمر ایک نہایت محنتی، باصلاحیت، دیانت دار اور نیوز کے شعبے میں غیر معمولی مہارت رکھنے والے صحافی تھے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ خبر کی اہمیت کو سمجھنا، اس کی باریکیوں کو جانچنا، بہترین سرخی تخلیق کرنا اور خبر کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ان کا خاص وصف تھا۔ نیوز روم میں ان کے بے شمار شاگرد تھے جو آج بھی ان کی تربیت، رہنمائی اور پیشہ ورانہ اصولوں کو یاد کرتے ہیں۔ وہ اپنی رائے ہمیشہ دلیل اور وقار کے ساتھ پیش کرتے تھے اور سینئر صحافیوں کی میٹنگز میں اپنے مضبوط مؤقف کی وجہ سے خاص پہچان رکھتے تھے۔
صحافت کے ساتھ ساتھ ان کا قلم کالم نگاری میں بھی خوب رواں تھا۔ وہ اپنے جذبات، احساسات اور معاشرتی مسائل کو نہایت سلیقے، شائستگی اور قرینے سے اپنے کالموں میں سمو دیتے تھے۔ ان کی تحریروں میں شائستگی بھی ہوتی تھی، درد بھی، فکر بھی اور معاشرے کے لیے ایک مثبت پیغام بھی۔ وہ دوستوں کے دوست تھے۔ جس سے ان کی دوستی ہو جاتی، پھر وہ عمر بھر نبھاتے تھے۔ یہی خوبی انہیں دوسروں سے منفرد بناتی تھی۔
آج بھی ایک دلچسپ واقعہ ذہن کے دریچے پر دستک دیتا ہے۔ دسمبر یا جنوری کی ایک انتہائی سرد رات تھی۔ ہم معمول کے مطابق ڈیوٹی ختم کرکے دفتر سے نکلے۔ چوک کمہاراں سے وہاڑی چوک کی طرف روانہ ہوئے تو ہر طرف ایسی شدید دھند چھائی ہوئی تھی کہ چند فٹ کے فاصلے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ گاڑی نہایت آہستگی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں حسبِ معمول قمر بھائی سے ہلکا پھلکا مذاق کرتا جا رہا تھا تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے، "آغا صاحب! آپ کو اس وقت بھی مذاق سوجھ رہا ہے، جبکہ ہمیں راستہ ہی نظر نہیں آرہا۔"
جب وہاڑی روڈ سے ٹرن لیا تو ان دنوں نہ میٹرو بس ٹریک تھا اور نہ آج جیسی روشنیاں۔ چوک سے کچھ آگے ایک بینک کی عمارت کی مدھم سی روشنی دکھائی دی تو میں نے گاڑی روک دی۔ ہم دونوں گاڑی سے اتر آئے اور سڑک پر کھڑے ہو کر ذہن میں نقشہ بنانے لگے کہ آخر بی سی جی چوک کی طرف جانے والی سڑک کون سی ہے۔ وہاڑی چوک کے راؤنڈ اباؤٹ سے دو راستے نکلتے تھے، ایک جنرل بس اسٹینڈ اور ٹرک اسٹینڈ کی طرف جاتا تھا جبکہ دوسرا بائیں جانب بی سی جی چوک کی طرف۔ شدید دھند نے سمتوں کا احساس ہی ختم کر دیا تھا اور یہی خوف تھا کہ کہیں غلط سڑک پر نہ چل پڑیں۔
رات کے تقریباً ساڑھے تین بج رہے تھے۔ سردی اپنی انتہا پر تھی، دھند کی نمی سے سر بھی بھاری ہو رہا تھا۔ ایسے میں قمر بھائی نے چند لمحے خاموشی سے اردگرد دیکھا، پھر بڑے اعتماد سے بولے، "آغا صاحب! میرا خیال ہے گاڑی اسی سڑک پر موڑ دیں، ان شاء اللہ اللہ خیر کرے گا۔"میں نے ان کے اندازے پر بھروسہ کیا۔ گاڑی اسی سمت موڑی، اور اللہ کا شکر کہ ان کا اندازہ سو فیصد درست نکلا۔ وہی راستہ بی سی جی چوک کی طرف جا رہا تھا۔ وہاں سے ہم ممتاز آباد کالونی پہنچے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ گھر کے قریب پہنچ کر میں نے ہنستے ہوئے کہا، "قمر بھائی! آج تو واقعی ہم راستہ بھول ہی گئے تھے۔"
وہ حسبِ معمول مسکرا کر بولے، "آغا صاحب! اگر راستہ نہ بھی ملتا تو کیا ہوتا؟ تھوڑی دیر انتظار کر لیتے، دھند چھٹ جاتی تو پھر آرام سے گھروں کو چلے جاتے۔"
یہ جملہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ ان کی یہی طبیعت تھی؛ ہر مشکل میں گھبرانے کے بجائے تحمل، حوصلے اور امید کے ساتھ فیصلہ کرنا۔
قمرالحق قمر اخبارات کی مؤثر اور جاندار سرخیاں بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ خبر کو صرف خبر نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے قارئین تک بہترین انداز میں پہنچانے کا فن جانتے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں وہ روزنامہ خبریں ملتان کے چیف نیوز ایڈیٹر کے منصب تک پہنچے، جہاں انہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور دیانت داری سے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
11 جولائی 2003ء کو وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وقت گزرتا گیا، برس بیتتے گئے، مگر کچھ لوگ جسمانی طور پر دنیا سے چلے جانے کے باوجود اپنے اخلاق، کردار، محبتوں، یادوں اور کام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ قمرالحق قمر بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں۔ آج ان کی رحلت کو 23 برس گزر چکے ہیں، لیکن وہ آج بھی اپنے دوستوں، ساتھیوں، شاگردوں اور چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ جب بھی صحافت کے مخلص، باوقار اور باصلاحیت لوگوں کا ذکر ہوگا، قمرالحق قمر کا نام احترام سے لیا جائے گا۔
میرے پاس قمر بھائی کے ساتھ کوئی مشترکہ تصویر موجود نہیں تھی۔ صرف ان کی ایک پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصویر تھی۔ دل میں یہ خواہش ہمیشہ رہی کہ کاش ہمارے ساتھ کوئی یادگار تصویر ہوتی۔ جدید دور کی سہولت AI کی مدد سے میں نے اپنی اور محترم قمرالحق قمر کی ایک مشترکہ تصویر تیار کروائی۔ یہ تصویر حقیقت نہیں، بلکہ محبت، عقیدت، احترام اور یادوں کا ایک خوبصورت اظہار ہے، جسے میں آج قمر بھائی سے اپنی بے لوث محبت کے نشان کے طور پر آپ سب کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔
قمر بھائی! آپ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر آپ کی مسکراہٹ، آپ کی آواز، آپ کی سرخیاں، آپ کے کالم، آپ کی شفقت، آپ کی دوستی اور آپ کی یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں اسی طرح زندہ ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ واقعی کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی کبھی نہیں جاتے... وہ ہمیشہ دلوں میں بستے ہیں۔
اللہ تعالیٰ محترم قمرالحق قمر کو اپنی بے پایاں رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنا دے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سینئر صحافی پیرآغامحمد علی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" مانکیال وادی" کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان کی ایک گرم رات تھی۔ گرمی کی شدت ایسی کہ دیواریں بھی تپ رہی تھیں۔ ایسے میں ایک بزرگ مسافر نے مسکراتے ہوئے کہا، "اگر واقعی قدرت کے قریب جانا چاہتے ہو تو سوات کی مانکیال ویلی ضرور دیکھنا، وہاں پہنچ کر محسوس ہوگا کہ زمین پر جنت صرف ایک کہانی نہیں بلکہ حقیقت بھی ہے۔" یہی ایک جملہ دل میں گھر کر گیا اور چند ہی دن بعد ملتان سے شمال کی جانب سفر کا آغاز ہوگیا۔
موٹروے پر گاڑی رواں دواں تھی۔ ملتان کی تیز دھوپ آہستہ آہستہ پیچھے رہ گئی۔ لاہور، پھر اسلام آباد، اس کے بعد مردان، مالاکنڈ، مینگورہ، بحرین اور آخرکار کالام کی طرف سفر آگے بڑھتا گیا۔ جوں جوں بلندی بڑھتی گئی، موسم بدلتا گیا۔ دریائے سوات کا شفاف پانی سڑک کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بھی مسافروں کا ہمسفر ہو۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیاں بادلوں سے باتیں کر رہی تھیں، دیودار اور چیڑ کے گھنے جنگلات ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے دکھائی دیتے تھے اور ہر موڑ پر قدرت کا ایک نیا شاہکار سامنے آتا تھا۔
کالام سے چند کلومیٹر آگے ایک نسبتاً خاموش راستہ مانکیال ویلی کی طرف مڑتا ہے۔ جیسے ہی اس راستے پر قدم پڑتا ہے، انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک الگ ہی دنیا میں داخل ہوگیا ہے۔ یہاں نہ شہروں کا شور ہے، نہ گاڑیوں کا ہجوم، نہ آلودگی اور نہ ہی زندگی کی بھاگ دوڑ۔ صرف پہاڑ ہیں، جنگلات ہیں، شفاف چشمے ہیں، سرسبز میدان ہیں اور ایسی خاموشی ہے جس میں قدرت خود بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
مانکیال ویلی کا نام بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ راز رکھتا ہے۔ مقامی روایات کے مطابق اس علاقے میں صدیوں پہلے آباد ہونے والے ایک قدیم گاؤں یا قبیلے کی نسبت سے اس وادی کو مانکیال کہا جانے لگا۔ بعض بزرگ اسے ایک مقامی سردار یا بزرگ شخصیت کے نام سے جوڑتے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی مستند تاریخی دستاویز موجود نہیں، مگر اس نام نے صدیوں سے اس وادی کی شناخت کو برقرار رکھا ہوا ہے اور آج بھی مقامی لوگ بڑے فخر سے اپنے علاقے کو مانکیال کہتے ہیں۔
یہ وادی سوات کی اس عظیم سرزمین کا حصہ ہے جسے دنیا گندھارا تہذیب کے حوالے سے جانتی ہے۔ دو ہزار برس پہلے یہ پورا خطہ بدھ مت کے علم، فن اور تہذیب کا ایک بڑا مرکز تھا۔ سوات کے مختلف علاقوں میں آج بھی بدھ مت کے آثار، قدیم خانقاہوں اور اسٹوپوں کے کھنڈرات موجود ہیں جو اس شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ اگرچہ مانکیال ویلی میں ایسے آثار نمایاں طور پر موجود نہیں، لیکن اس کے اردگرد کے پہاڑ اور وادیاں اسی تاریخی ورثے کی گواہ ہیں۔ بعدازاں ریاستِ سوات کے دور میں بھی اس علاقے نے اپنی قدرتی خوبصورتی اور پرامن ماحول کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل کی۔
صبح سویرے جب سورج کی پہلی کرن برف پوش چوٹیوں پر پڑتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے سفید پہاڑوں پر سونے کا رنگ بکھیر دیا ہو۔ ہلکی دھند آہستہ آہستہ وادی سے رخصت ہوتی ہے، چشموں کا پانی چاندی کی طرح چمکتا ہے، پرندے اپنی مدھر آوازوں سے خاموش فضا کو زندگی بخشتے ہیں اور ٹھنڈی ہوائیں ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان قدرت کے سامنے اپنی تمام پریشانیاں بھول جاتا ہے۔مانکیال کے لوگ اپنی سادگی، مہمان نوازی اور خلوص کے باعث دور دور تک پہچانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ پشتو زبان بولتے ہیں لیکن اردو بھی بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔ ان کی روزمرہ زندگی کھیتی باڑی، مویشی پالنے اور سیاحت سے وابستہ ہے۔ یہاں آنے والے مہمان کو عزت دینا ان کی روایت ہے۔ اگر آپ کسی مقامی گھر کے سامنے رک جائیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کو ایک کپ گرم چائے کی دعوت مل جائے، کیونکہ یہاں مہمان کو خدا کی رحمت سمجھا جاتا ہے۔مانکیال ویلی میں رہائش کی سہولیات محدود مگر تسلی بخش ہیں۔ چھوٹے گیسٹ ہاؤس اور فیملی لاجز موجود ہیں، تاہم زیادہ تر سیاح کالام میں قیام کو ترجیح دیتے ہیں جہاں ہر بجٹ کے مطابق ہوٹل دستیاب ہیں۔ کالام کے ریسٹورنٹس میں تازہ ٹراؤٹ مچھلی، چکن کڑاہی، دالیں، مکئی کی روٹی، دیسی مکھن، مقامی شہد اور خوش ذائقہ سبز چائے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ ٹھنڈے موسم میں گرم چائے کا ایک کپ اور سامنے برف پوش پہاڑ ایسا منظر پیش کرتے ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
اگر آپ پہلی مرتبہ مانکیال ویلی جا رہے ہیں تو اپریل سے اکتوبر تک کا وقت بہترین ہے۔ بہار میں وادی رنگ برنگے جنگلی پھولوں سے سج جاتی ہے، گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار رہتا ہے جبکہ ستمبر اور اکتوبر میں خزاں کے سنہری رنگ پورے علاقے کو ایک نئی دلکشی عطا کرتے ہیں۔ نومبر سے مارچ تک برفباری ہوتی ہے اور بعض اوقات راستے بند بھی ہو جاتے ہیں، اس لیے سردیوں میں روانگی سے پہلے موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کرنی چاہیے۔
سفر پر روانہ ہونے سے پہلے چند ضروری تیاری بھی بے حد اہم ہیں۔ گاڑی کی مکمل جانچ، ہوٹل کی پیشگی بکنگ، شناختی کارڈ، گرم کپڑے، برساتی، مضبوط جوتے، ضروری ادویات، پاور بینک، ٹارچ اور نقد رقم ضرور ساتھ رکھیں، کیونکہ پہاڑی علاقوں میں ہر جگہ اے ٹی ایم یا موبائل سگنل دستیاب نہیں ہوتے۔ اگر آپ اوپری چراگاہوں یا دشوار گزار راستوں کی سیر کا ارادہ رکھتے ہیں تو مقامی گائیڈ کی خدمات ضرور حاصل کریں تاکہ سفر محفوظ بھی رہے اور آپ علاقے کی دلچسپ روایات اور پوشیدہ مقامات سے بھی آگاہ ہو سکیں۔
شام کے وقت جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈوبنے لگتا ہے تو مانکیال ویلی کا حسن اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ آسمان سنہری، نارنجی اور گلابی رنگوں میں رنگ جاتا ہے، درختوں کے سائے لمبے ہونے لگتے ہیں اور ٹھنڈی ہوا پورے ماحول کو خوابناک بنا دیتی ہے۔ ایسے میں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک گیا ہو۔
واپسی کا سفر شروع ہوا تو دل بار بار مڑ کر انہی پہاڑوں کو دیکھتا رہا۔ یوں لگا جیسے مانکیال ویلی خاموشی سے کہہ رہی ہو، "قدرت سے محبت کرنے والے ایک دن ضرور واپس آتے ہیں۔" شاید یہی اس وادی کا اصل جادو ہے۔ یہاں صرف خوبصورت مناظر نہیں، بلکہ سکون، محبت، سادگی، تاریخ اور فطرت ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ جو شخص ایک بار مانکیال ویلی کی ٹھنڈی فضاؤں، بہتے چشموں، سرسبز میدانوں اور مہمان نواز لوگوں سے مل لیتا ہے، وہ اس وادی کو کبھی فراموش نہیں کر پاتا۔
08/07/2026
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان کی "ڈولی روٹی"
کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی ابھی پوری طرح رخصت بھی نہیں ہوئی ہوتی کہ ملتان کے پرانے شہر کی گلیوں میں زندگی جاگ اٹھتی ہے۔ کہیں تنور دہک رہا ہوتا ہے، کہیں آٹے کی بڑی سی پرات میں خمیر اٹھ رہا ہوتا ہے، اور کہیں ایک بزرگ نانبائی اپنے ہاتھوں سے آٹے کی چھوٹی چھوٹی پیڑیاں بنا رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ پیڑی کو دونوں ہاتھوں سے پھیلاتا ہے، اردگرد کھڑے لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں، "لو جی... آج پھر ڈولی روٹی تیار ہو رہی ہے۔"
کہتے ہیں کہ کسی شہر کی پہچان صرف اس کی عمارتیں یا بازار نہیں ہوتے، بلکہ اس کے ذائقے بھی اس کی تاریخ سناتے ہیں۔ ملتان کا نام لیا جائے تو ذہن میں اولیائے کرام کے مزارات، آموں کی مٹھاس اور سوہن حلوے کی خوشبو آتی ہے، مگر ملتان کے باسی جانتے ہیں کہ اس شہر کی اصل خوشبو ان پرانے تنوروں سے بھی اٹھتی ہے جہاں نسلوں سے ڈولی روٹی تیار ہو رہی ہے۔اس روٹی کی پیدائش کی کوئی سرکاری تاریخ تو محفوظ نہیں، لیکن بزرگوں کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی دہائیاں پہلے جب مزدور، کسان، اونٹوں اور بیل گاڑیوں پر سفر کرنے والے مسافر اور دور دراز سے آنے والے تاجر ملتان پہنچتے تھے تو انہیں ایسی روٹی کی ضرورت ہوتی تھی جو بڑی بھی ہو، نرم بھی رہے، دیر تک خراب نہ ہو اور پورے خاندان یا کئی افراد کا پیٹ بھر دے۔ تب ملتان کے ہنرمند نانبائیوں نے خمیر والے آٹے سے ایک بڑی، نرم اور خوشبودار روٹی تیار کی، جو وقت کے ساتھ ساتھ "ڈولی روٹی" کے نام سے مشہور ہو گئی۔اس کے نام کے بارے میں بھی کئی دلچسپ کہانیاں آج تک زندہ ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ اس کا بڑا گول سائز اور ابھری ہوئی شکل پرانے زمانے کی دلہن کی ڈولی سے مشابہ تھی، اس لیے لوگوں نے اسے ڈولی روٹی کہنا شروع کر دیا۔ دوسری روایت یہ سنائی جاتی ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر جب دلہن کی ڈولی رخصت ہوتی تو کھانے پینے کے سامان میں یہی بڑی روٹیاں بھی شامل کی جاتیں، اور آہستہ آہستہ اس روٹی کا نام ہی ڈولی روٹی پڑ گیا۔ اگرچہ ان قصوں کی تاریخی دستاویز موجود نہیں، لیکن ملتان کے بزرگ آج بھی انہیں اسی محبت سے بیان کرتے ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو۔
ڈولی روٹی کی تیاری خود ایک فن ہے۔ عمدہ میدہ یا باریک آٹے میں خمیر، نمک، تھوڑی سی چینی اور گھی ملا کر آٹا گوندھا جاتا ہے۔ پھر اسے کئی گھنٹے آرام کرنے دیا جاتا ہے تاکہ خمیر اچھی طرح اٹھ جائے۔ بعد ازاں بڑی بڑی پیڑیاں بنا کر انہیں ہاتھوں سے پھیلایا جاتا ہے اور مٹی کے روایتی تنور کی تیز آنچ میں پکایا جاتا ہے۔ جب روٹی سنہری رنگ اختیار کر لیتی ہے تو بعض نانبائی اس پر دیسی گھی یا مکھن لگا دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اس کی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی ہے اور گزرنے والوں کے قدم خودبخود تنور کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔
ملتان کے لوگ اسے صرف ذائقے کی خاطر نہیں کھاتے بلکہ اس سے ان کی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ کسی کے بچپن کا ناشتہ، کسی کی عید کی صبح، کسی کی شادی کی دعوت، تو کسی کے والد کے ساتھ تنور پر جانے کی یادیں، سب اس روٹی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ نہاری، پائے، چنے، قورمہ، کڑاہی، باربی کیو یا صرف دیسی مکھن اور لسی، ہر چیز کے ساتھ اس کا ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔
پرانے ملتان کے حسین آگاہ، پاک گیٹ، دہلی گیٹ، بوہڑ گیٹ، حرم گیٹ، چوک بازار اور دیگر قدیمی علاقوں کے تنور آج بھی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ صبح اور شام کے وقت ان تنوروں کے سامنے لگنے والی قطاریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ زمانہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، روایتی ذائقے اپنی جگہ ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ایک دلچسپ قصہ یہ بھی مشہور ہے کہ ماضی میں اگر کسی گھر میں کوئی خاص مہمان آتا تو گھر کے بزرگ بچوں سے کہتے، "جلدی جاؤ، تنور سے تازہ ڈولی روٹی لے آؤ۔" بچے دوڑتے ہوئے جاتے، گرم گرم روٹی کپڑے میں لپیٹ کر لاتے اور پھر اس کے ساتھ دیسی مکھن، دہی یا چنے پیش کیے جاتے۔ یہی ملتان کی مہمان نوازی تھی، جس میں سادگی بھی تھی اور خلوص بھی۔
ایک اور روایت یہ ہے کہ جو مسافر پہلی بار ملتان آتا، اگر وہ ڈولی روٹی نہ کھاتا تو مقامی لوگ ہنستے ہوئے کہتے، "تم نے ابھی ملتان کو دیکھا ضرور ہے، مگر چکھا نہیں۔" یہی ایک جملہ اس روٹی کی اہمیت بیان کرنے کے لیے کافی تھا۔
آج بھی جب کسی تنور سے تازہ ڈولی روٹی نکلتی ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملتان کی کئی نسلوں کی یادیں، محبتیں اور روایات ایک ہی روٹی میں سمٹ آئی ہوں۔ یہ صرف آٹے، خمیر اور تنور کی کہانی نہیں، بلکہ اس شہر کی ثقافت، اس کے لوگوں کے خلوص، اس کی مہمان نوازی اور اس کی صدیوں پرانی شناخت کی ایک خوشبودار داستان ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے ملتان آ کر ڈولی روٹی نہیں کھائی، تو آپ نے اس شہر کی روح کو ابھی پوری طرح محسوس ہی نہیں کیا۔
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جھیل سیف الملوک" کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب انسان شمالی پاکستان کی طرف سفر شروع کرتا ہے تو اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ چند گھنٹوں بعد وہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہونے والا ہے جہاں ہر منظر کسی مصور کی تخلیق معلوم ہوتا ہے۔ جیسے جیسے شاہراہیں میدانوں سے نکل کر پہاڑوں کی آغوش میں داخل ہوتی ہیں، فضا کا رنگ بدلنے لگتا ہے، ہوا میں خنکی بڑھ جاتی ہے اور ہر موڑ پر قدرت اپنی نئی تصویر سامنے لے آتی ہے۔
ملتان سے روانگی کے بعد لاہور اور اسلام آباد کی مصروف شاہراہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ایبٹ آباد کی سرسبز فضائیں، مانسہرہ کے پہاڑی سلسلے، بالاکوٹ کی تاریخی سرزمین اور کاغان کی دلکش وادی سفر کو یادگار بناتے چلے جاتے ہیں۔ دریائے کنہار مسلسل ہم سفر رہتا ہے۔ اس کا ٹھنڈا، شفاف اور شور مچاتا پانی کبھی سڑک کے بالکل ساتھ بہتا ہے تو کبھی گہری کھائی میں اتر جاتا ہے، مگر اس کی آواز پورے سفر میں ایک دلکش موسیقی کی طرح کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔
ناران پہنچتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت نے اپنی تمام خوبصورتی ایک ہی جگہ سمیٹ دی ہو۔ لکڑی سے بنے خوبصورت ہوٹل، ٹھنڈی ہوائیں، دیودار کے بلند درخت، رنگ برنگی دکانیں، مقامی لوگوں کی مسکراہٹیں اور دور برف سے ڈھکی چوٹیاں ہر آنے والے کا استقبال کرتی ہیں۔ گرمیوں میں یہ چھوٹا سا قصبہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں سے آباد ہو جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں برف کی دبیز چادر اسے خاموشی کی ایک نئی دنیا میں بدل دیتی ہے۔
اصل مہم ناران سے شروع ہوتی ہے۔ جھیل سیف الملوک تک تقریباً نو کلومیٹر کا راستہ عام گاڑیوں کے لیے آسان نہیں، اس لیے زیادہ تر سیاح فور بائی فور جیپ کا انتخاب کرتے ہیں۔ جیپ کبھی پتھروں سے بھرے راستے پر اچھلتی ہے، کبھی برفانی پانی کے چھوٹے نالے عبور کرتی ہے اور کبھی ایسے موڑ کاٹتی ہے جہاں ایک طرف بلند پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائی ہوتی ہے۔ ہر موڑ پر دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی ہے اور قدرت کی خوبصورتی بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
پھر اچانک ایک لمحہ آتا ہے جب سامنے نیلگوں پانی کا ایک وسیع سمندر سا نمودار ہوتا ہے۔ اردگرد برف پوش پہاڑ، سبز میدان، خاموش فضا اور پانی پر تیرتے سفید بادلوں کے عکس دیکھ کر انسان بے اختیار رک جاتا ہے۔ یہی جھیل سیف الملوک ہے، جو سطح سمندر سے تقریباً 3,224 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کے پانی کی شفافیت ایسی ہے کہ کنارے پر پڑے پتھر بھی صاف دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دور کھڑی ملکہ پربت کی عظیم چوٹی اس منظر کو چار چاند لگا دیتی ہے۔
سائنس دان بتاتے ہیں کہ یہ جھیل ہزاروں برس پہلے گلیشیئرز کے پگھلنے سے وجود میں آئی، مگر مقامی لوگوں کے لیے یہ صرف ایک جھیل نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور لوک روایات کی سرزمین ہے۔ ان کے بزرگ آج بھی شہزادہ سیف الملوک اور پری بدر جمال کی داستان اسی یقین سے سناتے ہیں جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ چاندنی راتوں میں جب پوری وادی خاموش ہو جاتی ہے تو جھیل کا پانی چاند کی روشنی سے چمکنے لگتا ہے اور پریاں اپنے پراسرار جہان سے اتر کر اس کنارے پر آتی ہیں۔ اگرچہ یہ ایک لوک روایت ہے، لیکن اس وادی کی خاموشی اور حسن کو دیکھ کر انسان ان کہانیوں کو محض افسانہ کہہ کر نظرانداز بھی نہیں کر پاتا۔
یہاں کے مقامی لوگ سادگی، محبت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور گفتگو میں اپنائیت ہوتی ہے۔ وہ سیاحوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور انہیں اپنی ثقافت، رسم و رواج اور پہاڑی زندگی کے بارے میں دلچسپ باتیں بھی سناتے ہیں۔ ان کے لیے آنے والا ہر مہمان خدا کی رحمت سمجھا جاتا ہے۔
ناران میں ہر بجٹ کے مطابق ہوٹل موجود ہیں، مگر جون، جولائی اور اگست میں سیاحوں کا غیر معمولی رش ہونے کی وجہ سے پیشگی بکنگ ضروری ہوتی ہے۔ مقامی ریسٹورنٹس میں تازہ ٹراؤٹ مچھلی، چپلی کباب، باربی کیو، دال، سبزیاں، گرم چائے اور روایتی پاکستانی کھانے سرد موسم میں خاص لطف دیتے ہیں۔ شام ڈھلے جب پہاڑوں پر دھند اترتی ہے اور ہوٹلوں کی روشنیاں جلتی ہیں تو پورا ناران کسی خواب ناک بستی کا منظر پیش کرتا ہے۔
اگر آپ جھیل سیف الملوک کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو جون سے ستمبر تک کا عرصہ بہترین ہے۔ گرم کپڑے، مضبوط جوتے، برساتی، ضروری ادویات، پاور بینک، نقد رقم اور کیمرہ ضرور ساتھ رکھیں۔ پہاڑوں میں موسم لمحوں میں بدل جاتا ہے، اس لیے احتیاط اور منصوبہ بندی ہمیشہ کامیاب سفر کی ضمانت بنتی ہے۔
جب واپسی کا وقت آتا ہے تو قدم بار بار رک جاتے ہیں۔ نظریں آخری بار جھیل کے شفاف پانی، ملکہ پربت کی بلند چوٹی اور خاموش پہاڑوں کو دیکھتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ وادی مسافر کو خاموشی سے کہہ رہی ہو: "تم جا تو رہے ہو، مگر تمہارا دل ہمیشہ یہیں رہے گا۔" شاید یہی جھیل سیف الملوک کا اصل جادو ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص دوبارہ لوٹنے کی خواہش اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"رینبو لیک ڈومیل منی مرگ " کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رینبو لیک، ڈومیل منی مرگ… ایک ایسی جھیل جہاں قدرت اپنے رنگوں سے خاموش شاعری کرتی ہے
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زمین پر جنت کا کوئی ایسا گوشہ ہو جہاں خاموشی بھی موسیقی بن جائے، پہاڑ بھی مسکراتے محسوس ہوں، ہوا بھی محبت کا پیغام سنائے اور پانی بھی رنگ بدل کر قدرت کی مصوری کا ثبوت دے، تو وہ جگہ کیسی ہوگی؟ اگر نہیں، تو آئیے آج آپ کو شمالی پاکستان کے ایک ایسے ہی دلکش مقام کی سیر کراتے ہیں، جسے دیکھنے کے بعد انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ واقعی قدرت کے شاہکاروں کی کوئی حد نہیں۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور کی خوبصورت وادی منی مرگ میں واقع رینبو لیک، ڈومیل ابھی بھی اُن حسین مقامات میں شمار ہوتی ہے جہاں سیاحوں کی بھیڑ کم اور فطرت کا حسن زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں پہنچنے والا ہر شخص اپنے ساتھ صرف تصاویر ہی نہیں، بلکہ ایسی یادیں بھی لے کر لوٹتا ہے جو عمر بھر اس کے دل میں زندہ رہتی ہیں۔
اسلام آباد سے شروع ہونے والا سفر ناران، بابوسر ٹاپ، چلاس اور استور سے گزرتا ہوا منی مرگ تک پہنچتا ہے۔ راستے میں کبھی آسمان کو چھوتے پہاڑ حیران کرتے ہیں، کبھی شور مچاتے آبشار دل موہ لیتے ہیں، تو کبھی سرسبز میدان انسان کو رک جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگر بابوسر ٹاپ بند ہو تو قراقرم ہائی وے کے ذریعے گلگت اور استور کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ منی مرگ سے آگے ڈومیل تک کا سفر زیادہ تر جیپ کے ذریعے طے کیا جاتا ہے، کیونکہ کچی سڑکیں اس مہم جوئی کا لازمی حصہ ہیں۔
جیسے ہی رینبو لیک سامنے آتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیلے آسمان کا ایک ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔ سورج کی کرنیں جب جھیل کے شفاف پانی پر پڑتی ہیں تو پانی کبھی نیلا، کبھی سبز اور کبھی فیروزی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ ان بدلتے رنگوں کی وجہ سے ہی اسے "رینبو لیک" کہا جاتا ہے۔ اردگرد برف پوش پہاڑ، سبز میدان، جنگلی پھول اور ٹھنڈی ہوائیں مل کر ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں کہ کیمرہ اس حسن کو مکمل طور پر قید نہیں کر پاتا۔
یہ علاقہ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ تاریخی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ صدیوں سے یہ خطہ شمالی پہاڑی راستوں اور سرحدی علاقوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ آج بھی ان پہاڑوں کی خاموشی ماضی کی بے شمار داستانوں کی گواہ محسوس ہوتی ہے۔
منی مرگ کے مقامی لوگ اپنی مہمان نوازی، سادگی اور خلوص کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور گفتگو میں اپنائیت ہر آنے والے کو اپنا سا محسوس کراتی ہے۔ ان کی زندگی آج بھی فطرت کے قریب ہے، جہاں محنت، قناعت اور روایتی اقدار نمایاں نظر آتی ہیں۔
اگرچہ منی مرگ میں چند سادہ گیسٹ ہاؤس اور رہائش کی بنیادی سہولیات موجود ہیں، تاہم بہتر ہوٹل اور نسبتاً زیادہ سہولیات استور میں دستیاب ہیں۔ مقامی ریسٹورنٹس میں سادہ مگر ذائقہ دار کھانے مل جاتے ہیں، لیکن دور دراز علاقوں میں سفر کے دوران ضروری خوراک، پانی اور دیگر اشیائے ضرورت اپنے ساتھ رکھنا دانشمندی ہے۔
رینبو لیک کی سیر کے لیے جون سے ستمبر تک کا عرصہ بہترین سمجھا جاتا ہے۔ جولائی اور اگست میں پوری وادی سبز مخملی چادر اوڑھ لیتی ہے، رنگ برنگے جنگلی پھول کھل اٹھتے ہیں اور موسم نہایت خوشگوار ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں شدید برف باری کے باعث راستے بند ہو سکتے ہیں، اس لیے سفر سے پہلے موسم، سڑکوں کی صورتحال اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات ضرور معلوم کر لینی چاہییں۔
سفر پر نکلتے وقت گرم کپڑے، مضبوط ٹریکنگ جوتے، برساتی، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک، ٹارچ، شناختی دستاویزات اور مناسب نقد رقم لازماً ساتھ رکھیں، کیونکہ ہر جگہ موبائل نیٹ ورک اور اے ٹی ایم کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔رینبو لیک، ڈومیل منی مرگ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کا ایسا انمول تحفہ ہے جو انسان کو زندگی کی مصروفیات سے چند لمحوں کے لیے الگ کر کے سکون، خاموشی اور خوبصورتی کی ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک اس جھیل کو نہیں دیکھا تو یقین مانیے، شمالی پاکستان کی ایک ایسی لازوال خوبصورتی ابھی بھی آپ کی منتظر ہے، جہاں قدرت آج بھی اپنے سب سے حسین رنگوں سے خاموش شاعری کر رہی ہے۔
افسوس ناک ۔۔۔ دکھ بھری خبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتایا گیا ہے بلوچستان کے ضلع شیرانی کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے دہانہ سر میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم چالیس افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
محترم علامہ ناصر مدنی کو دوران جمعہ خطبہ ہارٹ اٹیک ۔۔۔۔ کلمہ شہادت کا ورد
ملتان کارڈیالوجی ہسپتال میں داخل
فوری ٹریٹمنٹ
اب خطرہ سے باہر ۔۔۔۔صحت میں بہتری
اللہ تعالیٰ مکمل صحت تندرستی عطا فرمائے آمین
03/07/2026
سینئر صحافی پیر آ غا محمد علی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
30سال سے امریکہ میں مقیم سینئر صحافی "ملتانی" محترم محمد صدیق بھٹہ کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*"جسم امریکہ میں اور دل پاکستان میں دھڑکتا ہے" صدیق بھٹہ*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ غا محمد علی فرید بہترین صحافی اور منفرد اور تاریخی کام کررہے ہیں: صدیق بھٹہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان پاک گیٹ کے علاقے میں پیدا ہوئے ۔۔۔والد صاحب پائلٹ کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالج کے زمانے میں لکھنے کا شوق ہوا روزنامہ نوائے ملتان پھر روزنامہ سنگ میل اور وہاں سے کراچی پہنچ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں طویل عرصے روزنامہ سنگ میل ' روزنامہ آ غا ز 'روزنامہ پیغام ' روزنامہ حریت ' روزنامہ پاکستان اور روزنامہ خبریں کراچی میں ایگزیکٹو ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان میں چند ماہ میں تاریخی سپلیمنٹ کے بعد کراچی اور پھر امریکہ پہنچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ میں ڈیپارٹمنٹ سٹور اور پٹرول گیس اسٹیشنز پر بڑی محنت اور لگن سے کام کیا اور اور 14 سال بعد بڑی جدوجہد کے بعد 2010 میں گرین کارڈ ملا اور امریکی شہری بن گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ میں ہوں لیکن اپنے دوستوں تعلق داروں سے ہمیشہ رابطے میں رہتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"1994-95 کی بات ہے روزنامہ خبریں ملتان کا بیورو افس آ ٹو پلازہ ڈیرااڈہ سے بامن جی چوک کینٹ کے ایک بلقیس پلازہ کی دوسری منزل پر شفٹ ہوا تھا خبریں انتظامیہ کو مالی طور پر وہ رزلٹ نہیں مل رہے تھے اور ملتان سے خبریں اخبار شائع ہونے کا اعلان بھی ہوچکا تھا اور ضیا شاہد کے بڑے صاحبزادے محترم عدنان شاہد مرحوم بھی ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے عہدے کے ساتھ آ چکے تھے ۔۔۔۔ایسے میں کراچی آ فس سے ایک شخصیت کو ٹاسک دیا گیا کہ خبریں سپلیمنٹ کا اہتمام کیا جائے اس وقت اس کا اندازہ دو چار لاکھ ہی رکھا گیا تھا تو اس شخصیت جو آ ئی تو کراچی سے تھی مگر ان کی جنم بھومی ملتان ہی کی تھی اس لیے ملتان ان کے لیے نیا نہیں تھا پھر ان کو اس خبریں میں ان کے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو بھی چیف رپورٹر کی شکل میں مل گئے تھے پھر کیا اس شخصیت نے اپنے دوست چیف رپورٹر اس وقت کے جواں سال پروفیسر ادیب کالم نگار اور آ ج کے موجودہ ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک سینٹر' رپورٹرز تین لیڈی رپورٹرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دی اور اس سپلیمنٹ کا احاطہ جنوبی پنجاب تک پھیلا دیا اور صبح میٹنگ کے بعد یہ ٹیم گاڑی پر نکل جاتی اور شام کو واپس آ جاتی اور سپلیمنٹ پر کام تیزی سے آ گے بڑھتا رہا اور اس ٹیم کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ یہ جو کام کررہے ہیں وہ ملتان کی اردو صحافتی تاریخ میں ایک ایسا ریکارڈ بنائے گا کہ نہ اس سے قبل اور نہ ہی 32 سال بعد تک اُردو اخبارات اس ریکارڈ کو توڑ جاسکے ۔۔ان دنوں ملتان میں خبریں اخبار لاہور سے شائع ہوکر ملتان آ یا کرتا تھا اور کوئی ایڈیشن ہو تو وہ بھی لاہور سے پہلے شائع ہوکر ایک دن پہلے بھی آ جایا کر تا تھا جس کو اخبار میں شامل کرلیا جاتا تھا روزانہ میٹر تصاویر اور اشتہارات بھیجے جارہے تھے اور سپلیمنٹ صفحات کی ڈیزائننگ لاہور آ فس میں ہورہی تھی پھر اس کو ترتیب دیکر چار چار صفحات کی شکل میں چھاپنے کیلئے تیار کیا جارہا تھا اور ایک ماہ کے عرصے میں جب ملتان بیورو نے شائع کرکے سپلیمنٹ ملتان بھیجنے کا گرین سگنل دیا تو اب لاہور آ فس میں ایمرجنسی لگ گئی تھی کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں سپلیمنٹ اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس سپلیمنٹ کو شائع کرنے میں تین دن لگ گئے تھے اور ہیڈ آ فس بھی خوش تھا کہ اشتہارات کی شکل میں فائدہ مل رہا ہے وہاں خبریں اخبار اس دن ایک قاری کے پاس اسی قیمت میں 60 صفحات کا ملنا تھا کیونکہ اس سے قبل ملتان میں اردو اخبارات کی دنیا میں کبھی ایک اخبار اتنے زیادہ صفحات کے ساتھ نہیں دیا گیا تھا " اب آ پ سوچ رہے ہونگے کہ خبریں سپلیمنٹ کا کارنامہ تو سمجھ آ گیا مگر اس ٹیم کے لوگ کون کون تھے جو اس کا حصہ بنے تھے ۔۔۔ آ غا صاحب ان کے بارے میں نہیں بتا رہے ہیں تو میں آ پ کو بتاتا ہوں جس صحافی شخصیت کو چیف ایڈیٹر محترم ضیا شاہد صاحب نے ملتان جاکر اس ٹاسک کو مکمل کرنے کا حکم دیا تھا وہ ہیں کراچی کے روزنامہ خبریں کے ایگزیکٹو ایڈیٹر محترم محمد صدیق بھٹہ صاحب جوکہ اس کارنامے کے کچھ عرصے بعد 1996 ءکو امریکہ چلے گئے تھے اور آ جکل وہیں رہائش پذیر ہیں اور کبھی کبھی ملتان کی محبت ان کو پاکستان کھینچ لاتی ہے دوسرے پروفیسر کالم نگار ادیب محترم نسیم شاہد صاحب تھے ۔۔ موجودہ سینیٹر محترم رانا محمود الحسن تھے جو کہ خبریں ملتان میں رپورٹر ہوا کرتے تھے چیف رپورٹر ہم سب کے بھائی جان محترم سینئر صحافی مظہر جاوید صاحب تھے۔ رپورٹرز میں خالد حسین ' صحافی خالد جمیل'خان ظفر اللہ خان کے ساتھ ساتھ میں (آ غا محمد علی فرید سٹی رپورٹر) بھی اس ٹیم کا حصہ تھے اور ہاں اس وقت ایک لیڈی رپورٹر رفیدہ نواز صاحبہ جو کہ ا جکل ماہر تعلیم اور بی زیڈ یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کی ڈین ہیں دو مزید لیڈی رپورٹر ز میں محترمہ عذرا ملک 'محترمہ مس شاہانہ یاسمین اور دو محترم سیاسی شخصیات محترمخضر حیات سندھو صاحب اور محترم نوازش علی بخاری ڈائریکٹرز تھے فوٹو گرافر ز میں محترم ایاز شیخ اور محترم شاداب انور مرحوم بھی تھے ۔۔۔اس تاریخی کام کو پیش کرنے کا مقصد آ چ میرے چلتے چلتے عنوان کے تحت مقبول کالم ایڈیشن کی شخصیت محترم محمد صدیق بھٹہ کی کہانی کو پیش کرنا تھا ۔۔۔ میرا صدیق بھٹہ صاحب سے اس کے بعد چند برس قبل ایسے رابطہ ہوا کہ میری فیس بک کی ہر پوسٹ پر ایک جوان تصویر محمد بھٹہ نامی شخص کمنٹس اور لائیک کرتے تھے اور وہ میری پہنچان میں نہیں آ رہے تھے اور محمد بھٹہ نامی کوئی شخص میرا ایسا دوست بھی نہیں تھا جو ایسے باقاعدگی سے لائیک اور کمنٹس کرے بلآخر میں نے رابطہ کرہی لیا اور آ گے سے پیار بھری خوبصورت آ واز سے شخص کہہ رہے تھے ۔۔۔اغا صاحب کیا حال ہیں!! اب تو میں اور پریشان ہوگیا کہ یہ شخص مجھے جانتا ہے لیکن میں پہنچان نہیں رہا ہوں ۔۔۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا آ پ کون ۔۔۔؟؟ میں کسی محمد بھٹہ کو نہیں جانتا ہوں ۔۔۔!!! تو چند سیکنڈ بعد قہقہے کی آ واز آ ئی اور انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آ پ محمد بھٹہ کو نہیں جانتے ہو مگر صدیق بھٹہ کو تو جانتے ہو ۔۔۔!! میں نے کہا وہ خبریں والے؟؟ انہوں نے کہا جی جی میری آ پ سے پہلی ملاقات خبریں ملتان بیورو آ فس میں ہوئی تھی بس پھر کیا تھا ان سے بات چیت ہونے لگی کچھ عرصہ قبل جب وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنے آ بائی شہر ملتان خونی برج پاک گیٹ آ ئے ہوئے تھے اور زکریا کالونی میں ٹھہر ے ہوئے تھے مگر افسوس بھٹہ صاحب سے ملاقات نہیں ہوسکی مگر رابطے میں ہم مسلسل رہے ہیں اب اپ کو محترم صدیق بھٹہ صاحب کی کہانی سناتے ہیں جیسا کہ آپ کو بتایا ہے کہ ان کی پیدائش خونی برج پاک گیٹ کا اندرون علاقہ ہے وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں ابتدائی تعلیم پاک گیٹ کے ایک سکول میں حاصل کی گھر میں سب بہن بھائیوں سے بڑے ہونے کی وجہ سے ذمے داری کا بوجھ بھی زیادہ ہی سمجھتے تھے چھٹی سے میٹرک تک گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول حرم گیٹ سے حاصل کی اور سائنس مضامین کے ساتھ میٹرک ا چھے نمبروں سے پاس کیا تو ایف ایس سی پری انجینئرنگ کے لیے گورنمنٹ علمدار حسین کالج میں داخلہ لے لیا ہاکی کھیلنے میں دلچسپی رکھتے تھے اور بچوں کی کہانیاں بھی لکھنے لگے تھے اور اس کو چھپوانے کے لیے روزنامہ نوائے ملتان بھی جانے لگے تھے وہاں ان کی ملاقات سینئر صحافی محترم عزیز انجم سے ہوگئی تھی اور وہ بھی طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں اور ان دنوں دونوں شخصیات امریکہ میں ہمسائے بھی ہیں ۔۔۔ خیر کالج میں صدیق بھٹہ صاحب نے طلبہ تنظیم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور اے ٹی آ ئی جوائن کرکے فعال کردار ادا کرنا شروع کردیا تھا جب صدیق بھٹہ صاحب کالج میں تھے تو ان کے والد ان کو پائلٹ کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے والد محترم کے ایک دوست پائلٹ تھے جس سے وہ بیحد متاثر تھے مگر صدیق بھٹہ صاحب کو تو صحافی بننے کا جنون ہوگیا تھا ایف ایس سی کے بعد اگلی کلاس میں وقفہ آ یا تو فری لانس نوائے ملتان میں جانے لگے پھر کچھ عرصہ بعد روزنامہ سنگ میل پہنچ گئے تھے اور وہاں پر انہوں نے محترم ممتاز طاہر اور محترم عزیز انجم صاحب سے رپورٹنگ سیکھنا شروع کردی تھی اور ہر ہفتے بچوں کے صفحہ جو کہ "شمع" کے نام سے شائع ہوتا تھا اس میں بھی لکھنا شروع کردیا تھا اس صفحہ کے انچارج جب یہ صفحہ چھوڑ کر چلے گئے تو اس کی زمہ داری ان کے کاندھوں پر آ گئی تھی انہی دنوں محترم ممتاز احمد طاہر کے ساتھ کیا گئے تھے کہ وہ شہر ہی انکو بھاگیا تھا اور دل میں فیصلہ کرلیا تھا صحافت کرنی اور ترقی کرنی ہے تو تو یہ شہر ان کے لئے بہتر رہے گا چنانچہ کچھ عرصہ بعد کراچی جانے کا فیصلہ کرلیا تو روزنامہ سنگ میل کراچی کے نمائندے بن کر جانے لگے تو پورے دفتر اور بالخصوص محترم عزیز انجم صاحب نے ان کے اعزاز میں پارٹی دی اور دعاؤں کے ساتھ کراچی رخصت کردیا اب کراچی پہنچے تو رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں تھا تو اے ٹی آ ئی کے اس وقت کے صدر محترم حاجی حنیف طیب کے پاس پہنچ گئے وہ ان جانتے تھے تو ان کا پہلا قیام اے ٹی آ ئی کا دفتر بنا روزنامہ سنگ میل سے ان کو ماہانہ 400 روپے اعزازیہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ ان کے کھانے پینے کے لئے کافی تھا پھر وہاں پر ایک دوپہر کے اخبار ڈیلی "آ غاز" میں منیجر ایڈورٹائزنگ بن گئے اور وہاں سے بھی معاوضہ 400 روپے ماہانہ ملنے لگا وقت گزرنے لگا اور وہ محنت ودیانت سے کام کرتے رہے فیصل آباد کے ایک اخبار روزنامہ" پیغام" کی کراچی میں نمائیندگی مل گئی تھی پھر روزنامہ حریت میں چلے گئے جہاں ان کو ہینڈ سم سیلری ملنے لگی تھی انہوں نے روزنامہ امن اور ایڈورٹائزنگ ہاک میں بھی کام کیا تھا پھر وہ چودھری شبیر احمد جو کہ روزنامہ حریت کراچی کے جی ایم تھے وہ روزنامہ پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر بن گئے تھے تو صدیق بھٹہ صاحب بھی ان کے ساتھ روزنامہ پاکستان کراچی خدمات سر انجام دینے لگے ۔چودھری شبیر احمد کے کچھ عرصے بعد روزنامہ خبریں میں جانے سے پہلے انہوں نے بھی اس وقت کے چیف ایڈیٹر پاکستان اکبر علی بھٹی کو استعفی دیکر روزنامہ خبریں کراچی پہنچ گئے اور ایگزیکٹو ایڈیٹر بن گئے ۔اس دوران شادی اور ان اولاد کا تحفہ بھی مل جاتا ہے ۔۔۔یہ وہ وقت تھا جب وہ پانچ چھے مہینے کے لیے ملتان خبریں آ ئے تھے اور ان کی بطور ٹیم سربراہ تاریخی سپلیمنٹ دیا تھا اس کی کہانی اوپر بیان ہوچکی ہے اب ان کے امریکہ یاترا کی کہانی سناتے ہیں اس سے قبل صدیق بھٹہ صاحب وزٹ ویزا پر امریکہ گھوم آ ئے تھے اور اس وقت ان کی ملاقات امریکہ میں مقیم محترم عزیز انجم صاحب سے ہوچکی تھی اور انہوں نے ان کو بڑی محبت سے گائیڈ بھی کیا تھا مگر صدیق بھٹہ صاحب ایک ماہ بعد واپس پاکستان آ گئے تھے کراچی میں جب وہ ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان تھے تو اکثر امریکی قونصلیٹ جایا کرتے تھے بلکہ ہر ماہ فلم فیسٹیول میں بھی جاتے تھے اس لیے ان اچھی جان پہنچان ہوگئی تھی پھر ملتان سے واپس کراچی پہنچے تو 1996 میں انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب اپنے اور فیملی کی بہتری کے لیے ان کو امریکہ جانا ہوگا ۔۔۔ پانچ بچے بھی ابھی چھوٹے تھے مگر انہوں نے ان کے بہتر مستقبل کے لیے فیصلہ کرلیا ۔۔۔ویزہ آ سانی سے مل گیا اور امریکہ پہنچ گئے اور سیدھے اپنے بڑے بھائی دوست محترم عزیز انجم صاحب کے پاس پہنچے انہوں نے اپنے ایک عزیز کے سٹور پر ملازمت دلوادی بلکہ وہیں پر رہائش کا بھی انتظام کروادیا چند برس بعد پٹرول گیس سٹیشن پر نوکری مل گئی اور تین چار دوستوں نے ملکر ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا وقت گزرنے لگا اور ان کا نام گرین کارڈ کے حصول کی طرف بڑھنے لگا مگر اس کے لئے بھی ان کو طویل عرصے جدوجہد کرنا پڑی با لآخر صدیق بھٹہ صاحب کو 2010 ء میں گرین کارڈ یعنی امریکی نیشنلٹی مل گئی پھر وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شریک حیات اور 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی امریکہ بلوایا اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک بچے کے علاوہ سب کی شادی کے فرائض سے سبکدوش ہو چکے ہیں آ جکل امریکہ میں ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں میں نے پوچھا صدیق بھٹہ صاحب 30 سال پہلے امریکہ جانے کا فیصلہ درست تھا!!! پاکستان کی یاد آ تی ہے!!! تو ایک ٹھنڈی آ ہ بھری اور اس کی شدت مجھے ہزاروں میل دور سے فون پر جاری گفتگو میں بھی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ اب ان کے پاس ان کے داماد ملنے کے لیے آ گئے تھے تو فیصلہ ہوا باقی کے قصے کہانیاں جب وہ پاکستان آ ئیں گے تو ان سے ملاقات کے بعد پیش کریں گے اور آ خر میں کہنے لگے آ غا صاحب میں آ پ کی تمام تحریریں پڑھتا ہوں کیا کمال لکھتے ہیں پھر میرے باجی گڈو مرحومہ اور مرحوم اظہار عباسی کے کالم ایڈیشنز کا حوالہ دیا اور مجھ سے بڑی بہن مرحومہ باجی گڈو کے حوالے سے تعزیت کی اور باجی کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ۔ # #