13/06/2026
منہاج یونیورسٹی لاہور میں نوجوانوں کیلئے فری کورسز، کام سیکھیں اور رزق حلال کمائیں۔
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Abid Khan, Coach, Lahore.
Founder & CEO:
EvolvX Consulting Pvt Ltd
▪︎Serves Public & Corporate Sector
▪︎Leadership |Peak Performance
▪︎MBTI Personality Science |USA
▪︎Silva Method & 4D Mind Power |USA
▪︎NLP |ABNLP-USA
▪︎7 Habits |Franklin Covey-USA
▪︎5D Thinking |Turkey
13/06/2026
منہاج یونیورسٹی لاہور میں نوجوانوں کیلئے فری کورسز، کام سیکھیں اور رزق حلال کمائیں۔
یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، اچیورز گالا میں بطور کی نوٹ سپیکر شرکت
05/06/2026
لیکن میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ آپ کی راہ ان راہوں سے بالکل الگ ہے اور کتاب اللہ کی ہدایت اور حکمتِ نبوت کی سنت نے آپ کو دنیا اور دنیا والوں کی تمام گڑھے ہوئے قاعدوں اور طریقوں سے مستغنی کر دیا ہے ۔
آپ اس لئے نہیں ہیں کہ انسانوں کے بنائے ہوئے طریقوں اور قاعدوں کی تقلید کریں ،بلکہ آپ کو علم وشریعت اس لئے دیا گیا ہے تاکہ دنیا کی آنکھیں آپ کی طرف امید وطلب سے اٹھیں اور آپ کی ہدایت ان کیلئے اتباع و تقلید کا پیام ہو ۔
آپ کے پاس اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے ،اور ان دو چیزوں سے بڑھ کر اور کون سا مبداء علم وسرچشمہ ہوسکتا ہے ۔
جو انسانی اعمال کے تمام اصول وفروع کیلئے دنیا میں وجود رکھتا ہو ،علم یقین صرف وحی الٰہی اور
علوم واعمال نبوت ہیں ۔
اس کے سوا علم یقین کا اس سمائے دنیا کے نیچے وجود نہیں ۔اس کے ماسوا جس قدر بھی ہیں ، قرآن پکار پکار کر کہتا ہے کہ ظن ،تخمین ہے ،قیاس ہے ،اٹکل ہے ،تخرص اور تلعب بالریب ہے ،ظلمت ہے .
مولانا ابوالکلام آزاد ۔۔۔۔۔۔
اقتباس ۔۔۔۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خطبات آزاد
صفحہ 67
محمد عارف احرار
23/05/2026
Achievers Gala 2026
Venue: University of Management & Technology Lahore.
Organized By: Hope Of Pakistan
Gratitude: Founder Hope Of Pakistan Azeem Arif & Founder Juvenile Pakistan Ch Hammad Sarfraz
My Keynote Speech:
Topic: Social Entrepreneurship & Community Leadership
میں نے ایک سچی کہانی سنائی۔
ڈاکٹر محمد امجد ثاقب، پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر کمالیہ سےکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ڈاکٹر اور پھر سول سروس کے سینیئر افسربنے، 2001 میں لاہور کے رسول پارک سے ایک بیوہ مالی مدد مانگنے آئی، چار بچے، گھر میں فاقہ، لیکن ہاتھ پھیلانے کا حوصلہ نہیں۔ صرف دس ہزار روپے کی ضرورت تھی، سلائی مشین خریدنے کے لیے، بینک نے انکار کیا۔۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے قرضِ حسنہ کے اصول پر دس ہزار روپے دےدیے۔
بغیر سود، بغیر ضمانت۔ صرف اعتماد کی بنیاد پر۔
چھ مہینے بعد وہ عورت واپس آئی — رقم لوٹائی اور کہا
"یہ کسی اور ضرورت مند کو دے دیں۔"
اسی ایک جملے سےاخوت فاؤنڈیشن کا آغاز ہوا۔
آج اخوت نے 220 ارب روپے سے زیادہ بلا سود قرضے دیے ہیں، 60 لاکھ خاندانوں کی زندگیاں بدلی ہیں، اور پاکستان کی پہلی مکمل مفت یونیورسٹی قائم کی ہے۔ 2021 میں ڈاکٹر امجد ثاقب کو ایشیا کا نوبیل انعام، ریمن میگسیسے ایوارڈ ملا۔
یہ سب دس ہزار روپے اور ایک فیصلے سے شروع ہوا۔
میں نے نوجوانوں کو چار پوائنٹس بتائے
اپنی سماجی ضرورت پہچانیں
اپنے محلے، اپنے اردگرد دیکھیں، وہ ایک مسئلہ جو آپ بار بار دیکھتے ہیں اور جسے کوئی حل نہیں کر رہا، وہی آپ کا نقطۂ آغاز ہے۔
پہلے سنیں، پھر حل نکالیں
جو لوگ اس مسئلے میں جی رہے ہیں
ان کے پاس جائیں، بیٹھیں، سنیں۔ اصل حل ہمیشہ انہی گفتگو میں چھپا ہوتا ہے۔
:چھوٹا آغاز، بڑا خواب — ابھی کریں
تیار ہونے کا انتظار نہ کریں۔ اس ہفتے سب سے چھوٹا ممکنہ قدم اٹھائیں شروع کرنے سے رفتار پیدا ہوتی ہے — انتظار سے صرف بہانے۔
:پہلے اعتماد بنائیں
تین سے پانچ ہم خیال لوگ تلاش کریں۔ کمیونٹی لیڈرشپ سب سے اونچی آواز کا نام نہیں، سب سے مضبوط اعتماد کا نام ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب اور آپ کے درمیان صرف ایک فرق ہے —
انہوں نے پہلا قدم اٹھایا۔
آپ کا پہلا قدم آپ کا انتظار کر رہا ہے۔
محمد عابد سعید خاں
#پاکستان\_کا\_مستقبل #امجد\_ثاقب #اخوت
21/05/2026
Venue: University of Management & Technology Lahore
Keynote: Social Entrepreneurship & Community Leadership
Host: Hope Of Pakistan
Gratitude: Azeem Arif , Ch Hammad Sarfraz
We are incredibly thrilled & honored to announce 𝙈𝙪𝙝𝙖𝙢𝙢𝙖𝙙 𝘼𝙗𝙞𝙙 𝙎𝙖𝙚𝙚𝙙 𝙆𝙝𝙖𝙣 as our 𝙆𝙚𝙮𝙣𝙤𝙩𝙚 𝙎𝙥𝙚𝙖𝙠𝙚𝙧 for the highly anticipated Achiever’s Gala 2026!
Prepare to be inspired by a true leader who is actively shaping the future of community service in Pakistan! 🚀✨
📅 Event Details:
Date: Friday, 22nd May 2026
Time: 01:00 PM (PKT)
Venue: Hakim Saeed Hall, UMT Lahore
For Info: +92 312 7788029
26/03/2026
ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی مجھ سے انباکس میں یہی سوال پوچھتا ہے:
"حالات بگڑتے جارہے ہیں، مہنگائی بے قابو ہورہی ہے، میں کون سا کام کروں تاکہ اپنی آمدنی بڑھا سکوں؟"
اور پچھلے کچھ ہفتوں میں، جب سے مڈل ایسٹ میں جنگ کی وجہ سے حالات غیر یقینی ہوئے ہیں، یہ سوال اور بھی زیادہ آنے لگا ہے۔
میرا جواب سن کر اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں۔
دیکھیے، میں یہ نہیں بتاتا کہ کون سا کام کریں یا سیکھیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ آپ غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔
صحیح سوال یہ نہیں ہے کہ "کون سا کام سیکھا اور کیا جائے؟"
صحیح سوال یہ ہے کہ "لوگ پہلے سے کہاں پیسے خرچ کر رہے ہیں اور انہیں اس کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے؟"
جب میں یہ بات سمجھاتا ہوں تو پہلے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں، پھر دماغ کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، یا کوئی اور اسکلز سیکھ لیں گے تو کلائنٹ خود آ جائیں گے اور ہم چند مہینوں میں اچھا کمانا شروع کردیں گے۔
لوگ مہینوں محنت کرتے ہیں، کوئی اسکل سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سیکھ بھی لیتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی سروسز بیچ نہیں پاتے۔
کیونکہ انہوں نے غلطی یہ کی ہے کہ انہوں نے ایک اسکل سیکھ لی ہے، لیکن مسئلے کو حل کرنا نہیں سیکھا۔
مجھے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اب 23 برس ہوگئے ہیں اور میں نے جتنے کامیاب لوگ دیکھے ہیں، جن کے ساتھ کام کیا ہے، وہ عام طور پہ سب سے زیادہ اسکلڈ لوگ نہیں ہوتے ہیں۔
بلکہ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں:
"میرے کام کے نتیجے میں آپ کی لیڈز میں اضافہ ہوجائے گا، یعنی اگر اس وقت روزانہ 10 انکوائریز آرہی ہیں تو میرے کام کے نتیجے میں آئندہ دو سے تین ماہ 50 انکوائریز آنی شروع ہوجائیں گی۔"
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی کسٹمر کمپلینز میں 40 فیصد کمی" واقع ہوگی۔ "
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی اکاؤنٹنگ اور بک کیپنگ آسان" ہوجائے گی اور آپ کے روزانہ دو سے تین گھنٹے بچیں گے۔"
یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔
آپ میں سے اکثر لوگ نیٹ فلکس کو جا تے ہیں۔ نیٹ فلکس آپ کو موویز نہیں بیچتا، وہ بوریت کا حل بیچتا ہے۔ ریلیکس ہونا بیچتا ہے، آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں، وہ انجوائمینٹ بیچتا ہے۔
سمجھے؟
کریم اور اوبر سواری بیچتے ہیں؟ جی نہیں۔ وہ آپ کو سواری کے لیے پریشان ہونے سے بچنا اور وقت بچانا بیچتے ہیں۔
فوڈ پانڈا کی مثال لے لیجیے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ فوڈ پانڈا کھانے کی سروس بیچ رہا ہے! جی نہیں۔ فوڈ پانڈا کھانا نہیں بیچتا، وہ آسانی بیچتا ہے۔ بس گھر بیٹھے سینکڑوں آپشنز میں سے آپشن سلیکٹ کیجیے اور اپنا پسندیدہ کھانا منگوا لیجیے۔ گرمی میں کچن میں کام کرنے سے بچنے کی آسانی، باہر جاکر ٹریفک میں پھنسنے، پھر ریسٹورنٹ میں انتظار کی کوفت سے بچنے کی آسانی، پیمنٹ کرنے کی آسانی۔۔۔
لیکن آپ کو نیٹ فلکس، کریم، اوبر، فوڈ پانڈا بننا ضروری نہیں ہے۔
میں دو مثالوں سے بات سمجھاتا ہوں۔
کراچی میں ایک نوجوان میری ورکشاپ میں آیا، جس کے ساتھ میں نے کام کیا، اس نے دیکھا کہ ریستوران والے برے Google reviews کی وجہ سے کسٹمرز مس کر رہے ہیں۔
میں نے اسے وژن بنانے میں مدد کی اور کہا کہ تم گوگل کی سائنس اچھی سمجھتے ہو تو تم یہ مسئلہ حل کرنے کی بات کرو، جس سے ریسٹورنٹس کے ریویوز بہتر ہوجائیں اور ان کی سیلز میں اضافہ ہو۔
اس نے ایک درمیانے درجے کے ریسٹورنٹ کی آن لائن ساکھ سنبھالنا شروع کر دی۔ اس لڑکے کے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں ہے، ایک اسکل ہے جو شاید بہت سے اور لوگوں کے پاس ہوگی، بس اس نے اپنے وژن کو اسکل سے ہٹا کر مسئلے کے حل پر لگا دیا۔ آج وہ 30 سے زیادہ ریسٹورنٹس کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے ساتھ اپنی اہلیہ کو بھی کام سکھا کر دونوں ایک ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں۔
دبئی میں ایک سنگل مدر سے ملاقات ہوئی۔ ان کی گوگل اور میٹا پر اشتہارات کے حوالے سے اچھی اسکل تھی لیکن کام نہیں کر پارہی تھیں۔
جب ان کے ساتھ میں نے کام کیا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا اشتہارات پر اکثر پیسے ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہوتا۔
ہم نے اپنے وژننگ پروسیس میں یہ کہا کہ آپ گارنٹی کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کریں، یعنی پیسے تبھی دیں جب آپ کو نتیجہ ملے۔ دو مہینوں میں ان کے پاس کام کی لائن لگ گئی۔ الحمد للہ، آج پانچ لوگوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کئی کلائنٹس مینیج کررہی ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی کچھ کلائنٹس کم ضرور ہوئے ہیں لیکن اوور آل صورتحال ٹھیک ہے کیونکہ وہ صرف دبئی یا خلیج تک محدود نہیں ہیں۔ پچھلے دو سال میں ان کو اسکیل کروا کر دیگر خطوں میں بھی کام شروع کروایا جس کا آج فائدہ ہورہا ہے۔
ان لوگوں کے پاس اسکل تھی کیونکہ ہر کوئی اسکل کی بات کررہا ہے لیکن نے میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔
لیکن یہاں وہ بات کہنا ضروری ہے جو میں نے ان کو سمجھائی اور ہر اس شخص سے کہتا ہوں جو میرے پاس آتا ہے، اور یہ بات اکثر لوگ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے:
کمانے کا طریقہ پوچھنے سے پہلے یہ جواب دینا ضروری ہے کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں اور کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
کمانا ایک ذریعہ ہے۔
اگر آپ کے پاس اپنے بڑے وژن اور پرپز کی کلیرٹی نہیں ہے تو آپ ہر چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگتے رہیں گے، کچھ بھی مکمل نہیں کر پائیں گے، اور دو تین مہینوں میں مایوس ہو کر چھوڑ دیں گے۔
یہ وہ پیٹرن ہے جو میں برسوں سے ہزاروں لوگوں میں دیکھ رہا ہوں۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذہین نہیں ہوتے۔
وہ سب سے زیادہ کلئیر سوچ والے ہوتے ہیں۔
میری رائے ہے کہ آپ یہ کریں:
← پہلے اپنا وژن طے کریں۔ آپ کیا بنا رہے ہیں اور کس کے لیے؟
← دیکھیں کہ پیسہ کہاں ضائع ہو رہا ہے، نہ کہ صرف کون سا ہنر سیکھنا ہے۔
← سروس یا پروڈکٹ نہیں، نتائج کی بات کریں۔
← ثابت قدم رہیں — آپ کا پرپز اور وژن آپ کو مشکل وقت میں جمائے رکھے گا۔
لیکن یہ دونوں چیزیں اگر کلئیر نہیں ہیں تو جیسے ہی کوئی چیلنجز آئیں گے، آپ ہاتھ پاؤں چھوڑ دیں گے۔
آپ کی مالی ترقی میں رکاوٹ اسکل کی کمی نہیں ہے بلکہ کلیرٹی کی کمی ہے۔
آپ کے پاس کون سی ایسی اسکل ہے جسے آپ نے کبھی کسی اصل وژن اور مقصد سے نہیں جوڑا؟ اور آپ فرسٹریشن کا شکار ہورہے ہیں؟
یمین الدین احمد
26 مارچ 2026ء
کراچی، پاکستان۔