07/04/2026
ایران جو 1935 سے پہلے قدیم تاریخ 4000 سال قبل مسیح فارس کے نام سے جانا جاتا تھا
ایران کا رقبہ پاکستان کے رقبہ سے دو گنا لیکن ابادی 9 کروڑ سے کچھ زیادہ ہے
فارس کے متعلق ہمارے پیارے آقاء کی حدیث ہے کہ فارس کے لوگوں کو اگر آسمان پر کسی ستارہ پر بھی تعلیم حاصل کرنا پڑے تو ضرور جائیں گے
اسی لئیے ایران میں شرح خواندگی خواتین میں بھی
99%
ہے اور ایران میں آج بھی روٹی گھر میں پکانا منع ہے کہ خواتین تعلیم پر توجہ دے سکیں
امام بخاری اور امام مسلم کا تعلق ایران سے تھا جن کی کتب احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم آج بھی مشعل راہ ہیں جبکہ ایک نامور صحابی رسول حضرت سلیمان فارسی بھی ایران کے رہنے والے تھے
۔اس عظیم ملک کی تاریخ بہت پرانی ہے اور آج بھی روضہ حضرت امام رضا کی سعادت اس ملک کو حاصل ہے لہذا پوری غیرت سے لڑ رہے ہیں
آپ اندازہ لگائیں اس ملک کی غیرت کا اور حکمرانی کا
ہمسایہ ملک ایران جو ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفار سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:
*1- اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی*
*2- کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی*
*3- ادویات کی اپیل نہیں کی*
*4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے*
*5- ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔*
*6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔*
*7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔*
*8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔*
*9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔*
یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔
کیونکہ:
*1- نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے*
*2- وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ہے۔*
*3- حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے*
*4- کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔*
*5- سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے*
*6- کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے نہیں ہیں*
*7- امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں*
*8- تعلیم مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔*
*9- رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے پھر سپریم لیڈر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لیے سال میں ایک آدھی مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے*
*10- گھر میں روٹی پکانا منع ہے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔*
*11- ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20000 روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ہے*
*12- علاج میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ہے 30 فیصد مریض*
*13- چوری ڈکیتی نہیں ہے*
*14- شاہی کلچر نام کی چیز ہے نہ پروٹوکول*
*15- بھکاری نہیں ملے گا*
*16- بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ہے*
*17- سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے*
*18- جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیجی جاتی ہے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔*
*19- امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ہے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کر سکے ۔جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ہے۔*
*20- وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔*
*21- چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ہے سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے*
*22- معلم سر کا تاج ہوتا ہے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔*
*23- نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے*
*24- ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے*
یہ ہے ولایت فقیہ کا ملک جسے ایرانی کہتے ہیں کہ یہ ملک بارہویں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا پیش خیمہ ہے۔
اور ہم نے یہ حکومت نھار دہندہ بشریت کے سپرد کرنی ہے یہ ہمارے پاس امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
ان کے اس جذبے اور قربانی اور پھر سچے ایمان کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان کی تائید کر رہے ہیں۔
اگر ایسی حکومت سپر پاور بن جائے تو دنیا کے غم ختم ہو جائیں گے۔
درحقیقت یہ وہی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت ہے جس کا پوری دنیا کو صدیوں سے انتظار ہے۔
ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے ترقی کا سورج کے کر نکلے گا۔
اور پوری دنیا پر مسلمان اور اسلام غالب ا جائے گا۔
با کچھ صبر ؛ برداشت اور متحد ہو جانے کی ضرورت ہے۔
گناہ کرنا چھوڑ دیں
اپنے آپ کو اس عالمی حکومت کے لیے تیار کر لیں جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔
معاشرے میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں۔
چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھیں۔
اساتذہ و علماء کرام کا خاص خیال رکھیں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
آمین
Malik Shahbaz Ali Rizwan khokhar Chaudhry Abdul Waheed