Cricket with Ahsan

Cricket with Ahsan

Share

کرکٹ کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہنے کیلئے فالوکریں

03/09/2026

🚨 مائیک ہیسن بطور پاکستان کے ہیڈ کوچ — کارکردگی ایک نظر میں!

مائیک ہیسن کے دورِ کوچنگ میں پاکستان کرکٹ کو کئی اہم مواقع پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا:

❌ بنگلہ دیش کے خلاف ٹی20 سیریز میں شکست

❌ زمبابوے اور افغانستان کے خلاف ٹی20 میچز میں شکست

❌ ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست

❌ بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست

❌ ایشیا کپ میں بھارت کے ہاتھوں 3 مرتبہ شکست

❌ ٹی20 ورلڈ کپ میں بڑی ٹیموں کے خلاف مسلسل ناکامیاں

یہ تمام نتائج سامنے آنے کے باوجود انہیں برطرف کرنے کے بجائے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں مزید اہم ذمہ داری دے دی یعنی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ بھی سونپ دی۔

سوال یہ ہے کہ آخر ناکامی کی سزا عہدہ ختم کرنا ہے یا عہدہ بڑھانا؟

پاکستان کرکٹ میں فیصلے کارکردگی کی بنیاد پر ہوتے ہیں یا کچھ اور معیار بھی ہے؟

03/09/2026

🗣️ ناصر حسین کی پاکستان کرکٹ پر کھری کھری تنقید

ناصر حسین نے کہا:

"مجھے نہیں لگتا کہ پہلے ٹیسٹ کے بعد دنیا پاکستان پر ہنس رہی تھی۔ میں نے دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ مقابلے میں واپس آنے کے لیے ذرا بھی مزاحمت نہیں کر رہے۔ میں نے پاک بھارت میچز کے یکطرفہ ہونے اور پاکستان کے ایک کمزور ٹیم کی طرح خراب کھیلنے پر بھی بات کی تھی، لیکن یہ پاکستان کا مذاق اڑانے کے لیے نہیں تھا۔ یہ دراصل مایوسی تھی کہ کرکٹ کی اس عظیم قوم کی حالت آج کہاں پہنچ گئی ہے۔"

سابق انگلش کپتان نے مزید کہا:

"لیکن اب انہوں نے جو کچھ کیا ہے، یعنی سیریز کے دوران ہی پورا سیٹ اَپ تبدیل کر دیا، اس سے انہوں نے خود کو مذاق کا نشانہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔"

03/09/2026

عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فیصلے پر بہت دکھ ہوا یا شدید غصہ آیا، لیکن جب کوئی فیصلہ حماقت کی تمام حدیں عبور کر جائے تو دکھ یا غصہ نہیں آتا، بلکہ بے ساختہ ایک زوردار ہنسی نکل جاتی ہے۔

جب یہ خبر سامنے آئی کہ بیٹنگ کی ناکامی کی وجہ سے بولنگ کوچ عمر گل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تو واقعی ہنسی آ گئی۔ 😄

شکر ہے اسی دن لیونل میسی نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، ورنہ شاید پی سی بی اسے بھی ہاکی ٹیم کے گول کیپر کے عہدے سے ہٹا دیتا! 😂

کرکٹ بورڈ کی اس اچانک "سرجیکل اسٹرائیک" پر حیرانی اس لیے بھی ہوئی کہ یہ وہی کرکٹ بورڈ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، نسیم شاہ اور شاداب خان کو بڑی تحمل مزاجی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا۔ کبھی انہیں پریمیئر فاسٹ باؤلر، کبھی سوئنگ بولر، کبھی آل راؤنڈر اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر ڈیفنڈ کیا جاتا رہا، اور انہیں پہچاننے اور ان سے جان چھڑانے میں بھی برسوں لگا دیے گئے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ محمد عباس، محمد علی، علی عثمان اور خرم شہزاد کی کارکردگی میں آخر ایسا کیا برا نظر آ گیا؟

ذرا اعداد و شمار دیکھ لیجیے۔

پہلی اننگز میں باؤلرز نے مخالف ٹیم کو 290 رنز پر آؤٹ کیا، جبکہ ہمارے بیٹرز 110 رنز پر ڈھیر ہو گئے۔

پھر دوسری اننگز میں باؤلرز نے مخالف ٹیم کو 208 رنز پر آؤٹ کر دیا، لیکن 180 رنز کے خسارے کی وجہ سے ہدف 390 کے قریب جا پہنچا اور ہمارے بیٹرز 194 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس میں باؤلرز کیا کرتے؟ بولنگ کوچ کیا کرتا؟

جب باؤلرز ہر میچ میں، ہر اننگز میں تین، چار بلکہ پانچ پانچ وکٹیں لے رہے ہوں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بولنگ کوچ سے اب یہ توقع بھی کی جا رہی تھی کہ وہ باؤلرز کو سنچریاں بنانا بھی سکھائے؟

عمر گل کا کام بولنگ کروانا تھا، اور وہ اپنا کام بخوبی کر رہے تھے۔ ایک ایسا کوچ جو محدود رنز دے کر وکٹیں حاصل کرنے کی حکمت عملی بنا رہا تھا، اور باؤلرز بھی اس پر عمل کر رہے تھے۔

اگر ٹیم کی بیٹنگ مسلسل ناکام ہو رہی ہے تو اس کا ملبہ بولنگ کوچ کے سر ڈالنا کس منطق کے تحت درست ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ پچاس ٹیسٹ میچز اٹھا کر دیکھ لیں، ہماری بیٹنگ کی حالت سب کے سامنے ہے۔ اکثر میچز میں سات، آٹھ بیٹرز مل کر بھی قابلِ ذکر رنز نہیں بنا پاتے، کبھی تو پچاس کا ہندسہ بھی عبور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں مصباح الحق، یونس خان، اسد شفیق اور اظہر علی کے بعد سے ہماری بیٹنگ کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس پستی تک پہنچ چکے ہیں۔

بنگلہ دیش ہو یا ویسٹ انڈیز، کئی مرتبہ ہماری شکست کی سب سے بڑی وجہ بیٹنگ کی ناکامی بنی ہے۔

اس کے برعکس اگر موجودہ دور کی بولنگ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی بولنگ میں خاصی بہتری آئی ہے۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس شعبے میں باؤلرز اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں، اسی کے کوچ کو بیٹنگ کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے۔

پھر سوال یہ بھی ہے کہ جو لوگ برسوں سے کرکٹ کھیلتے رہے، دہائیوں سے کمنٹری کر رہے ہیں، کبھی کوچ بنتے ہیں، کبھی کمنٹیٹر، کبھی ٹی وی اشتہارات میں نظر آتے ہیں اور کبھی اپنے اثر و رسوخ سے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں—ان سے کبھی اس کارکردگی کا حساب کیوں نہیں لیا جاتا؟

اگر ایک کوچ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے باوجود قربانی کا بکرا بن سکتا ہے، تو پھر کوئی قابل، ایماندار اور شریف آدمی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ کام کرنے پر کیوں آمادہ ہوگا؟

مسئلہ عمر گل نہیں۔

مسئلہ وہ سوچ ہے جو بیٹنگ کی ناکامی کا حساب بولنگ کوچ سے مانگتی ہے، لیکن بیٹنگ کی مسلسل ناکامی کی اصل وجوہات تلاش کرنے کے بجائے ہر بار ایک نیا قربانی کا بکرا ڈھونڈ لیتی ہے۔

پاکستان کرکٹ کو سرجری نہیں، درست تشخیص اور مستقل مزاج علاج کی ضرورت ہے۔

03/09/2026

🚨 محمد رضوان مشکل میں پھنس گئے! 🚨

پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد رضوان کے خلاف تادیبی الزامات کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق رضوان انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ایک مبینہ غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث رہے، جس پر PCB نے ان سے تفصیلی وضاحت اور رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات کے بعد محمد رضوان کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے؟

03/09/2026

سپورٹس جرنلسٹ نجیب الحسنین کی گفتگو 🗣️

کچھ کھلاڑی پیدائشی کپتان ہوتے ہیں اور کچھ کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کپتانی سیکھتے ہیں ، مگر بابر ان دونوں میں دیکھائی نہیں دے رہے۔

03/09/2026

🗣️ اسٹورٹ براڈ:

"مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے پاکستان کو ایک کمزور ٹیم کہا، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔

اب جبکہ میں نے انہیں دو ٹیسٹ میچز میں کھیلتے اور معاملات کو قریب سے دیکھا ہے، تو میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اصل مسئلہ انتظامیہ، سلیکشن اور بار بار کوچنگ میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔"

🏏 [Via: For the Love of Cricket]

03/09/2026

🚨 پی سی بی میں الزام تراشی کا کھیل جاری 🚨

عاقب جاوید سمیت پی سی بی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارکردگی دکھانا کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہے، ہم صرف انہیں سپورٹ اور سلیکٹ کر سکتے ہیں۔

بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین آفریدی جیسے کھلاڑی بھی انتظامیہ سے ناخوش دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب محسن نقوی جیسے بااختیار لوگ سرجریز اور تحقیقات کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود پاکستان کرکٹ مسلسل زوال کی طرف جا رہی ہے۔

آخر اصل وجہ کیا ہے؟ مسئلہ کھلاڑیوں میں ہے، کوچنگ میں، سلیکشن میں یا پھر پورے نظام میں؟

03/09/2026

🚨 محسن نقوی کا ناقدین کو جواب 🗣️

محسن نقوی نے کہا:

"جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ختم ہو چکی ہے، وہ صرف مجھے ختم کرنا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ جنوبی افریقہ نمیبیا سے ہار گیا اور بھارت آئرلینڈ سے ہار گیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کرکٹ بھی ختم ہو گئی؟

جب سے ہم نے نیا کوچنگ پینل لایا ہے، ون ڈے میں پاکستان نمبر 8 سے نمبر 5 پر آیا ہے اور 6 میں سے 4 سیریز جیتی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں ہم نمبر 9 سے نمبر 6 پر آئے ہیں۔ ہماری کامیابی کی شرح بھی 24 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد ہو گئی ہے۔"

03/09/2026

🚨 مجھے کوئی پرواہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک جواب 🗣️

محسن نقوی نے کہا:

"جو لوگ کہتے ہیں کہ میرے چیئرمین بننے کے بعد پاکستان کرکٹ تباہ ہوگئی ہے، انہیں چاہیے کہ پہلے دیکھیں کہ میرے آنے سے پہلے ٹیم کی رینکنگ کیا تھی۔"

🔥 پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو پہلے اپنی ناکامیوں پر نظر ڈالنی چاہیے۔

02/09/2026

عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف بدترین شکست کی ذمہ داری بابر اعظم پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ بابر خود بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے اور ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ بھی نہیں کر پائے، جس کا نتیجہ پاکستان کی شکست کی صورت میں نکلا۔

چلیں، ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ اس شکست کا ذمہ دار بابر اعظم ہے۔

لیکن پھر سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے پاکستان جو مسلسل شکستوں سے دوچار ہوتا رہا، ان شکستوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

کیا ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف کپتان کو قرار دینا کافی ہے؟

اگر کپتان ذمہ دار ہے تو سلیکشن کمیٹی، کوچنگ اسٹاف، ٹیم مینجمنٹ اور PCB کے فیصلوں کی ذمہ داری کون لے گا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر اعظم کو ٹیسٹ کپتان بنانے کی سفارش بھی اسی سسٹم نے کی تھی، اور اب چند ہی ہفتوں بعد اسی سسٹم میں ہونے والی ناکامیوں کا بوجھ بھی بڑی حد تک بابر کے کندھوں پر ڈال دیا جا رہا ہے۔ عاقب جاوید نے خود جولائی میں بابر کو ٹیسٹ کپتان کے لیے متفقہ انتخاب قرار دیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کسی ایک کھلاڑی یا ایک کپتان کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی۔

اگر واقعی احتساب کرنا ہے تو پھر سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

کپتان سے سوال ضرور کریں، مگر سلیکٹرز، کوچز، ٹیم مینجمنٹ اور PCB حکام سے بھی پوچھیں کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود وہ اپنی ذمہ داری کب قبول کریں گے؟

کپتان کو قربانی کا بکرا بنانا آسان ہے، لیکن اصل مسئلے کو تلاش کرنا مشکل۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Karachi
Karachi
75640