01/09/2026
Just 4 years ago Rizwan in a press conference stated that anyone who doesn’t play passionately for Pakistan deserves to get humiliated. In years following that his t20I career abruptly ended, got humiliated in Big Bash, had his ODI captaincy revoked, the oppositions continually regarded him as annoying & now has been sent home midway through a Test series. Be careful with what you wish for. Hope you never play for Pakistan ever again, Munafiq Mullah!
03/08/2026
یہ پاکستان کا سب سے پریمیم بلے باز ہے جسے کنگ بھی کہا جاتا ہے اور بہت اٹھا کر رکھا جاتا ہے، یہ ایک مہینے کے ایک کروڑ روپے سے بھی زیادہ کماتا ہے، لگژری گھر، لگژری گاڑیاں اس کا شوق ہیں اور یہ سارا پیسہ اسے کرکٹ سے ہی ملا ہے، لیکن اسی کرکٹ کے ساتھ یہ کتنا مخلص ہے، آپ اس تصویر کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس کا پیٹ چیک کریں آپ، اس کی فٹنس لیول چیک کریں، ایسے ہوتے ہیں کنگ؟ ایسے ہوتے ہیں رول ماڈل؟ ایسے ہوتے ہیں آپ کے اسپورٹس اسٹار؟ اس کی عمر ابھی اکتیس سال ہے اور اس کی ابھی بھی چھ سے سات سال کی کرکٹ باقی ہے۔ لوگ اسے دنیا کے سب سے بہترین کرکٹر ویرات کوہلی سے موازنہ کرتے ہیں اور اس کے فینز تو اسے اٹھانے کے لیے کوہلی کو بھی نیچے کر دیتے ہیں، جو انڈیا کو ان گنت میچز اپنے بل بوتے پر جتوا چکا ہے، اور اس جعلی کنگ نے آج تک پاکستان کو ایک میچ بھی اپنے بل بوتے پر نہیں جتوایا، اور اسے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے گیارہ سال ہو چکے ہیں۔
کیا کروڑ روپے مہینے کے کمانے کے بعد بھی اس کی اتنی توفیق نہیں کہ کم از کم اپنی فٹنس پر کام کر لے؟ اسے ذرا احساس نہیں کہ پورا ملک اسے دیکھتا ہے، سپورٹ کرتا ہے، کنگ کہتا ہے، پھر بھی اس کا یہ حال ہے؟ اس کی کسی نے زبان سنی ہے یا بات کرنے کا انداز دیکھا ہے، چاہے وہ گراؤنڈ میں ہو یا پھر پریس کانفرنس یا پوسٹ میچ کانفرنس میں؟ لوگ کہتے ہیں کہ انگلش کو اہمیت نہیں دینی چاہیے، اپنی زبان بولنی چاہیے جیسے دنیا کے دوسرے کھیلوں کے کھلاڑی کرتے ہیں، لیکن کیا آپ کو یقین ہے کہ بابر اعظم کو اردو بھی ٹھیک سے بولنی آتی ہے، یا پھر بولنی ہی ٹھیک سے آتی ہے؟ اتنا پیسہ کس کام کا کہ آپ اس سے اپنی شخصیت بہتر نہیں کر سکتے؟ پوری دنیا کا سامنا کرتے ہو آپ، پاکستان کی نمائندگی کرتے ہو دنیا کے سامنے، لیکن آپ کو بولنا نہیں آتا، آپ کی زبان ایسی ہے کہ جیسے کوئی جٹ جاہل بندہ بول رہا ہو؟
صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں بس۔۔۔
26/06/2026
ایک اور ہیرا ملک چھوڑ گیا—کیا پاکستان کرکٹ کا سارا ٹیلنٹ باہر چلا جائے گا؟ 🏏💔
یہ صرف ایک کھلاڑی کے پاکستان چھوڑنے کی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور ہمارے ڈومیسٹک سسٹم کے منہ پر ایک بہت بڑا طماچہ ہے! بائیں ہاتھ کے ابھرتے ہوئے اسپنر سفیان مقیم، جنہوں نے اپنی جادوئی باؤلنگ سے بہت کم وقت میں سب کو متاثر کیا، اب مایوس ہو کر پاکستان کو الوداع کہہ رہے ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے انگلینڈ منتقل ہو رہے ہیں۔
یہ تصویر صرف ایک کرکٹر کے جانے کی نہیں ہے، یہ اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر ہمارے ملک میں میرٹ، کھلاڑیوں کی قدر اور حالات بہتر نہ ہوئے، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا سارا ٹیلنٹ باہر ملکوں کی جرسیوں میں کھیلتا ہوا نظر آئے گا۔
🚨 کیوں مجبور ہو رہے ہیں ہمارے نوجوان کھلاڑی؟
مستقبل کا تحفظ نہ ہونا: ڈومیسٹک کرکٹ میں سالہا سال محنت کرنے کے باوجود کھلاڑیوں کو وہ مالی اور ذہنی سکون نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں۔
سیاست اور پسند ناپسند کا نظام: جب پرفارم کرنے والے ٹیلنٹ کو نظر انداز کر کے من پسند کھلاڑیوں کو نوازا جائے گا، تو سفیان مقیم جیسے باصلاحیت نوجوان یہی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
23/06/2026
وومن ٹیم کپتان فاطمہ ثناء اور وہاب ریاض کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوگئی
سفارشی وہاب ریاض اور ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کے درمیان بنگلہ دیش سے شکست کے بعد ڈریسنگ روم میں آپس تلخ کلامی ہوئی جس کو کیمرے نے بھی دیکھایا اس کی اصل وجہ یہ بتائی جاری ہے کہ کپتان فاطمہ ثنا نے عالیہ ریاض جو میچ سے ایک دن قبل اپنے شوہر وقار یونس کے چھوٹے بھائی علی یونس کیساتھ گھومنے گئی تھی اور نیٹ پریکٹس میں حصہ نہیں لیا تھا فاطمہ ثنا نے کہا جو لڑکی پریکٹس میں نہیں ہے وہ ٹیم میں بھی نہیں ہوگی بنگلہ دیش کے خلاف عالیہ مجھے نہیں چاہئے لیکن سفارشی وہاب ریاض نے زبردستی عالیہ ریاض کو ٹیم میں شامل کیا اور پھر جب وہ صفر پر آؤٹ ہوئی تو کپتان فاطمہ ثنا نے وہاب ریاض کو منہ پر کہا یہ شکست صرف آپ کی وجہ سے ہوئی ہے جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی پی سی بی نے اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے
#
02/06/2026
پاکستان کرکٹ ٹیم کی تباہی کا خلاصہ اس تصویر میں
ٹیلنٹ بینچ پر
سفارشی ٹیم میں
24/05/2026
ٹریوس ہیڈ کے بیان نے ویرات کوہلی اور کوہلی کے سوشل میڈیا کے بچوں کے اندر اگ لگا دی ہے۔
ٹریوس ہیڈ سے میچ کے بعد پوچھا گیا کہ میچ کے دوران ایسا کیا ہوا کہ میچ کے بعد ویرات کوہلی نے اپ کے ساتھ ہاتھ ہی نہیں ملایا
تو ٹریورس ہیڈ کہتے ہیں کہ بڑا پلیئر وہ نہیں ہوتا جو کسی کو عزت نہیں دے سکتا بلکہ بڑا پلیئر وہ ہوتا ہے جو کرکٹ کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عزت کا بھی خیال رکھیں جو کہ ویرات کوہلی نے نہیں رکھا
ٹریورس ہیڈ کہتے ہیں کہ جب میں اؤٹ ہوا تھا تو ویرات کوہلی نے بہت اوور ایکٹنگ والی سیلیبریشن کی تھی جو کہ میں نے برداشت کی لیکن جب ویرات کوہلی اؤٹ ہوا تو جب میں نے سیلیبریشن کی تو ویرات کوہلی سے برداشت نہیں ہوئی
حالانکہ اگر دیکھا جائے تو سیلیبریشن سب سے زیادہ ویرات کوہلی کرتا ہے جس کا ہم نے کبھی برا نہیں مانا کیونکہ یہ گیم کا حصہ ہے لیکن پھر یہ تو وہی بچوں والی بات ہو گئی کہ جب یہ سیلیبریشن کریں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن جب ہم کریں تو اس کا رونا دھونا شروع ہو جاتا ہے
مزید ٹریورس ہیڈ کہتے ہیں کہ میں بس اخر میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اپ جو بھی کام کرتے ہیں وہ کرنے سے پہلے بس اتنا سوچ لیا کریں کہ اگر کوئی اور یہ کام کرے گا تو کیا اپ برداشت کر پائیں گے💯
22/05/2026
پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ون ڈے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو بنایا گیا ہے، حالانکہ موجودہ فارم اور فٹنس کو دیکھتے ہوئے ان کی کسی بھی ٹیم میں جگہ بنتی نظر نہیں آتی۔ نہ ان سے پہلے جیسی بولنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ مکمل فٹ دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ اپنی انجری چھپا چھپا کر مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
حارث رؤف کو اتنے میچز ہروانے کے باوجود ہر بار کسی نہ کسی فارمیٹ میں ٹیم میں شامل رکھا جاتا ہے۔ شاداب خان نے اپنا آخری ون ڈے میچ 2023 کی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلا تھا، اس کے بعد وہ زیادہ تر انجری کا شکار رہے، لیگز کھیلتے رہے، اور لسٹ اے کرکٹ کا بھی آخری میچ 2024 میں کھیلا۔ نہ کوئی خاص پرفارمنس، نہ بہتری، لیکن پھر بھی وہ ہر بار یا ون ڈے یا ٹی20 ٹیم میں شامل ہو جاتے ہیں، جبکہ سینٹرل کنٹریکٹ میں بھی ہمیشہ اوپر رہتے ہیں۔
عرفات منہاس کو شامل کیا گیا جو اچھی بات ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ صرف بینچ پر ہی بیٹھیں گے کیونکہ شاداب خان کو پلیئنگ الیون سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ عبدالصمد، معاذ صداقت اور شامل حسین جیسے کھلاڑیوں نے ٹی20 میں اچھی پرفارمنس دی، لیکن انہیں ون ڈے فارمیٹ میں ڈال دیا گیا، جبکہ ایک مناسب مڈل آرڈر بیٹر کامران غلام، جس کی کارکردگی بھی اچھی تھی، اسے ٹیم سے دور رکھا گیا۔
غازی غوری نے آخر ایسا کیا کر دیا کہ اب وہ ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں ٹیموں میں مستقل نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف حسیب اللہ خان، جو کئی سالوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے، اتنی اچھی پرفارمنس کے باوجود اب بھی ٹیم سے باہر ہے۔ فیصل اکرم کو پچھلی سیریز میں ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن ایک بھی میچ نہیں کھلایا گیا، اور اب وہ دوبارہ باہر ہیں۔
محمد رضوان، جو پچھلے سال سے ون ڈے میں سلمان آغا کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں دوسرے نمبر پر ہیں، انہیں ٹیم سے ڈراپ کر کے روحیل نذیر کو شامل کر لیا گیا، جبکہ ورلڈ کپ اتنا قریب ہے اور اب بھی نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔
نسیم شاہ نے اپنی بولنگ سے کبھی کوئی بہت بڑی پرفارمنس نہیں دی، لیکن نہ جانے ایسی کیا بات ہے کہ ہر فارمیٹ میں ان کی جگہ لازمی بن جاتی ہے۔ حالانکہ وہ پی ایس ایل میں بھی ان فٹ تھے، اور اب بھی واضح نہیں کہ مکمل فٹ ہیں یا نہیں، پھر بھی ٹیم میں شامل ہیں۔
عاکف جاوید، جو ون ڈے میں آپ کے ٹاپ پرفارمرز میں شامل تھا، اس کے ساتھ پھر زیادتی کی گئی اور اسے دوبارہ ٹیم سے دور رکھا گیا۔ وسیم جونیئر، جو پچھلی سیریز میں 145 سے 146 کی رفتار سے بولنگ کر رہا تھا، اب ٹیم سے باہر ہے۔ شاید آپ یہی 127، 128 کی اسپیڈ والے بولرز ڈیزرو کرتے ہیں۔
عاقب جاوید نے پاکستان کرکٹ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، لیکن مجال ہے کوئی اسے ہٹا دے۔ اتنے غلط فیصلے کیے جا رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اور شاباش ہے محسن نقوی صاحب کو، جو خود ہر وقت مصروف رہتے ہیں اور سارا نظام عاقب جاوید کے حوالے کر دیا ہے، جس نے پاکستان کرکٹ کو مکمل تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔
پاکستانی عوام کا کرکٹ سے دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے، اور بہت جلد کرکٹ کا بھی وہی حال ہو گا جو ہاکی کا کیا گیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حال ہو ہی چکا ہے، کیونکہ اب اگر پاکستان امریکہ، زمبابوے یا بنگلہ دیش جیسی ٹیموں کے خلاف بھی کھیل رہا ہو تو عوام کو یقین نہیں ہوتا کہ ٹیم میچ جیت بھی پائے گی یا نہیں۔
اب صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
20/05/2026
بابر اعظم پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے واحد
ناکام ترین کپتان بن گئے، جسکو سب سے زیادہ
میگا ایونٹ میں فراہم کیے گئے لیکن اب
تک بابر اپنی کپتانی میں کوئی ٹائٹل نہیں جتوا
سکا۔
بابر اعظم بطور کپتان
👈ٹی 20 ورلڈ کپ 2021❌
👈ٹی 20 ورلڈ کپ 2022❌
👈ٹی 20 ورلڈ کپ 2024❌
👈ایشیاء کپ 2022❌
👈ایشیاء کپ 2023❌
👈پچاس اوور ورلڈ کپ 2023❌
👈آئی سی سی ٹیسٹ چمپئن شپ 2023❌
اور اسکے علاوہ پی ایس ایل میں بطور کپتان
👈پی ایس ایل 6❌
👈پی ایس ایل 7❌
👈پی ایس ایل 8❌
👈پی ایس ایل 9❌
👈پی ایس ایل 10 ❌
20/05/2026
گیم اویرنس کا فقدان
کل چوتھے دن کے اختتام پر ٹیل اینڈرز کے ساتھ بیٹنگ کرنے کے آرٹ پر بات کی تھی۔ آج بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہونے کے بعد گیم اویرنس کے معاملے کو سمجھنا ضروری ہے۔ انضمام الحق نے 23 سال قبل ملتان میں 262 چیز کرتے ہوتے 138 ناٹ آوٹ کی میچ وننگ اننگز کھیلی تھی۔
انضمام اوور کی 5 یا 6 گیندیں خود کھیلتے اور کوئی اکا دکا ٹیل اینڈرز کو کھیلنے دیتے۔ آصف اقبال، جاوید میانداد اور اسٹیو واہ بھی ایسی کئی شاندار اننگز کھیل چکے۔ حالیہ دور میں بین سٹوکس نے بھی ٹیل کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایسا ہی کر کے دکھایا۔
مگر یہاں گیم اویرنس کی کمی ہے۔ رضوان 92 پر کھیل رہے تھے۔ پاکستان کو 80 رنز درکار تھے۔ ناہد کے 92 ویں اوور کی آخری گیند پر 2 رنز لے کر ساجد کو سٹرائیک دے دیی اور خود کا اسکور 94 پر پہنچا دیا۔ ساجد کوئی مستند بیٹسمین تھوڑی ہے۔ تاجی جو پیلے ہی 4 وکٹ لے چکا تھا، اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
اسے معلوم تھا اب میرے پاس موقع ہے ساجد کو سیٹ اپ کرنے کا اور وہی ہوا۔ ساجد کے آوٹ ہوتے ہی رضوان خود بھی آوٹ ہوگئے یوں پاکستان 78 رنز سے ہار گیا۔
اگر رضوان ناہد کی آخری گیند پر گیم اویرنس استعمال کرتے ہوئے سنگل لیتے تو معاملہ مختلف ہو سکتا تھا۔ پورا دن پڑا تھا بیٹنگ کرنے کے لئیے۔ یہی گیم ایورنس انضمام، اسٹیو واہ اور بین اسٹوکس جیسے کھلاڑیوں کو عظیم بناتی ہے۔
افسوس، پاکستان کرکٹ کی عظمت کے یہ قصے آگے بھی اب تاریخ میں ہی ملتے نظر آرہے ہیں اگر ابھی بھی پرسنل مائل سٹون والے خمار سے نہ نکلا گیا تو!