21/05/2026
کے پی ہاکی ایسوسی ایشن نے قومی ہاکی ٹیم میں منتخب ہونے والے خیبر پختونخوا کے چار کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کی ہے، جو بیلجیئم میں ہونے والے ایف آئی ایچ پرو لیگ ہاکی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
منتخب کھلاڑیوں میں ندیم، سفیان، افراز اور ذکریا شامل ہیں۔ ان میں سے ندیم، سفیان اور افراز نے گزشتہ ماہ منعقد ہونے والے تیسرے چیف آف آرمی سٹاف ہاکی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، جہاں وہ سول کوارٹر کلب کی جانب سے کھیل رہے تھے۔
جبکہ مردان سے تعلق رکھنے والے ذکریا نے مردان ریڈ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں جگہ بنائی۔
کے پی ہاکی ایسوسی ایشن کے مطابق ان کھلاڑیوں کا انتخاب خیبر پختونخوا میں موجود بے پناہ ہاکی ٹیلنٹ کا واضح ثبوت ہے۔
مزید برآں مختلف صوبائی و ضلعی ہاکی ایسوسی ایشنز کے صدور، کابینہ اراکین اور کانگریس ممبران نے بھی ان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کھلاڑی بیلجیئم میں ہونے والے مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھا کر پاکستان اور صوبے کا نام روشن کریں گے۔
05/05/2026
*"پاکستان ہاکی میں اندرون سندھ کے کھلاڑی اقرباوری کے ساتھ"*
* پاکستان ہاکیڈریشن کی سلکمیٹی جہاں بھی گئی اندھیر مچایا اور انہونی پر پاکستان کا قومی کھیل ہاکی پہلے ہی تباہی سے دوچار رہی سہی نظری سلیکشن کمیٹی کے میچ، میچ کے فیصلوں سے پوری ہو گئی اور کھلاڑیوں کو حق تلفی ہوئی اور ہر طرف سے ظلم کیا گیا۔ ۔ کم از کم اس کمیٹی میں شامل سلیکٹرز ماضی میں سندھ کے کھلاڑی بھی مستقبل کے دشمن تھے اور آج بھی حیدر حسین کے ساتھ مل کر سندھ کے کھلاڑی اقربا پروری کر رہے ہیں۔*
*سلامکمیٹی کی بدنیتی صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے اور صرف حیدر حسین چاہنے والے کو چن کر تماشہ بنایا ہے اور تماشہ کر رہے ہیں۔ سندھی ہونا جرم ہے؟
Mohsin Naqvi PHF Hockey Pakistan Hockey Federation Falak Zaman KP Hockey Lover Arbaz Ayaz Saad Shafique Hockey Updates Pakistan Hockey Federation Hayat Khan@
04/05/2026
گوشت کھلاؤ کیمپ میں اؤ
Mohsin Naqvi Pakistan Hockey Federation KP Hockey Lover Pakistan Hockey Federation Falak Zaman
03/05/2026
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی دنبہ کڑاہی سلیکشن کمیٹی ۔
یہ بات سامنے آئی ہے کہ پشاور میں سلیکشن کمیٹی کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ اور جانبدارانہ تھا۔ میرٹ کو نظر انداز کیا گیا اور فیصلے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیے گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ باصلاحیت کھلاڑی خیبرپختونخوا، خصوصاً پشاور، بنوں اور مردان سے آئے۔ ان علاقوں کے کئی ٹیلنٹڈ پلیئرز پہلے بھی جونیئر اور سینیئر کیمپوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔ بنوں کے متعدد کھلاڑی، مردان کے ایمل اور ابراہیم، جبکہ پشاور کے دانیال، عمر اور احسان جیسے پلیئرز باقاعدہ کیمپوں میں شامل رہے ہیں اور اپنی صلاحیت ثابت کر چکے ہیں۔
اس کے باوجود سلیکشن کمیٹی نے حیران کن طور پر صرف دو کھلاڑیوں کو منتخب کیا، جن میں یاسر علی بھی شامل ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یاسر علی کی عمر تقریباً 29 سال ہے اور وہ واپڈا میں اسسٹنٹ لائن مین کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس کھلاڑی کو ماضی میں کسی بھی قومی یا صوبائی کیمپ میں کبھی شامل نہیں کیا گیا، وہ اچانک 29 سال کی عمر میں پاکستان کیمپ تک کیسے پہنچ گیا؟
عام طور پر قومی سطح کے کھلاڑی 30 سال کی عمر تک پہنچ
Pakistan Hockey Federation sports lover PHF Pak Hockey Mohsin Naqvi Muhammad Shafique Bhatti Muhammad Shafique Bhatti KP Hockey Lover Pakistan Hockey Federation PHF Hockey Falak Zaman Malak Wadan sports lover Arbaz Ayaz Yasir Ali Khalil Abubaker Tariq Hassan Hassan Muthu Hockey Muthu Hockey Yasir Ali Khalil Abhishek Gautam Faizan Marwat Shah Faisal Ali Hockey Asadsami Sami Najeeb Ullah Pakistan Hockey Federation
03/05/2026
"تمام وہ اولمپین جو ہاکی ٹرائل کے لیے پشاور آئے تھے اور غلط سلیکشن کیا تھا اور ان کے ساتھ پشاور کے جو لوگ ملے ہوئے تھے ان سب کی ریئلٹی اور ثبوت آج شام تک منظرِ عام پر آ جائے گا سوشل میڈیا پر!"