28/09/2026
ویرات کوہلی ابھی تک ون ڈے کرکٹ کیوں کھیل رہے ہیں؟
حالانکہ وہ 2011 کی ورلڈ چیمپئن بھارتی ٹیم کا حصہ
رہ چکے ہیں،
ورلڈ کپ جیت چکے ہیں
ٹیسٹ اور T20I سے ریٹائرمنٹ بھی لے چکے ہیں۔
میرے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ویرات ون ڈے کرکٹ کو واقعی انجوائے کرتے ہیں۔
وہ صرف بیٹنگ نہیں کرتے، چیز ماسٹر ہیں۔ ہدف کا تعاقب ہو، دباؤ ہو، مطلوبہ رن ریٹ بڑھ رہا ہو یا وکٹیں گر رہی ہوں—ایسے حالات میں ان کا دماغ جیسے مزید تیزی سے کام کرتا ہے۔
وہ چیلنج کو انجوائے کرتے ہیں، رن ریٹ کو پڑھتے ہیں، کبھی رفتار کم کرتے ہیں، کبھی اچانک گیئر بدل دیتے ہیں اور پھر مناسب وقت پر گیم کو اپنے کنٹرول میں لے آتے ہیں۔
شاید یہی ون ڈے کرکٹ کی اصل خوبصورتی بھی ہے۔
یہ نہ ٹیسٹ کی طرح اتنی لمبی ہے کہ ایک غلطی کے بعد واپسی کے لیے پورا دن مل جائے، اور نہ T20 کی طرح اتنی مختصر کہ ہر گیند پر صرف جارحیت ہی ضروری ہو۔
یہاں وقت بھی ہے، دباؤ بھی ہے، منصوبہ بندی بھی ہے اور رفتار بدلنے کی گنجائش بھی۔
بیٹسمین کو 50 اوورز کی کہانی سمجھنی ہوتی ہے، بولر کو مختلف مراحل میں اپنا انداز بدلنا ہوتا ہے اور کپتان کو پورے میچ کی منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے۔
اسی لیے مجھے ذاتی طور پر بھی ٹیسٹ اور T20 کے مقابلے میں ون ڈے کرکٹ زیادہ پسند ہے۔
میرے لیے ون ڈے وہ فارمیٹ ہے جہاں
بیٹسمین کی تکنیک، بولر کی سمجھ اور کپتان کی حکمتِ عملی—تینوں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔
اور شاید اسی لیے ویرات کوہلی جیسے کھلاڑی کے لیے بھی 50 اوورز کی کرکٹ اب تک خاص ہے۔ 🏏