14/07/2026
آج ہی کے دن 2019 میں کرکٹ کی تاریخ کا وہ ورلڈ کپ فائنل کھیلا گیا جسے دیکھنے والے شاید ہی کبھی بھول سکیں۔
لارڈز کے تاریخی میدان میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ 2019 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں آمنے سامنے آئے، جہاں شائقین کو کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز ترین مقابلوں میں سے ایک دیکھنے کو ملا۔ دونوں ٹیموں نے اپنے مقررہ 50 اوورز میں ایک ہی اسکور بنایا، جس کے بعد فیصلہ سپر اوور پر پہنچا۔ حیرت انگیز طور پر سپر اوور بھی برابر رہا اور دونوں ٹیمیں دوبارہ ایک ہی اسکور پر ختم ہوئیں۔
چونکہ کوئی واضح فاتح سامنے نہ آ سکا، اس لیے اُس وقت رائج باؤنڈری کاؤنٹ بیک رول کے تحت نتیجہ نکالا گیا۔ پورے میچ کے دوران انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے مقابلے میں زیادہ چوکے اور چھکے لگائے تھے، اسی بنیاد پر انگلینڈ کو پہلی مرتبہ ورلڈ چیمپئن قرار دیا گیا، جبکہ نیوزی لینڈ انتہائی قریب آ کر بھی ٹرافی اپنے نام نہ کر سکا۔
بین اسٹوکس نے انگلینڈ کی جانب سے یادگار اننگز کھیلی۔ نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے اسٹوکس نے انگلینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے 98 گیندوں پر ناقابلِ شکست 84 رنز بنائے اور مسلسل گرنے والی وکٹوں کے باوجود اپنی ٹیم کی امیدیں زندہ رکھیں۔ دباؤ کے عالم میں ان کی پُرسکون بیٹنگ نے انگلینڈ کو ہدف کے تعاقب میں برقرار رکھا۔
جوس بٹلر کے ساتھ ان کی اہم شراکت نے انگلینڈ کی پوزیشن مضبوط کی اور میچ کو آخری لمحات تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسٹوکس نے فیلڈنگ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایک شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
یہ فائنل صرف اعلیٰ معیار کی کرکٹ کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنے ناقابلِ یقین اختتام کے باعث بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ برابر ہونے والا میچ، برابر رہنے والا سپر اوور، اور پھر باؤنڈری کاؤنٹ بیک رول کے ذریعے فاتح کا فیصلہ—یہ سب اس مقابلے کو کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں شامل کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقابلہ تھا جس نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی فتح اور شکست کے درمیان فرق صرف معمولی سے لمحوں کا ہوتا ہے۔
14/07/2026
آج ہشان تلکارتنے اپنی 59ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اور یہ موقع سری لنکا کے سب سے قابلِ اعتماد بلے بازوں میں سے ایک کے شاندار کیریئر کو یاد کرنے کا بہترین وقت ہے۔
1990 کی دہائی اور 2000 کی ابتدائی برسوں میں ہشان تلکارتنے سری لنکا کی مڈل آرڈر بیٹنگ کی مضبوط ترین کڑی بن گئے تھے۔ وہ جارحانہ انداز کے بجائے صبر، تحمل اور مضبوط تکنیک کے لیے مشہور تھے۔ جب بھی ٹیم مشکل میں ہوتی، وہ لمبی اور ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھال لیتے۔ 1997 کے قریب ایک وقت ایسا بھی آیا جب سری لنکا کے بلے بازوں میں ان کا ٹیسٹ بیٹنگ اوسط سب سے زیادہ تھا۔
انہوں نے سری لنکا کی تاریخی 1996 ورلڈ کپ فتح میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ زیادہ شہرت دوسرے کھلاڑیوں کو ملی، لیکن تلکارتنے کی پُرسکون مزاجی اور مسلسل اچھی کارکردگی نے ٹیم کو وہ استحکام فراہم کیا جو کسی بھی چیمپئن ٹیم کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
ان کے کیریئر میں کئی یادگار سنگِ میل شامل ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سنچری بنانے والے پہلے سری لنکن بلے باز تھے، پرتھ کے مشکل واکا گراؤنڈ پر ٹیسٹ سنچری بنانے والے اب تک واحد سری لنکن ہیں، جبکہ 1995 میں شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف نمبر 7 یا اس سے نچلے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کی پہلی سنچری بنانے کا اعزاز بھی انہی کے نام ہے۔
ان کی ایک منفرد خوبی یہ بھی تھی کہ وہ دونوں ہاتھوں سے گیند بازی کر سکتے تھے، جو بین الاقوامی کرکٹ میں نہایت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اپنے ابتدائی کیریئر میں وہ وکٹ کیپنگ بھی کرتے رہے، لیکن بعد میں ایک قابلِ اعتماد اسپیشلسٹ بلے باز کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔
ہشان تلکارتنے شاید ہمیشہ خبروں کی سرخیوں میں نہ رہے ہوں، لیکن ان کا صبر، ثابت قدمی اور ٹیم کے لیے مشکل حالات میں ڈٹ کر کھیلنے کا جذبہ انہیں سری لنکا کے اہم ترین کرکٹرز میں شمار کراتا ہے۔ ان کی خدمات آج بھی سری لنکا کی کرکٹ تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہیں۔
ہشان تلکارتنے کو 59ویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو! 🎉🏏
14/07/2026
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 2002 کی ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ یکم سے 3 مئی تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں پاکستان نے شاندار اور یکطرفہ کھیل پیش کرتے ہوئے ایک اننگز اور 324 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 643 رنز بنائے، جس میں انضمام الحق نے ناقابلِ شکست 329 رنز کی یادگار ٹرپل سنچری اسکور کی، جبکہ عمران نذیر نے 127 رنز کی بہترین اننگز کھیلی۔ جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 73 اور فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں 246 رنز بنا سکی۔ پاکستان کے تیز رفتار بولر شعیب اختر نے پہلی اننگز میں تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 11 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ انضمام الحق کو اپنی تاریخی ٹرپل سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
13/07/2026
فاف ڈو پلیسی نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کی بنیاد تحمل، مستقل مزاجی اور دباؤ کے لمحات میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت پر رکھی۔ وہ ایک نفیس اور باوقار بلے باز تھے، جو جارحانہ انداز میں تیز رفتاری سے رنز بنانے کے ساتھ ساتھ طویل اننگز کھیلنے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ جیکس کیلس کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جنوبی افریقہ کے سب سے قابلِ اعتماد بلے بازوں میں شمار ہونے لگے۔
اپنے بین الاقوامی کیریئر کے دوران فاف ڈو پلیسی نے تینوں فارمیٹس میں 10 ہزار سے زائد رنز بنائے، جن میں 23 سنچریاں شامل ہیں۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں وہ تیزی سے اسکور بورڈ کو متحرک رکھنے کے لیے مشہور تھے، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی صبر آزما بیٹنگ اور طویل وقت تک وکٹ پر ڈٹے رہنے کی صلاحیت انہیں منفرد بناتی تھی۔
ان کی انہی خوبیوں کی بہترین مثال 2012 میں ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں کھیلی گئی ناقابلِ شکست 110 رنز کی تاریخی اننگز تھی۔ انہوں نے سات گھنٹے تیس منٹ سے زائد کریز پر گزارے، 376 گیندوں کا سامنا کیا اور جنوبی افریقہ کو ایک ناممکن دکھائی دینے والا میچ ڈرا کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی اننگز بعد میں اس سیریز کا اہم موڑ ثابت ہوئی، کیونکہ جنوبی افریقہ نے پرتھ ٹیسٹ جیت کر سیریز اپنے نام کر لی۔
آج فاف ڈو پلیسی اپنی 42ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اور یہ موقع جنوبی افریقہ کی جدید دور کی کرکٹ کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک کے شاندار کیریئر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین وقت ہے۔
سالگرہ مبارک، فاف ڈو پلیسی!
13/07/2026
آج ہی کے دن (2009) فواد عالم نے سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر شاندار 168 رنز بنا کر ٹیسٹ کیریئر کا آغاز سنچری سے کیا۔ وہ ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری بنانے والے پاکستان کے دسویں بلے باز بنے۔
اسی روز سری لنکا نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں شکست دے کر دو میچوں کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کر لی۔ یہ کامیابی صرف سیریز جیتنے تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ اسپنر رنگنا ہیراتھ کے کیریئر کا بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جنہوں نے زخمی مُتھیا مرلی دھرن کی عدم موجودگی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دوسرے ٹیسٹ کا آغاز سری لنکا کے لیے شاندار رہا، جب اس نے پاکستان کو پہلی اننگز میں صرف 90 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ تاہم سری لنکن ٹیم اس برتری سے مکمل فائدہ نہ اٹھا سکی۔ 133 رنز پر صرف دو وکٹیں گرنے کے بعد اس کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم 240 رنز پر آؤٹ ہوگئی، جس سے مقابلہ دوبارہ متوازن ہو گیا۔
پاکستان نے دوسری اننگز میں زبردست واپسی کی۔ فواد عالم نے 168 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ یونس خان نے 82 رنز بنائے۔ دونوں نے دوسری وکٹ کے لیے اہم شراکت قائم کرتے ہوئے پاکستان کو 285/1 تک پہنچا دیا، جہاں اسے 135 رنز کی برتری حاصل تھی اور صرف ایک وکٹ گری تھی۔
لیکن اس کے بعد میچ کا رخ یکسر بدل گیا۔
سری لنکا کے بولرز نے غیرمعمولی کم بیک کرتے ہوئے پاکستان کی باقی 9 وکٹیں صرف 35 رنز کے اندر حاصل کر لیں۔ رنگنا ہیراتھ نے 5 جبکہ نووان کولا سیکارا نے 4 وکٹیں حاصل کیں، اور پاکستان کی پوری ٹیم 320 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا نے پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ اسکور حاصل کر لیا اور نہ صرف دوسرا ٹیسٹ بلکہ پوری سیریز بھی 2-0 سے جیت لی۔
فواد عالم کو ان کی شاندار سنچری پر نووان کولا سیکارا کے ساتھ مشترکہ طور پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ کولا سیکارا نے میچ میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کیں اور 17 وکٹیں (اوسط 15.05) کے ساتھ سیریز کے کامیاب ترین بولر رہے، جبکہ رنگنا ہیراتھ نے 15 وکٹیں (اوسط 26.93) اپنے نام کیں۔
سری لنکا کے لیے یہ ایک یادگار سیریز ثابت ہوئی۔ مرلی دھرن کی غیر موجودگی میں رنگنا ہیراتھ نے ذمہ داری سنبھالی اور ایسی کارکردگی دکھائی جس نے انہیں آنے والے برسوں میں سری لنکا کی ٹیسٹ ٹیم کے قابلِ اعتماد اسپنر کے طور پر مضبوط مقام دلایا۔
13/07/2026
لیری گومز (Larry Gomes)، جن کا پورا نام ہلیری اینجلو گومز تھا، ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بائیں ہاتھ کے بلے باز تھے، جو 13 جولائی 1953 کو ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1976 سے 1987 تک ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 60 ٹیسٹ میچوں میں 3,171 رنز 39.63 کی اوسط سے بنائے، جن میں 9 سنچریاں اور 13 نصف سنچریاں شامل تھیں، جبکہ 83 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 1,415 رنز اسکور کرنے کے ساتھ 41 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ وہ 1979 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ویسٹ انڈین ٹیم کا اہم حصہ تھے اور 1983 کے ورلڈ کپ میں بھی فائنل کھیلنے والی ٹیم میں شامل رہے۔ 1984 میں انگلینڈ کے تاریخی دورے پر ان کی شاندار بیٹنگ نے ویسٹ انڈیز کی 5-0 سے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں انہیں 1985 میں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اپنی تکنیکی مہارت، مستقل مزاجی اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت لیری گومز کو ویسٹ انڈیز کے سنہری دور کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
13/07/2026
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 2007 کی ون ڈے سیریز کا تیسرا میچ 23 اکتوبر کو اقبال اسٹیڈیم، فیصل آباد میں کھیلا گیا۔ جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 197 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی اور افتخار انجم نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عمر گل نے 2 اور عبدالرحمٰن نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ جواب میں پاکستان نے 202 رنز بنا کر 6 وکٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ محمد یوسف نے ناقابلِ شکست 58 رنز کی بہترین اننگز کھیلی، جبکہ شعیب ملک نے 42، شاہد آفریدی نے 32 اور مصباح الحق نے ناقابلِ شکست 29 رنز بنا کر فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت شاہد آفریدی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
12/07/2026
انگلینڈ کے سابق بائیں ہاتھ کے تیز رفتار باؤلر ایلن ملالی کو 57ویں سالگرہ مبارک۔
انگلینڈ میں پیدا ہونے والے لیکن آسٹریلیا میں پرورش پانے والے ایلن ملالی نے ابتدا میں آسٹریلیا کی انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی کی، تاہم بعد میں اپنے آبائی ملک انگلینڈ کی قومی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ وہ اپنی درست لائن و لینتھ، گیند کو سوئنگ کرانے کی صلاحیت اور بائیں ہاتھ کے قدرتی زاویے کے مؤثر استعمال کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے 19 ٹیسٹ میچوں میں 58 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 1998-99 کی ایشز سیریز میں 105 رنز دے کر 5 وکٹیں ان کی بہترین ٹیسٹ کارکردگی رہی۔
ون ڈے کرکٹ میں بھی انہوں نے 50 میچوں میں 63 وکٹیں حاصل کیں، بہترین باؤلنگ 18 رنز کے عوض 4 وکٹیں رہی، اور ایک وقت میں آئی سی سی ون ڈے باؤلنگ رینکنگ میں تیسرے نمبر تک پہنچے۔ اگرچہ وہ بیٹنگ کے لیے مشہور نہیں تھے، لیکن 1998 میں آسٹریلیا کے خلاف ان کی قیمتی 16 رنز کی اننگز نے انگلینڈ کی یادگار فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
12/07/2026
سنجے مانجریکر کو 61ویں سالگرہ مبارک! سابق بھارتی بلے باز اور موجودہ کرکٹ کمنٹیٹر سنجے مانجریکر ایک معروف کرکٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد، وجے مانجریکر، 1950 اور 1960 کی دہائی میں بھارت کے صفِ اول کے بلے بازوں میں شمار ہوتے تھے، اسی لیے کرکٹ سنجے کی پرورش کا اہم حصہ رہی۔
بھارتی ٹیم میں شمولیت کے بعد سنجے مانجریکر کو ملک کے روشن مستقبل والے بلے بازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کے پاس مضبوط تکنیک اور طویل اننگز کھیلنے کا غیرمعمولی حوصلہ تھا، جس کا بہترین مظاہرہ انہوں نے 1992-93 میں ہرارے میں زمبابوے کے خلاف 104 رنز کی اننگز کھیل کر کیا، جو تقریباً نو گھنٹے جاری رہی۔
انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 37 میچز کھیلتے ہوئے 2,043 رنز 37.14 کی اوسط سے بنائے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار ان سے وابستہ ابتدائی توقعات کے مطابق نہ تھے، لیکن انہوں نے کئی یادگار اننگز بھی کھیلیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنجے مانجریکر نے بیرونِ ملک زیادہ کامیابی حاصل کی۔ ان کی چاروں ٹیسٹ سنچریاں غیرملکی میدانوں میں آئیں، جبکہ ان کے مجموعی ٹیسٹ رنز کا 75 فیصد بھی بیرونِ ملک ہی بنا۔ پاکستان میں ان کی کارکردگی خاص طور پر شاندار رہی، جہاں 94.83 کی ٹیسٹ اوسط آج بھی کسی بھی بھارتی بلے باز کی سب سے بلند اوسط ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد سنجے مانجریکر نے کمنٹری کے شعبے میں قدم رکھا اور آج وہ کرکٹ کی دنیا کی معروف اور پہچانی جانے والی آوازوں میں شمار ہوتے ہیں۔
12/07/2026
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 2005 کی تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 29 نومبر سے 3 دسمبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا۔ پاکستان نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو ایک اننگز اور 100 رنز سے شکست دے کر سیریز 0-2 سے اپنے نام کر لی۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 288 رنز بنائے، جس کے جواب میں پاکستان نے 8 وکٹوں پر 636 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کر دی۔ محمد یوسف نے یادگار 223 رنز اور کامران اکمل نے 154 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں۔ انگلینڈ دوسری اننگز میں 248 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا۔ شعیب اختر اور دانش کنیریا نے 5، 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ شعیب ملک نے پہلی اننگز میں 3 اہم وکٹیں لے کر کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ محمد یوسف کو ڈبل سنچری پر پلیئر آف دی میچ جبکہ انضمام الحق کو پوری سیریز میں شاندار کارکردگی پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔