29/08/2026
ان سے ملیے، یہ ہیں امام الحق۔۔۔!
موصوف سے بیٹنگ ہوتی نہیں، باؤلنگ انہیں آتی نہیں، اور فیلڈنگ کے دوران سلپ پر کالا چشمہ پہن کر کھڑے ہونا شاید ان کا سب سے نمایاں ہنر ہے۔ لیکن جب میچ کے دوران ٹیم کو ان کی بلے بازی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو جناب بیٹنگ کے لیے میدان میں ہی نہیں آئے، کیونکہ انہیں سٹرین انجری کا سامنا تھا۔
سٹرین انجری۔۔۔! 😒
شاید امام الحق نے کرکٹ کی تاریخ نہیں پڑھی، شاید انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ تاریخ ہمیشہ بہادروں کو یاد رکھتی ہے۔ تاریخ میں جگہ صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو کسی غیر معمولی لمحے میں، اپنی تکلیف اور اپنے خوف پر قابو پا کر کچھ ایسا کر جاتے ہیں جسے لوگ برسوں یاد رکھتے ہیں۔
کرس ووکس کو ہی دیکھ لیجیے۔
بازو کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی، درد ناقابلِ برداشت تھا، ہاتھ عملی طور پر کام نہیں کر رہا تھا، لیکن جب ٹیم کو ان کی ضرورت پڑی تو وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں آ گئے۔ شاید وہ جانتے تھے کہ ایک ہی گیند پر ان کی اننگز ختم ہو سکتی ہے، شاید وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ اپنی ٹیم کو جیت نہ دلا سکیں، لیکن انہوں نے ایک بات سمجھ لی تھی کہ
جب ٹیم مشکل میں ہو تو اپنے جسم سے پہلے اپنی ذمہ داری دیکھی جاتی ہے۔
اور پھر لیجنڈ گریم اسمتھ۔۔۔!
جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور وہ شدید تکلیف میں تھے۔ آخری دن جنوبی افریقہ کو میچ ڈرا کرنے کے لیے صرف چند اوورز گزارنے تھے۔ جب نو وکٹیں گر گئیں تو اسمتھ ڈریسنگ روم سے نکل کر میدان میں آ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ میدان میں گئے تو ٹوٹے ہوئے ہاتھ پر دوبارہ گیند لگ سکتی ہے، درد ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے، شاید انجری مزید سنگین ہو جائے۔
مگر وہ پھر بھی میدان میں آ گئے۔
وہ تقریباً 26 منٹ تک کریز پر ڈٹے رہے، لیکن میچ ختم ہونے سے صرف 10 گیندیں پہلے آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ میچ ہار گیا،
وہ اس لیے نہیں آئے تھے کہ سنچری بنانی تھی، ریکارڈ بنانا تھا یا ہیرو بننا تھا۔ وہ صرف اس لیے آئے تھے کیونکہ ان کی ٹیم کو ان کی ضرورت تھی۔
وہ درد کے ساتھ کریز پر کھڑے رہے اور آخر تک لڑتے رہے۔ میچ جنوبی افریقہ ہار گیا، لیکن گریم اسمتھ کبھی نہیں ہارے۔ کیونکہ کچھ شکستیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو تاریخ میں امر کر دیتی ہیں۔
اور پھر ہمارے امام الحق ہیں۔
یہاں بات بازو ٹوٹنے کی نہیں، بات ہڈیوں کے چکنا چور ہونے کی نہیں، بات زندگی اور کیریئر کے درمیان کسی خطرناک فیصلے کی بھی نہیں۔
بات صرف ایک سٹرین انجری کی ہے۔
اور ٹیم کو ضرورت تھی تو جناب نے بیٹنگ ہی نہیں کی۔
یہی فرق ہوتا ہے ایک عام کھلاڑی اور ایک غیر معمولی کھلاڑی میں۔ ایک شخص انجری دیکھ کر اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، جبکہ دوسرا شخص انجری کے باوجود اپنی ٹیم کے لیے میدان میں اتر جاتا ہے۔
کرس ووکس کا بازو ٹوٹا ہوا تھا، مگر اس کا جذبہ سلامت تھا۔
گریم اسمتھ کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، مگر اس کی ہمت سلامت تھی۔
اور بعض کھلاڑیوں کا جسم شاید بالکل ٹھیک ہوتا ہے، مگر اصل مسئلہ وہاں ہوتا ہے جہاں ہمت، جذبہ اور ذمہ داری ہونی چاہیے۔
کیونکہ تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو ہر مشکل وقت میں اپنی انجریوں کی فہرست لے کر بیٹھ جائیں۔
تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو ٹوٹے ہوئے جسم کے ساتھ بھی اپنی ٹیم کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
29/08/2026
26/08/2026
24/08/2026
24/08/2026
24/08/2026
24/08/2026