24/07/2025
دریا کے کنارے چھوٹا سا گھر
ایک پُرسکون گاؤں میں، دریا کے کنارے ایک چھوٹا سا پتھروں کا گھر تھا، جس پر سفید کھلتے ہوئے پھول لپٹے ہوئے تھے۔ یہ گھر دادی مائی کا تھا، ایک مہربان عورت جن کے ہاتھ ہمیشہ تازہ جڑی بوٹیوں اور گرم روٹی کی خوشبو دیتے تھے۔
ہر شام، جب سنہری سورج پہاڑیوں کے پیچھے چھپنے لگتا، دادی مائی کھڑکی کے پاس کھڑی کھانا پکاتیں۔ لٹکتے ہوئے چراغ کی ہلکی روشنی میں اُن کا چہرہ نرمی سے جگمگاتا۔ گھر کے باہر مٹی اور سبزیوں کی خوشبو پھیلی ہوتی—تازہ ہری پتے، رسیلے ٹماٹر، اور چمکتے مرچیں، جو ٹوکریوں میں رکھی ہوتیں۔
اسی وقت، دو بچے لیان اور بو کھیتوں سے بھاگتے ہوئے آتے۔ وہ کھیلنے کے لیے نہیں دوڑتے تھے، بلکہ اپنی پسندیدہ کارٹون دیکھنے کے لیے، جو دادی مائی کا رکھا ہوا پرانا لکڑی کا ٹی وی باہر آنگن میں چل رہا ہوتا۔ اسکرین پر رنگین کردار جھلملاتے اور اُنہیں زور زور سے ہنساتے۔
لیکن بچوں کو صرف کارٹون ہی پسند نہیں تھے۔ وہ دادی مائی کی کہانیاں بھی سننا پسند کرتے، جو وہ کھڑکی سے جھک کر آہستہ آہستہ بتاتیں—
“کیا تمہیں پتہ ہے؟” ایک شام دادی نے کہا، “یہ جو دریا تم دیکھ رہے ہو، اس میں ایک روح بستی ہے جو ہمارے گاؤں کی حفاظت کرتی ہے۔”
“سچ؟” بو کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
“ہاں,” دادی مسکرائیں، “کہتے ہیں جو زمین کا خیال رکھتا ہے، دریا کی روح اُسے اچھی فصل اور سکون عطا کرتی ہے۔”
یوں بچوں نے زمین سے محبت کرنا سیکھا۔ وہ سبزیوں کو پانی دیتے، پکی ہوئی سبزیاں احتیاط سے توڑتے، اور دریا کے کنارے چھوٹے پھول چڑھاتے۔
سال گزرتے گئے، اور بچے بڑے ہوگئے۔ لیکن جب بھی وہ گاؤں واپس آتے، وہی منظر دیکھتے—دادی مائی کھڑکی کے پاس کھڑی، کھانا پکاتے ہوئے مسکرا رہی ہوتیں۔ اور اُن کے دل میں وہ سنہری شامیں، پرانے ٹی وی کے کارٹون، تازہ کھانے کی خوشبو اور محبت بھری یادیں ہمیشہ زندہ رہتیں۔
کیونکہ بعض اوقات، سادہ سے لمحے ہی سب سے جادُوئی کہانیاں بن جاتے ہیں۔