Nayyar shahzad Abbasi Cricketer

Nayyar shahzad Abbasi Cricketer

Share

Nayyar Shahzad Abbasi is professional cricketer

Photos from Nayyar shahzad Abbasi Cricketer's post 09/02/2026

🇵🇰🏏 اور سارے فارغ پاکستان کرکٹ کے ساتھ یہ کیسا مذاق ہو رہا ہے؟

پی سی بی نے کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکشن کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید بحث کا موضوع ہے۔ سیریز کے دوران اتنی بڑی تبدیلیاں کسی پروفیشنل کرکٹ بورڈ کے لیے انتہائی غیر معمولی اور بچکانہ فیصلہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر سرجری ہی کرنی تھی تو صرف کھلاڑیوں اور کوچز کی کیوں؟ چیئرمین پی سی بی، عاقب جاوید، وہاب ریاض اور وہ بیوروکریسی بھی جواب دہ ہونی چاہیے جس کے فیصلوں نے پاکستان کرکٹ کو اس مقام تک پہنچایا۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو متبادل کے طور پر انگلینڈ جیسی مشکل کنڈیشن میں بھیجا گیا، ان میں کئی ایسے ہیں جن کا فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ ہی نہ ہونے کے برابر ہے—کسی نے ایک، کسی نے دو اور کسی نے چار فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں۔ زیادہ تر ٹی20 کے اوسط درجے کے پرفارمرز ہیں۔ کیا ایسے کھلاڑیوں کو انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں بھیج کر ہم پاکستان کرکٹ کا مستقبل بنائیں گے؟

اور سب سے بڑی ناانصافی لیفٹ آرم لیگ اسپنر علی اور بولنگ کوچ عمر گل کے ساتھ ہوئی، جنہوں نے اپنی ذمہ داری کے مطابق کارکردگی دکھائی، مگر اس کے باوجود پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلوں کی زد میں آئے۔

مسئلہ صرف کھلاڑی نہیں، پورا سسٹم ہے۔

جب تک فیصلے میرٹ، مستقل مزاجی اور پروفیشنل سوچ کے بجائے پسند و ناپسند اور تجربات کی بنیاد پر ہوتے رہیں گے، پاکستان کرکٹ کا بحران ختم نہیں ہوگا۔

🇵🇰 پاکستان کرکٹ کو تجربات نہیں، میرٹ اور مکمل نظام کی اصلاح چاہیے۔

08/31/2026

بریکنگ :
محمد رضوان ، سلمان آغا ، امام الحق ، علی عثمان ، عامر جمال ، اویس ظفر اوور خرم شہزاد ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز
صائم ایوب ، عبداللہ فضل، عرفات منہاس ، محمد عمران جونئیر ، سعد بیگ ، عمران رندھاوا، رضا اللہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل

Photos from Nayyar shahzad Abbasi Cricketer's post 08/31/2026

پاکستان کرکٹ کی تباہی پر آخر کون بولے گا؟ 🇵🇰🏏

یہ کسی ایک کھلاڑی کی ناکامی کا سوال نہیں، پورے سسٹم کی ناکامی کا سوال ہے۔

جب سے محسن نقوی چیئرمین پی سی بی آئے، مسلسل شکستیں، ناقص فیصلے، بار بار کپتان اور کوچ کی تبدیلیاں اور سلیکشن کے متنازع معاملات ہمارے سامنے ہیں۔

عاقب جاوید کو مسلسل اہم ذمہ داریاں، وہاب ریاض کو مختلف عہدے اور ذمہ داریاں، لیکن نتائج؟

نتائج دن بدن بدتر!

دنیا کی ہر ٹیم ہارتی ہے، لیکن جب شکستیں معمول بن جائیں تو پھر سوال کھلاڑیوں سے زیادہ سسٹم چلانے والوں سے ہونا چاہیے۔

اور یہاں ایک سوال پاکستان کے تمام بڑے اسپورٹس اینکرز، کرکٹ جرنلسٹس، کالم نگاروں، ٹی وی چینلز اور یوٹیوبرز سے بھی ہے:

آپ لوگ برسوں سے پاکستان کرکٹ کو کور کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ مسائل کہاں ہیں، فیصلے کون کر رہا ہے اور سسٹم میں خرابیاں کہاں موجود ہیں۔

تو پھر آپ کھل کر اس سسٹم پر کیوں نہیں لکھتے؟

اگر آپ کے نزدیک کوئی فیصلہ غلط ہے تو اس کا نام لے کر بات کریں۔
اگر کسی عہدیدار کی کارکردگی ناقص ہے تو سوال اٹھائیں۔
اگر کسی کی وجہ سے کرکٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اسے بے نقاب کریں۔

ہر بار کھلاڑیوں کو نشانہ بنانا سب سے آسان کام ہے۔

اصل صحافت تو تب ہے جب طاقتور سے سوال کیا جائے۔

محسن نقوی صاحب نے “میجر سرجری” کی بات کی تھی۔

قوم پوچھ رہی ہے:

سرجری کہاں ہوئی؟
یا صرف مریض کے کپڑے تبدیل کیے گئے؟

پاکستان کرکٹ کو شخصیات نہیں، میرٹ، مستقل پالیسی، مضبوط ڈومیسٹک کرکٹ اور احتساب چاہیے۔

پاکستان کرکٹ کسی فرد کی جاگیر نہیں، یہ کروڑوں پاکستانیوں کی محبت اور پہچان ہے۔

اس لیے کرکٹ صحافت سے بھی ایک درخواست ہے:

کھلاڑیوں کی غلطیوں پر ضرور لکھیں، مگر سسٹم کی غلطیوں پر بھی قلم اٹھائیں۔
چہرے نہیں، مسئلے کو بے نقاب کریں۔
اور اگر ذمہ دار کوئی شخص ہے تو اس کا نام لینے سے نہ گھبرائیں۔

کیونکہ خاموشی بھی کبھی کبھی مسئلے کا حصہ بن جاتی ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان کرکٹ کے خلاف کون بولے گا؛
سوال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کے حق میں اصل بات کون کرے گا؟

Photos from Nayyar shahzad Abbasi Cricketer's post 08/29/2026

🏏 حاجی محمد اکرم — ایک ایسی رفتار جسے وقت کم ملا

1999 میں دنیا شعیب اختر کی رفتار کے چرچے کر رہی تھی، مگر عمران خان نے اسی وقت پاکستان کے ایک اور فاسٹ بولر کا نام لیا—محمد اکرم۔

ایک ایسا بولر جو پاکستان کی اُس نسل میں آیا جب وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے عظیم فاسٹ بولرز پہلے ہی موجود تھے، پھر عاقب جاوید، اظہر محمود، عبدالرزاق اور شعیب اختر جیسے نام بھی پاکستانی فاسٹ بولنگ کا حصہ بن گئے۔

ایسے دور میں محمد اکرم کے لیے اپنی مستقل جگہ بنانا آسان نہیں تھا۔ مگر جب بھی موقع ملا، انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ان کے پاس صرف رفتار نہیں، گیند کو خطرناک بنانے کا فن بھی تھا۔

🇵🇰 محمد اکرم — بطور کھلاڑی

📍 پیدائش: 10 ستمبر 1974، اسلام آباد
🏏 بولنگ: دائیں ہاتھ کے فاسٹ/فاسٹ میڈیم بولر

🇵🇰 پاکستان کے لیے ٹیسٹ: 9
🎯 ٹیسٹ وکٹیں: 17

🇵🇰 ون ڈے انٹرنیشنل: 23
🎯 ون ڈے وکٹیں: 19

📊 کل بین الاقوامی میچ: 32
🎯 کل وکٹیں: 36

🟢 فرسٹ کلاس میچز: 125
🎯 فرسٹ کلاس وکٹیں: 415
🔥 ایک اننگز میں 5 وکٹیں: 18 مرتبہ
🔥 ایک میچ میں 10 وکٹیں: 1 مرتبہ
🎯 بہترین فرسٹ کلاس بولنگ: 8/49

🏏 پاکستان کے لیے یادگار آغاز

محمد اکرم نے 15 ستمبر 1995 کو فیصل آباد میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک میں وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے نام موجود تھے۔ بعد میں شعیب اختر کی آمد نے مقابلہ مزید سخت کر دیا۔

لیکن محمد اکرم نے ہمت نہیں ہاری۔

🇦🇺 پرتھ ٹیسٹ — وہ کارکردگی جو بھلائی نہیں جا سکتی

1999 میں آسٹریلیا کے دورے کے دوران پرتھ ٹیسٹ میں پاکستان پہلی اننگز میں صرف 155 رنز پر آؤٹ ہوگیا۔

آسٹریلیا نے جواب میں 451 رنز بنائے۔ جسٹن لینگر نے 144 اور رکی پونٹنگ نے 197 رنز بنائے اور دونوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 327 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔

لیکن اس بڑے اسکور کے باوجود پاکستانی بولنگ میں ایک نام نمایاں رہا:

محمد اکرم۔

🎯 27.5 اوورز
🎯 138 رنز
🎯 5 وکٹیں

یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی یادگار ترین کارکردگی تھی۔

⚡ عمران خان کی گواہی

1999 کے ورلڈ کپ کے دوران جب شعیب اختر کی رفتار زیرِ بحث تھی، عمران خان نے محمد اکرم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کے پاس ایک اور بولر ہے جو تقریباً اتنا ہی تیز ہے۔

یہ صرف عمران خان کی رائے نہیں تھی۔ ویسٹ انڈیز کے عظیم فاسٹ بولر کولن کرافٹ نے بھی محمد اکرم اور محمد زاہد کو شعیب اختر کی رفتار کے قریب قرار دیا تھا۔

سوچیے…

ایک طرف راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر دنیا کو اپنی رفتار سے حیران کر رہے تھے، اور دوسری طرف پاکستان کے پاس محمد اکرم جیسا بولر بھی موجود تھا۔

🏴 انگلینڈ اور کاؤنٹی کرکٹ

پاکستان کے بعد محمد اکرم نے انگلینڈ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

انہوں نے تقریباً دس سال انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں گزارے اور مختلف کاؤنٹی ٹیموں کی نمائندگی کی۔

ان کا کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ بعد میں ان کے کوچنگ کیریئر میں بھی انتہائی اہم ثابت ہوا۔

🎓 Level-III کوچ

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد محمد اکرم نے کوچنگ کو اپنا اگلا میدان بنایا۔

وہ Level-III کوچنگ کوالیفکیشن رکھتے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی کھیل کی سمجھ، تجربے اور کوچنگ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں قومی ٹیم کے ساتھ ذمہ داری سونپی۔

🇵🇰 پاکستان کے قومی بولنگ کوچ

2012 میں محمد اکرم کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا قومی بولنگ کوچ مقرر کیا گیا۔

انہوں نے پاکستان کے فاسٹ بولرز کے ساتھ کام کیا اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں بھی کردار ادا کیا۔

بعد میں وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کے ہیڈ کوچ بھی رہے اور پاکستان کے نوجوان ٹیلنٹ کی ڈویلپمنٹ میں اپنا تجربہ استعمال کیا۔

🎙️ کمنٹری اور پاکستان A

محمد اکرم نے کوچنگ کے ساتھ ساتھ کرکٹ کمنٹری بھی کی اور پاکستان A ٹیم کے ساتھ بھی مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔

یعنی ان کا تعلق صرف میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ کرکٹ کے مختلف شعبوں میں اپنا تجربہ منتقل کرتے رہے۔

🟡 پشاور زلمی کے ساتھ طویل سفر

اور پھر آتا ہے محمد اکرم کے کیریئر کا ایک انتہائی اہم باب:

پشاور زلمی۔ 💛🏏

محمد اکرم پشاور زلمی کے ابتدائی دور ہی سے فرنچائز کے ساتھ وابستہ رہے۔

وہ پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ بھی رہے اور بعد میں فرنچائز کے کرکٹنگ معاملات میں زیادہ بڑی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے Director of Cricket / Director of Cricketing Affairs کے کردار تک پہنچے۔

یعنی ایک فاسٹ بولر کے طور پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والا یہ کھلاڑی آج بھی کرکٹ کے میدان میں موجود ہے، مگر اب گیند ہاتھ میں نہیں بلکہ فیصلے اور حکمتِ عملی اس کی ذمہ داری ہے۔

🏏 محمد اکرم کی کہانی ہمیں کیا بتاتی ہے؟

محمد اکرم کا بین الاقوامی ریکارڈ شاید پہلی نظر میں بہت بڑا نظر نہ آئے:

9 ٹیسٹ، 17 وکٹیں
23 ون ڈے، 19 وکٹیں

لیکن جب پوری کہانی دیکھتے ہیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔

415 فرسٹ کلاس وکٹیں، تقریباً ایک دہائی کاؤنٹی کرکٹ، پاکستان کے قومی بولنگ کوچ، نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ، Level-III کوچ اور پشاور زلمی کے ساتھ طویل کرکٹنگ سفر۔

یہ کسی معمولی کرکٹر کی داستان نہیں۔

شاید محمد اکرم پاکستان کے عظیم ترین فاسٹ بولرز کی فہرست میں شامل نہ ہوں، مگر وہ ان خاموش ہیروز میں ضرور شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنی صلاحیت کے مطابق وقت اور مواقع کم ملے۔

کبھی کبھی تاریخ صرف ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے سب سے زیادہ ریکارڈ بنائے۔

مگر کرکٹ کی اصل کہانی میں کچھ ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جنہوں نے خاموشی سے اپنا حصہ ڈالا اور آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بنایا۔

محمد اکرم بھی انہی کرداروں میں سے ایک ہیں۔

💬 آپ کے خیال میں اگر محمد اکرم کو وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے سائے کے بغیر زیادہ مستقل مواقع ملتے تو کیا وہ پاکستان کے عظیم فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

🏏 کرکٹ بستی کو فالو کرنا مت بھولیں، کیونکہ یہ وہ بستی ہے جہاں صرف کرکٹ بستی ہے۔

08/28/2026

نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے نو منتخب ایم ایل اے سردار ساجد اقبال عباسی صاحب کے لیے چند مخلصانہ تجاویز

میں اپنے برادرِ محترم، نو منتخب ایم ایل اے قانون ساز اسمبلی سردار ساجد اقبال عباسی صاحب، غربی باغ، تحصیل دھیرکوٹ کے لیے نوجوانوں کے بہتر مستقبل، کھیلوں کے فروغ، سیاحت اور روزگار کے حوالے سے چند مخلصانہ اور تعمیری تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔

نوجوانوں کی فلاح و بہبود، آئی ٹی پارکس اور دیگر منصوبوں کے لیے ایک سو کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس رقم کو ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے مستقل مواقع پیدا کریں۔

میری اہم تجاویز:

1۔ تحصیل دھیرکوٹ کی ہر یونین کونسل میں ایک چھوٹا گراؤنڈ
تحصیل دھیرکوٹ کی ہر یونین کونسل میں ایک چھوٹا سا مگر معیاری گراؤنڈ بنایا جائے، جہاں نوجوان کرکٹ، والی بال اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

2۔ تحصیل دھیرکوٹ میں ایک بڑا اسپورٹس گراؤنڈ
تحصیل دھیرکوٹ میں ایک معیاری بڑا گراؤنڈ بنایا جائے، جہاں ہر سال تحصیل سطح کے کھیلوں کے مقابلے اور اسپورٹس فیسٹیول منعقد کیے جائیں۔

3۔ نوجوانوں کے لیے کھیل اور صحت
کھیلوں کے تربیتی پروگرام، فٹنس سنٹرز اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ نوجوان صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی طرف آئیں۔

4۔ دھیرکوٹ کو ٹورازم ہب بنایا جائے
تحصیل دھیرکوٹ آزاد کشمیر کا ایک انتہائی خوبصورت اور منفرد علاقہ ہے، جو اسلام آباد اور مری کے بعد آزاد کشمیر کا قریب ترین اہم ٹورسٹ پوائنٹ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بارڈر پر واقع یہ تحصیل قدرتی حسن سے مالا مال ہے، جہاں تاریخی و سیاحتی مقام نیلا بٹ، رنگلا اور متعدد دیگر خوبصورت سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ اگر ان مقامات پر خصوصی توجہ دی جائے، بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ ٹورزم کو فروغ دیا جائے تو دھیرکوٹ کو ایک بڑا ٹورازم ہب بنایا جا سکتا ہے۔

اس سے نہ صرف علاقے کی خوبصورتی اور سیاحتی اہمیت اجاگر ہوگی بلکہ مقامی کمیونٹی، خصوصاً نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

5۔ مقامی نوجوانوں کے لیے ٹورازم میں روزگار
مقامی نوجوانوں کو ٹورازم گائیڈ، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ہوم اسٹے اور دیگر سیاحتی شعبوں میں تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

6۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ سنٹرز
دھیرکوٹ اور گردونواح میں آئی ٹی، سافٹ ویئر، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل تربیتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوان اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو سکیں اور باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

7۔ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام
نوجوانوں کے لیے الیکٹریشن، سولر ٹیکنالوجی، موبائل ریپئرنگ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر ہنر کی عملی تربیت کے پروگرام شروع کیے جائیں۔

8۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع
ترقیاتی منصوبوں، آئی ٹی، سیاحت، کھیلوں اور دیگر شعبوں میں مقامی نوجوانوں کے لیے باوقار اور مستقل روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

9۔ سالانہ یوتھ فیسٹیول
یونین کونسل سے تحصیل اور ضلعی سطح تک ہر سال کھیلوں، آئی ٹی، ثقافت اور دیگر مثبت سرگرمیوں پر مشتمل یوتھ فیسٹیول منعقد کیا جائے۔

ہمارے نوجوانوں نے مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دیا اور کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب وقت ہے کہ ان کے مستقبل کے لیے میدان، مواقع، تربیت، ہنر اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔

اگر ایک سو کروڑ روپے کو کھیل، سیاحت، آئی ٹی، ہنرمندی اور روزگار کے ان منصوبوں پر مؤثر انداز میں خرچ کیا جائے تو یہ صرف ترقیاتی بجٹ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل میں سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔

میری یہ تجاویز کسی سیاسی تنقید کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخلصانہ اور تعمیری گزارش کے طور پر ہیں۔ امید ہے کہ سردار ساجد اقبال عباسی صاحب نوجوانوں کے لیے ایک ایسا قابلِ عمل پروگرام ترتیب دیں گے جس کے مثبت نتائج آنے والے برسوں میں دھیرکوٹ کی نوجوان نسل خود محسوس کرے گی۔

نوجوانوں کو صرف وعدے نہیں، میدان، مواقع، تربیت، ہنر اور باعزت روزگار چاہیے۔

سردار نئیر شہزاد عباسی
CEO — Overseas World Cricket Community

YouthDevelopment
































#سیاحت
#روزگار
#ہنرمندی


Photos from Nayyar shahzad Abbasi Cricketer's post 08/27/2026

عالیان سلمان پاکستان انڈر 19 ٹیم میں منتخب! 🏏🇵🇰

سابق پاکستانی کپتان سلمان بٹ کے صاحبزادے عالیان سلمان کو انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستان انڈر 19 اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔۔۔۔۔

08/27/2026

🏏👑 سر ویون رچرڈز — کرکٹ کے بے تاج بادشاہ 👑🏏

کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں سر ویون رچرڈز کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ طاقت، جارحیت، اعتماد، اسٹائل اور کلاس — یہ تمام خوبیاں ان کی بیٹنگ میں نمایاں تھیں۔

📌 فرسٹ کلاس کرکٹ

🏏 میچز: 507
🔥 رنز: 36,212
💯 سنچریاں: 114
🏆 بہترین اسکور: 322 رنز
⭐ بیٹنگ اوسط: 49.40

🌍 ٹیسٹ کرکٹ

🏏 میچز: 121
🔥 رنز: 8,540
💯 سنچریاں: 24
🏆 بہترین اسکور: 291 رنز
⭐ بیٹنگ اوسط: 50.23

⚡ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ

🏏 میچز: 187
🔥 رنز: 6,721
💯 سنچریاں: 11
🏆 بہترین اسکور: 189 ناٹ آؤٹ
⚡ اسٹرائیک ریٹ: 90.20

👑 شاندار کپتانی

سر ویون رچرڈز نے ویسٹ انڈیز کی 50 ٹیسٹ میچز میں کپتانی کی، جن میں 27 فتوحات حاصل کیں اور صرف 8 میچز میں شکست ہوئی۔

ان کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری۔

🏆 ورلڈ کپ کے فاتح

سر ویون رچرڈز 1975 اور 1979 کے ورلڈ کپ جیتنے والی ویسٹ انڈیز ٹیم کا حصہ تھے۔

1979 کے ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ان کی 138 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز آج بھی کرکٹ کی تاریخ کی یادگار اننگز میں شمار ہوتی ہے۔

🇬🇧🏏 انگلش کاؤنٹی کرکٹ — سومرسیٹ

سر ویون رچرڈز نے انگلینڈ میں سومرسیٹ کاؤنٹی کے لیے 1974 سے 1986 تک شاندار کرکٹ کھیلی۔

🏏 191 فرسٹ کلاس میچز
🔥 14,698 رنز
💯 47 سنچریاں
🏆 بہترین اسکور: 322 رنز

1985 میں وارکشائر کے خلاف ان کی 322 رنز کی تاریخی اننگز سومرسیٹ کی جانب سے ان کے کیریئر کی سب سے بڑی اننگز تھی۔

ایک روزہ کاؤنٹی کرکٹ میں بھی ان کا کردار انتہائی اہم رہا اور ان کے دور میں سومرسیٹ نے 1979 سے 1983 کے درمیان پانچ ایک روزہ ٹرافیاں جیتیں۔

💥 1979 گلِٹ کپ فائنل میں سنچری بنا کر سومرسیٹ کو ٹرافی جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

💥 1981 بینسن اینڈ ہیجز کپ فائنل میں بھی سنچری اسکور کی اور پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔

🌟 سر ویون رچرڈز صرف ایک کرکٹر نہیں بلکہ ایک پورا کرکٹ عہد تھے۔

ان کا شمار سر ڈان بریڈمین، گیری سوبرز، سچن ٹنڈولکر، برائن لارا، جاوید میانداد، رکی پونٹنگ، اے بی ڈی ویلیئرز اور ویرات کوہلی جیسے عظیم ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔

👑🔥 سر ویون رچرڈز — ایک لیجنڈ، ایک بے خوف کپتان اور کرکٹ کے حقیقی بادشاہ!

08/26/2026

بابر اعظم کی واپسی ۔ محمد رضوان کو ڈراپ نہ کرنے کا فیصلہ ۔ تین فاسٹ بولرز اور ایک ریگولر سپن باؤلر کے میدان میں اترنے کا فیصلہ ۔ کیوں رضوان کو ڈراپ کرنا چاہیے یا نہیں؟

08/26/2026

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

08/25/2026

لیڈز میں عمران خان کا تاریخی اسپیل 🔥🏏

پاکستان کے مایہ ناز سابق کپتان، عظیم آل راؤنڈر اور دنیائے کرکٹ کے لیجنڈ عمران خان نے لیڈز، انگلینڈ میں اپنی تباہ کن اور نپی تلی بولنگ سے انگلینڈ کے 7 بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اُس دور کے نامور انگلش بلے باز عمران خان کی رفتار، سوئنگ اور شاندار لائن و لینتھ کا سامنا نہ کر سکے۔

عمران خان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیائے کرکٹ کا ایک بہت بڑا نام اور ایک حقیقی شہزادۂ کرکٹ ہیں۔ بیٹنگ میں سر ڈان بریڈمین کا مقام اپنی جگہ، لیکن آل راؤنڈرز اور عظیم کپتانوں کی فہرست میں عمران خان کا مقام تاریخ کے عظیم ترین ناموں میں شمار ہوتا ہے۔ 👑🇵🇰

یہ ویڈیو عمران خان کے اُس تاریخی اسپیل کی یاد تازہ کر رہی ہے جب انہوں نے اپنی کلاس اور مہارت سے انگلینڈ کے بیٹنگ لائن اپ کو تہس نہس کر دیا تھا۔ ❤️🔥

عمران خان — نام ہی کافی ہے! 🇵🇰🏏

When Imran Khan bowled, even the best batsmen were left helpless! 🔥🏏

A historic spell by Pakistan’s legendary captain and all-rounder Imran Khan at Leeds, England, where he claimed 7 wickets and tore through the English batting line-up. 🇵🇰

Pace, swing, aggression and class — Imran Khan, a true legend of world cricket! 👑🏏

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Calgary?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Calgary, AB