28/08/2026
پردیس کتنا بھی اپنا ہو جائے،
گاؤں کی مٹی آخر گاؤں کی مٹی ہی رہتی ہے۔
Welcome tp Sultan Iqbal Official Facebook
28/08/2026
پردیس کتنا بھی اپنا ہو جائے،
گاؤں کی مٹی آخر گاؤں کی مٹی ہی رہتی ہے۔
28/08/2026
28/08/2026
ایک ہی گلی میں دو منظر — زندگی کا اصل سبق
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ہی گلی کے دو گھروں میں ایک ہی دن دو بالکل مختلف منظر تھے۔
ایک گھر میں خوشی کی رونق تھی۔ صحن کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ عورتیں خوبصورت لباس پہنے بیٹھی تھیں، بچے خوشی سے اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے اور ہر طرف مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔ کسی کے چہرے پر خوشی تھی تو کسی کے ہاتھ میں مٹھائی۔
لیکن اسی گلی کے دوسرے گھر میں ماحول بالکل بدل چکا تھا۔ وہاں ایک جنازہ رکھا تھا۔ لوگ خاموش بیٹھے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے اور ہر شخص موت کی حقیقت کو محسوس کر رہا تھا۔
ایک ہی گلی، ایک ہی دن، مگر دو مختلف دنیائیں۔
ایک طرف زندگی کی خوشیاں تھیں اور دوسری طرف جدائی کا غم۔
ایک بزرگ یہ منظر دیکھ کر خاموشی سے کھڑے رہے۔ پھر انہوں نے اپنے قریب بیٹھے ایک نوجوان سے کہا:
"بیٹا! یہی زندگی ہے۔ آج ہم کسی کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں، کل کسی کے غم میں۔ آج ہمارے گھر میں ہنسی ہے، کل شاید آنسو ہوں۔ انسان کو نہ اپنی خوشی پر اتنا غرور کرنا چاہیے کہ دوسروں کا دکھ بھول جائے، اور نہ اپنے غم میں اتنا ڈوب جانا چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کو بھول جائے۔"
نوجوان نے پوچھا، "تو پھر انسان کو کیا کرنا چاہیے؟"
بزرگ مسکرائے اور بولے:
"خوشی ملے تو شکر کرو، غم آئے تو صبر کرو، اور جب کسی دوسرے کے گھر خوشی یا غم آئے تو اس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ کیونکہ انسان کی اصل پہچان اس کے مال، لباس یا گھر سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے سے ہوتی ہے۔"
یہ بات نوجوان کے دل میں اتر گئی۔
اس نے سوچا کہ ہم زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں، رشتے توڑ لیتے ہیں اور دلوں میں نفرتیں پال لیتے ہیں، حالانکہ زندگی بہت مختصر ہے۔ آج ہم کسی کے ساتھ ہیں، کل شاید نہ ہوں۔
سبق
زندگی خوشی اور غم، ملنے اور بچھڑنے کا نام ہے۔ اس لیے جب خوشی ملے تو شکر ادا کریں، غم آئے تو صبر کریں، اور دوسروں کی خوشی میں خوش اور ان کے غم میں شریک ہوں۔
رشتے سنبھال کر رکھیں، دل نہ توڑیں، کیونکہ وقت واپس نہیں آتا اور انسان ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔